تازہ ترینکالممحمد جاوید اقبال

’’یومِ حیاء‘‘ ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ اور ہمارا مذہب

m javid iqbalحیاء کیا ہے؟ یومِ حیاء کیوں منایا جانا چاہیئے؟ ویلنٹائن ڈے کے مقابلے میں یومِ حیاء کو کیوں ترجیح دی جا رہی ہے۔ یومِ حیاء پر اعترافِ مسلم کا یقین ہے جبکہ ویلنٹائن ڈے پر غیر مذہب لوگوں کا اعتقاد، یکتائی دونوں یوم میں کچھ نہ کچھ ضرور ہونگی مگر ویلنٹائن ڈے پر بیہودگی ، شرارت، اور دوسرے عیوب کا عنصر نمایاں طور پر دیکھا جاتا رہا ہے ۔ حیاء ‘ طبیعتِ انسانی کی اس کیفیت کا نام ہے جس سے طبیعت ہر نامناسب بات اور ناپسندیدہ کام سے تگ و دُو محسوس کرکے نہ صرف اس کا انکار کر دیتی ہے بکلہ اس کے ارتکاب سے بھی اذیت ہوتی ہے۔ یوں تو حیاء صرف مخلوق ہی سے نہیں کی جاتی بلکہ خالق سے بھی کی جاتی ہے، یوں کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اصل میں خالق سے ہی سب سے زیادہ حیاء کی جانی چاہیئے۔ اس کے منہیات سے احترازکرنا چاہیئے، اس کی معصیت اور نافرمانی سے پرہیز کرنا چاہیئے،اور کوئی بھی کام ایسا نہیں کرنا چاہیئے جو اس کے حکم اور مرضی کے خلاف ہو۔ جب بندہ اللہ کے سامنے دستِ سوال دراز کرتا ہے تو اللہ رب العزت یہ بات محسوس کرتا ہے کہ کیا اس کو خالی ہاتھ لوٹا دے؟کیونکہ وہ کریم ہے اور سائل کو محروم رکھنا اس کی شانِ کریمی کے بر خلاف ہے، اس لئے اللہ کریم اپنے در سے کسی سائل کو محروم نہیں لوٹاتا، اس کی دعا قبول فرماتا ہے اور اس کی ہر مراد پوری کر دیتا ہے۔ اسی طرح ایک حدیث شریف میں آتا ہے کہ ’’ جب کوئی گنہگار بندہ اس دارِ فانی سے کُوچ کر جاتا ہے ، اور اس کے بعد سزا اور عذاب کا مستحق ہوتا ہے، لوگ اس کے جنازے میں شرکت کرکے اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں تو بھی حق تعالیٰ جلِ شانہ‘ کو اس بندے کو عذاب دینا گوارا نہیں ہوتا کہ میرے بندے تو اس کے لئے مغفرت مانگ رہے ہیں اور میں اس کو عذاب دوں، لہٰذا اس کو بخشش کا پروانے سے نوازا جاتا ہے (واللہ اعلم باالصواب)
مختلف لغت میں حیاء کے معنی و مفہوم اس طرح ہے کہ شرم اور دل میں گناہ سے ہچکچاہٹ ہو۔ حیاء ‘ اس قلبی کیفیت کو بھی کہتے ہیں جس کی وجہ سے انسان تمام ناپسندیدہ کاموں سے اجتناب کرنے لگ جاتا ہے۔ جس انسان میں شرم و حیاء کی تھوڑی سی بھی مقدار باقی ہوتی ہے تو وہ کبھی کھلم کھلا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتا ہے اور نہ ہی رسولِ کریم ﷺ کی نافرمانی کا سوچ سکتا ہے۔ اور ایسے کاموں سے کلّی طور پر پرہیز کرتا ہے جن سے اللہ ناراض ہو اور وہ کام حتی المقدور زیادہ سے زیادہ کرتا ہے جس سے اللہ رب العزت راضی ہو۔رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ پاک ہے : ترجمہ: ’’ جب تو حیاء کھو دے تو جو مرضی میں آئے کر۔‘‘
چونکہ ہم سب دینِ اسلام کے سچے پیروکار ہیں اس لئے اسلام کی مخصوص اصطلاح میں حیاء کے معنی کو بھی درج کر دیا جائے تو مبالغہ نہیں۔ اسلام کی اصطلاح میں حیاء سے مراد وہ شرم ہے جو کسی امر منکر کی جانب مائل ہونے والا انسان خود اپنی ہی فطرت کے سامنے اور اللہ رب العزت کے سامنے محسوس کرتا ہے۔ یہ اصطلاح اس طرح بھی سمجھ سکتے ہیں کہ انسان کا دل بری باتوں سے تنگی محسوس کرنے لگے تب وہ انہیں چھوڑ دے ۔ حیاء وہ جذبہ ہے جو انسان کو اچھائیوں پر اُبھارتا اور برائیوں سے باز رکھتا ہے۔ حیاء معاشرے سے اس وقت رخصت ہوتا ہوا پایا جاتا ہے جب زندگی بے عقیدہ ہو جائے،حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ پاک ﷺ ایک انصاری کے پاس سے گزرے وہ اپنے بھائی کو شرم و حیاء کے بارے میں نصیحت کر رہا تھا (یعنی اتنا شرم نہیں کرنا چاہیئے) حضور پُر نور ﷺ نے فرمایا: ’’ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دو، حیاء تو ایمان کا حصہ ہے۔‘‘ ایک اور جگہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ سے حیاء کرو اور پوری طرح اس بات کا حق بھی ادا کرو۔‘‘
