عبدالماجد ملککالم

مَلک بدنام ہوا ’وینا ملک‘تیرے لئے

ملک صاحب اب آپ کو برا محسوس نہیں ہوتا اپنے آپ کو ملک کہلوانے پر؟میں چونک کر اسے دیکھنے لگا اور اس سے استفسار کیا کہ کیوں؟بھلا ایسی کیا بات ہو گئی کہ میں اپنا نام ہی تبدیل کر لوں،میرے دوست نے جواب دیا کہ میں یہ تو نہیں کہ رہا تھا کہ آپ اپنا نام تبدیل کریں ،اس کی بات کاٹ کر میں نے پوچھا پھر آپ کا کیا مطلب تھا ؟تو اس پر وہ شرمندہ شرمندہ سا گویا ہوا کہ ملک صاحب آپ کو پتا ہے کہ میں بھی اپنا پورا نام ملک عمران اعوان لکھواتا تھا لیکن اب صرف عمران لکھواتا ہوں ،وجہ پوچھنے پر بتایا کہ مجھے میرے دوست تنگ کرتے ہیں کہ آپ کا وینا ملک سے کیا رشتہ ہے؟وہ آپ کی کیا لگتی ہے؟
اس کی بات سن کر مجھ پر تو ہنسی کا دورہ پڑ گیا اور وہ حیرت سے میری طرف دیکھے جا رہا تھا کہ مجھے کیا ہو گیا ہے میں نے اسے ازراہ مذاق کہا کہ اگر کوئی رشتہ نہیں ہے تو رشتہ بنالیتے ہیں ویسے بھی ابھی تک اس کی شادی تو نہیں ہوئی اس پر وہ غصے سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ آپ کو پتا ہے وینا ملک نے انڈیا میں اپنے کپڑے اتار کر فحاشی کی انتہا کر دی ہے جس کی وجہ سے پوری قوم کے سر شرم سے جھکے ہوئے ہیں اور مجھے تو ملک کہلوانا اچھا نہیں لگتا ،میں نے اسے سمجھایا کہ آپ وینا ملک کی وجہ سے ایسا نہ کرو تاریخ پر نظر دوڑاؤ تو معلوم ہوگا کہ ملک برادری میں کیسی کیسی عظیم ہستیاں تھیں زیادہ دور نہ جاؤ ،سابقہ گورنر پاکستان ملک امیر محمد خان بھی تو ہماری فیملی سے تھے ملک برادری میں کئی اور بڑے اور تعلیم یافتہ نام بھی موجود ہیں اپنے وزیر داخلہ ڈاکٹر عبدالرحمان ملک بھی ہماری ہی برادری سے ہیں جن کا نام پاکستان کے اندر بھی کافی عزت سے لیا جاتا ہے ڈاکٹر عبدالرحمان ملک صاحب ان دنوں سورۃ اخلاص سیکھ رہے ہیں شاید مستقبل قریب میں وہ بھی طالبان کے ساتھ مذاکرات کرتے نظر آئیں کیونکہ طالبان کے ساتھ ان کے بڑے دوستانہ روابط ہیں جن کی وجہ سے وہ دہشت گردی کی واردات کرنے بعد رحمان ملک صاحب کو انفارم کر دیتے ہیں اور فوری ذمہ داری قبول کر لیتے ہیں۔
میں نے اپنے دوست کو کہا اگر آپ پھر بھی میری بات سے اتفاق نہیں کرتے اور وینا ملک کی وجہ سے اپنے نام کے ساتھ ملک نہیں لکھنا چاہتے تو ملک عمران اعوان کی بجائے صرف عمران نہ لکھیں عمران اعوان لکھا کریں اس پر وہ بڑے عجیب سے لہجے میں بولاکہ اپنے نام کے ساتھ اعوان نہ لکھنے کی بھی ایک اہم وجہ ہے میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ آج کل اعوانوں کے ستارے گردش میں ہیں میں نے پوچھا وہ کیسے ؟اس پر اس نے ڈاکٹر بابر اعوان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پہلے ڈاکٹر صاحب کا پورے ملک میں طوطی بولتاتھالیکن آج کل وہ طوطا فال والوں سے اپنی قسمت کے بارے معلوم کرتے دکھائی دیتے ہیںاور صدر زرداری صاحب اور پرانے رفقائ کے طرف دیکھتے ہوئے یہ کہتے نظر آتے ہیں ò
کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی،کبھی ہم میں تم میں بھی راہ تھی
کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا،تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
میں نے اپنے دوست کو کہا آپ صرف اعوانوں میں سے بابر اعوان کو نہ دیکھیں اپنی آپا ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان صاحبہ بھی تو ہیں جو پاکستان کی مشہور و معرف ہستی ہونے کے ساتھ ساتھ مس ورلڈ حسینہ کے درجے پر بھی فائز ہونے والی ہیں اس پر میرے دوست نے ایک زبردست قسم کا قہقہہ لگایا اور کہا کہ یہاں پر بھی میرے ساتھ ایک مسئلہ ہے کہ میں فردوس عاشق اعوان کی طرح نہیں ہو سکتا اور نہ ہی ان کی طرح آنسو بہا سکتا ہوںمیں اپنا نام صرف عمران ہی لکھوں گا جب میری کسی بات پر وہ متفق نہیں ہوا تو تنگ آ کر کہا کہ لگتا ہے تم میں بھی عمران خان کا سونامی سرایت کر گیا ہے جس نے تیری ساری شناخت کو ختم کر دیا ہے ویسے بھی اب وینا ملک بھی سونامی کا حصہ بن گئی ہے اب تو مجھے بھی شک ہونے لگ گیا ہے کہ تیرا ’وینا ملک ‘کے ساتھ کوئی نہ کوئی رشتہ ضرور ہے ۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker