شہ سرخیاں

ویری فنی

kafaitدبئی سے شا ر جہ ایک گھنٹے کی اعصاب شکن ڈرائیو کے بعد تھکا ہارا اپنے آفس سے گھر پہنچا موڈ کچھ زیادہ خوشگوار نہ تھا ڈرائنگ رووم میں پڑے صوفے پر ہی لیٹ گیا بیو ی کو ایک چائے کے کپ کی گزارش کی اور ٹی وی آن کیا ٹی وی کے آن ہوتے ہی میری سارے دن کی تھکاوٹ بغیر چائے پئی ہی دور ہو گئی ۔۔۔۔۔ دلیپ کمار، امیتاب بچن، شا ہ رخ خان اور آجکل رینویر سنگھ میرے فیوریٹ ایکٹرز ہیں ان ایکٹرز کی شاید ہی کوئی ایسی مووی ہو گی جو میں نے دیکھی نہ ہو کیونکہ ان کے علاوہ کوئی اور اداکار مجھے اپنی اداکاری سے متاثر نہیں کرسکالیکن آج کا دن میرے لیے کسی بھی طرح ایک معجزہ سے کم نہ تھا کیونکہ آج وہ پہلا دن تھا کہ کوئی اور اداکار مجھے میرے پسندیدہ اداکاروں پے بھاری نظر آرہا تھا اوروہ کوئی نہیں بلکہ ہمارے ملک پاکستان کے وزیر اطلات جناب پرویز رشیدصاحب تھے جو پانامہ لیکس کے انکشافات جو وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف اور انکے خاندان پر ہوئے ہیں ان کے بارے میں پریس کانفرنس کر رہے تھے میں نے اس سے پہلے بھی کئی با ر جناب پرویز رشید صاحب کی پریس کانفرنسز سن چکا ہوں لیکن آج سے پہلے میں نے پرویز رشید صاحب کو اتنا جذباتی کھبی نہیں دیکھا دوران کانفرنس پرویز رشیدکی آنکھیں پر نم تھیں اورو ہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھتے ہوئے یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ وہ اپنے لیڈر میاں نواز شریف کے خلاف کسی بھی طرح کی کوئی بات برداشت نہیں کرسکتے اور یہ الفاظ انہوں نے بڑے جذباتی انداز میں بیان کئے ان کی کانفرنس کسی بھی لحاظ سے پاکستان کے وزیر اطلاعات کی کانفرنس نہیں بلکہ صرف اور صر ف میاں نواز شریف کے وزیر اطلاعات کی پریس کانفرنس لگ رہی تھی پرویز رشید صاحب کا انداز بیاں، جذباتی پن اور آنکھوں میں ہلکی ہلکی سی نمی ان کی ادارکاری کو چار چاند لگا رہی تھی اور یقیناًجس رائٹر نے یہ سکریپٹ لکھا ہوگا اس کو بھی یقین نہ آ رہا ہوگا کہ کیا یہ وہی الفاظ ہیں جو اس نے تحریر کئے تھے جن کو پرویز رشید صاحب کی جان دار اداکاری نے اتنا پر اثر بنا دیا تھا اور میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر دنیا کے منجھے ہوئے اداکار بھی پرویز رشید صاحب کی یہ اداکاری سے بھرپور کانفرنس سن لیں تو وہ پرویز رشید صاحب کو اپنا گرو ماننے پر مجبور ہو جائیں ۔وزیراطلاعات صاحب کے کردار پر روشنی ڈالنے مقصد صرف اتنا ہے کہ جناب کو یاد کروایا جائے کہ آپ جناب صرف وزیراعظم میاں نوازشریف کے وزیراطلاعات نہیں بلکہ پورے پاکستان کے ہیں کاش کہ آپ کی ایسی ہی جذباتی کانفرنس ہمیں پاکستان میں پکڑے جانے والے انڈین راء کے ایجنٹ کے پکڑے جانے اور سانحہ اقبال پارک پر بھی دیکھنے کو ملتی لیکن اس طرح کی کوئی بھی امید آپ سے رکھنا ہتھیلی پر سرسوں اگانے کے مترادف ہے یہ تو تھے ہمارے وزیر اطلاعات صاحب اب روشنی ڈالتے ہیں ہمارے وزیر قانون رانا ثناء اﷲصاحب کے بارے میں جنہوں نے پانامہ لیکس کو شیطان لیکس نام دیا ہے اور میں راناثناء اﷲصاحب کے اس نام سے پوری طرح سے ایگری کرتا ہوں کہ پانامہ لیکس نے جن جن کی بھی کرپشن کو بے نقاب کیا ہے وہ یقیناکسی بھی طرح کے شیطان سے کم نہیں ہیں اس لیے اگر اسے شیطان لیکس بھی کہا جائے تو کوئی ہرج نہیں ہے یہ تو تھے ہماے دو نکے وزیر اب کچھ بات ہماے وزیر اعظم میاں نواز شریف صاحب کے قوم سے کئے گئے خطاب کے بارے میں جو پانامہ لیکس کے انکشافات کے بعد انہوں نے فرمایا جنا ب وزیراعظم صاحب نے معصوم عوام کی عدالت میں اپنے آپ سرخروکرتے ہوئے اور اپنے خاندان پر لگنے والے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ریٹائرڈ ججز پر مشتمل ایک کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے جو اس پورے معاملے کی چھان بین کر ے گا لیکن خطاب کے دوران وزیراعظم صاحب نے جس فقرے پر بہت زیادہ زور دیا وہ تھا (ریٹائرڈ) یعنی ۔۔۔۔جہاں تک مجھے یاد ہے اس پہلے بھی پاکستان میں کئی کمیشن بن چکے ہیں لیکن بدقسمتی سے آج تک کسی بھی کمیشن کا فیصلہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا تو پھر ایک اور کمیشن بنانے کا مقصد کیا؟ بلکہ اب تو ایسے لگنا لگا ہے کہ جب بھی کسی اہم معاملے کو رفع دفع کرنا ہوتاہے ا س کا آسان حل یہی ہوتا ہے کہ اس کے لیے کمیشن مقرر کر دیا جاتا ہے۔ویسے میاں صاحب آپ کو اس معصوم عوام کو بیوقوف بناے کے لیے اس خطاب کی کوئی ضرورت نہیں تھی پاکستان کے عوام کو آپ پر اور آپ خاندان پر پورا یقین ہے کہ آپ یا آپ کے خاندان کے کسی فرد نے پاکستانی قوم کا ایک رتی پیسہ بھی پاکستان سے باہر غیر قانونی طریقے سے نہیں لے کر گئے اور نہ ہی آپ سمیت آپکے خاندان میں سے کسی نے کرپشن کی ہے۔جناب وزیر اعظم صاحب آپکے خطاب کے بعد پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلز پر طرح طرح کے تبصرے دیکھنے اور سننے کو مل رہے ہیں جس کے منہ میں جو آرہا ہے وہ بکے جا رہا ہے حالانکہ ان اینکرز کو آپ اور اپنے خاندان کے میں کچھ بھی کہنے سے پہلے آپ اور آپ کی عزت کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے وزیر اعظم صاحب کے صرف ایک پندرہ منٹ کے خطاب پر ٹی وی اینکرز کے ایک ایک گھنٹے کے پر وگرامز میری سمجھ سے بالا تر ہیں اگر کوئی مجھ وزیر اعظم صاب کے سے اس پورے خطاب کے بارے میں میرا تبصرہ مانگے تو میں صرف اور صرف یہیں کہونگا ۔۔۔۔۔۔۔۔ویری فنی۔

یہ بھی پڑھیں  بھارتی فوجیوں نے ایک اور کشمیری نوجوان کو شہید کر دیا

note