اب آیئے کچھ بحث ویلنٹائن ڈے یعنی کہ (یومِ محبت) کے بارے میں کرتے ہیں: اس کا تاریخی پس منظر کچھ یوں ہے کہ رومن کلیسا کے ایک پادری سینٹ پال ویلنٹائن تیسری صدی عیسویں کے آخر میں رومانی بادشاہ کلاڈیس ثانی کے زیرِ حکومت رہتا تھا، پادری سے کوئی نافرمانی سر زد ہونے کی بنا پر بادشاہ نے پادری کو جیل بھیج دیا، جیل میں وہاں کے ایک سیکوریٹی گارڈ کی لڑکی سے اس پادری کی شناسائی ہوگئی اور وہ اس کا عاشق ہوگیا۔ وہ لڑکی اپنے محبوب کے دیدار کے لئے ایک سُرخ گلاب کا پھول لے کر اس کی زیارت کو آتی تھی۔ جب بادشاہ نے یہ معاملہ محسوس کیا تو اسے پھانسی پر چڑھانے کا حکم دیا۔ موصوف پادری کو جب اس بات کا پتہ چلا تو اس نے یہ ارادہ کیا کہ اس کا آخری لمحہ اُس لڑکی کے ساتھ ہو، چنانچہ پادری نے اس لڑکی کے پاس ایک کارڈ روانہ کروایا جس پر تحریر درج تھا ’’ مخلص ویلنٹائن کی طرف سے‘‘ پھر پادری کو ۱۴؍فروری ۲۷۰ء کو پھانسی دے دیا گیا۔ کہا یہی جاتا ہے کہ اس کے بعد یورپ کے بہت سے علاقوں میں ہر سال اس دن لڑکوں کی طرف سے لڑکیوں کو کارڈ بھیجنے کا رواج عام ہو گیا۔یوں آج پوری دنیا میں اس دن کو نوجوان نسل بڑے انہماک سے مناتے ہیں۔ اس موقع پر ویلنٹائن کارڈ ارسال کئے جاتے ہیں۔ خاص طور پر سُرخ گلاب کا پھول پیش کیا جاتا ہے۔ رقص و سرور کی بے ہنگم محفلیں سجائی جاتی ہیں۔ اس طرح یہ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان فحش اور فسق و فجور اشاعت کی حوصلہ افزائی کا منفرد ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ اب تو پاکستان میں بھی یہ دن بہت منایا جانے لگا ہے۔
ویلنٹائن ڈے کو ’’ عید الحب ‘‘ بھی کہا جاتا ہے جو ایک قسم کا خالص رومی عید ہے۔ جس کی ابتداء سے متعلق اوپر درج کیا گیا پیرا ہی اب تک حقیقت سے قریب تر ہے۔ ورنہ سچائی بیان کرنا ایک مشکل امر ہے۔ یہ تہوار ہر سال چودہ فروری کو شادی شدہ اور غیر شادی شدہ جوڑے ہی مناتے ہیں۔ جس میں یہ لوگ بے ہودہ طریقے سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ ۱۴؍ فروری کو یہ نازیبا یومِ محبت کا رواج اسی کہانی پر منحصر ہے ۔ ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے پاکستانی معاشرہ آج بھی متعدد آراء میں بٹا ہوا ضرور ہے مگر پھر بھی اچھی خاصی نوجوانوں کی تعداد اس دن کو منانا باعثِ فخر سمجھتی ہے۔ ایک طرف تو ایسے لوگ بھی ہیں جو سختی سے اس تہوار کی نفی کرتے رہتے ہیں تو دوسری جانب ایسے افراد کا گروہ بھی ہے جو اس دن کو منانے کو کوئی حرج نہیں سمجھتے اور اس دن کے آمد کو اپنی ثقافت میں جذب کرنے کی ترغیب میں وقت برباد کرتے ہیں۔
یہ توتھا فرق جو راقم نے ’’یومِ حیاء ‘‘ اور ’’ویلنٹائن ڈے‘‘کے دلدادہ افراد کے لئے تحقیق کے ساتھ پیش کیا۔ امید ہے کہ پڑھنے والے قاری حضرات اس بلاوجہ کے تہوار کو زینت بنانے کے بجائے سچے مذہب اسلام کے سچے پیروکار بننے کو ترجیح دیں گے۔بجائے ان تہواروں کے سحر انگیزی میں ڈوبنے کے عقل اور شعور کے ساتھ ان دونوں دنوں کے اچھے اور بُرے پہلوؤں کا جائزہ لیکر ہم سب کو اچھے پہلوؤں کی طرف راغب ہونا چاہیئے۔
ویسے بھی مومن کے لئے ہر دن’’یومِ حیاء ‘‘ ہے اگر وہ اپنے دل اور اپنی آنکھوں میں حیاء پیدا کر لے ۔ تاکہ اس کے لئے کوئی اسپیشل دن منانے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ رب العزت سے یہ دعا بھی ہے کہ مسلمانوں کو دینِ اسلام کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور بدعات و خرافات کی مشابہت اختیار کرنے سے محفوظ رکھے۔ (آمین)note

یہ بھی پڑھیں  قائم علی شاہ کو ایک مرتبہ پھر وزیراعلیٰ سندھ نامزد

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker