بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

ووٹ کی طاقت۔۔ تبدیلی کی کرن

bashir ahmad mir logoانتخابات کو اب ایک دن باقی رہ گیا ہے کل جو بویا جائے گا وہ بیس کروڑ عوام آنے والے 5برسوں میں کاٹے گی۔انتخابی مہم کے آغاز سے اختتام تک ایک نہ سمجھ آنے والی بات دیکھی گئی کہ پی پی پی نے روایاتی انداز سے ہٹ کر بظاہر خاموشی مگر اندرون خانہ ڈور ٹو ڈور مہم جاری رکھی ۔اس دوران ن لیگ اور پی ٹی آئی نے تو کمال دکھایا ،ہر ایک نے بڑھ چڑھ کر جلسے کئے اور انتخابی مہم کو رونق بخشی،سیاسی شعور کو اجاگر کرنے میں سیاسی جماعتوں کا کردار ہوتا ہے کہ وہ کس انداز سے ووٹرز کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں ۔جمہوری ارتقاء کے اس دور میں جہاں پی پی پی کا رول اہم قرار دیا جاسکتا ہے وہیں ن لیگ اور پی ٹی آئی ،جے یو آئی ،ایم کیو ایم ،اے این پی سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کے استحکام کے لئے بہتر انداز سے انتخابی مہم کو تکمیلی مرحلہ تک احسن طور عبور کیا۔
اگرچہ دہشتگردوں نے جمہوری عمل کو روکنے کے لئے کئی بے گناہ شہریوں کا خون کیا اس دہشت ذدہ ماحول میں سیاسی جماعتوں کا جس دلیری کے ساتھ انتخابی مہم جاری رکھنا یقیناًلائق تحسین ہے لیکن سب سے بڑھ کر عوام کے بلند حوصلے اور قومی جذبے کو سلام کہ انہوں نے گھروں سے نکل کر ملک کی بقاء و سلامتی کے لئے انتخابی مہم میں جرات مندانہ کردار ادا کیا ۔اب سیاسی قائدین پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ انتخابی نتائج کو عوامی رائے کی روشنی میں من و عن تسلیم کرنے کی آج سے فکری بیداری پیدا کر لیں ،کون جیتا اور کون ہارتا ہے اس خول سے نکل کر ملک کے وسیع تر مفادات کو پیش نظر رکھنا ہو گا۔فتح و شکست کو انا کا مسئلہ بنانا ہٹ دھرمی میں آتا ہے ۔یہ واعظ اس لئے ضروری ہے کہ بعض حلقوں سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ انتخابات میں جو بھی ہارے گا وہ ہار قبول کرنے کے بجائے ماضی کی روایات کی طرح دھاندلی کا شور شرابہ کر کے انتخابات کو مشکوک کر سکتا ہے۔
وطن عزیز بے شمار مسائل اور بحرانوں سے گذر رہا ہے ،بے روزگاری آخری دم پہ آ چکی ہے ،مہنگائی نے زندگی گذارنا مشکل بنا دی ہے ،بے روزگاری نے با صلاحیت افراد کی کمر توڑ رکھی ہے،دہشتگردی نے عدم تحفظ کا ماحول بنا رکھا ہے،جرائم میں خوفناک اضافہ ہو چکا ہے جس نے ہر شہری کی زندگی کو اجیرن بنا دیاہے۔سماجی ناہمواری اور معاشی عدم استحکام بڑے چیلنجز بن چکے ہیں ۔توانائی کا بحران معیشت کو کمزور کرتا جا رہا ہے ۔ان مشکل تر حالات میں عوام ایک بار پھر اس اعتماد اور امید کے ساتھ انتخابی مہم میں کودے کہ شاہد ان کی تقدیر بدلنے میں یہ کوشش کامیاب ثابت ہو سکے ۔
اب زبانی دعوؤں ،خوش نما تقریروں ،جاذب نظر اشتہاروں اور روایتی چالبازیوں سے عوام کو زیادہ دیر بیوقوف نہیں بنایا جا سکے گا ،جس دور سے قوم گذر رہی ہے یہ ان کی ہمت ہے کہ ایک بار پھر سیاستدانوں پر اعتماد کرنے کا کڑوا گھونٹ پی رہی ہے ۔آنے والا کون حکمران ہو گا اس قیاس اور تجزیہ کو ایک طرف رکھتے ہوئے اس امر کی فکر ضروری ہے کہ اب جو بھی بر سر اقتدار آئے گا اس سے عوام دودھ اور شہد کی نہریں دیکھنے کی امید میں ہیں ،یہ خدشہ بھی ہے کہ آنے والا حکمران اگر با ہوش نہ ہوا تو پھر جمہوریت کا پودا مرجھا جائے گا۔جمہوری عمل کو بر قرار رکھنے کے لئے موجودہ نظام کی خرابیاں اور خامیاں دور کرنا ہونگی،ہر شہری ان گھمبیر حالات میں متفکر ہے کیونکہ ہر سُو غیر ذمہ دارانہ رویوں ،فرائض سے غفلت ،قومی اداروں کا بادشاہی نظام جس سے ہر ادارہ تنزلی کی جانب رواں دواں ہے ،کرپشن کا پودا نیچے سے اوپر تک حسب روایت عوام کے لئے عذاب جاں سے کم نہیں ،سفارش کے ساتھ ساتھ رشوت کا ہونا کسی کام کے لئے انتہائی لازم و ملزوم ہے ۔ان بنیادی خرابیوں کو ماضی کی کسی حکومت نے ایک فی صد دور کرنے کی سعی نہیں کی جس کے نتیجے میں اب یہ تناور درخت بن کر زرخیز زمین کو اجاڑ رہا ہے ۔منشور تو ہر پارٹی نے دلچسپ دیا ہے مگر جو بیماریاں موجود ہیں ان پر کسی کا کوئی ردعمل نہیں جو باعث تشویش ہے۔
جمہوریت کا مطلب عام فہم عوام کا راج کہلاتا ہے ،مگر جب کسی شہری کو بجلی کا بل درست کر وانا ہوتا ہے تو اس کے متعلقہ افسر تک نہیں پہنچ پاتا ،کسی نے گیس بل پر محکمہ کی از خود غفلت سے درستگی کروانی ہوتی ہے اسے بھی دفاتر کے طوائف کرنا پڑتے ہیں الغرض جو ادارے عوامی مفاد کے لئے بنائے گے ہیں ان میں کام کرنے والے اپنے آپ کو عوام سے جدا مخلوق تصور کرتے ہیں ،بلکہ عوام کو ریوڑ سمجھ کر ہانکنا ان کا وطیرہ ہوتا ہے ۔جب ایسی انتظامی صورت حال ہو تو پھر کیا ،کیسے اور کیوں تبدیلی آ سکتی ہے ۔۔؟؟
اب سنئے پارٹی کارکنان کس طرح ووٹ مانگتے ہیں ،پی پی کا کارکن کہتا ہے کہ بڑی مشکل سے 5برس پورے کرنا ہماری فتح ہے ورنہ آج تک کوئی آئینی مدت پوری نہ کر سکا،مشکل تر حالات کے باوجود عوام کی خدمت کی ووٹ ہمارا حق ہے ،ن لیگ کا کارکن کہتا ہے کہ ہم اقتدار میں ہوتے تو آج ہر شہری اپنے پاؤں پہ کھڑا ہو چکا ہوتا ،اے این پی والے تو کہتے ہیں کہ سب سے زیادہ دہشتگردی کا وہ شکار ہوئے اور کئی قیمتی جانیں کھو بیٹھے ہیں ووٹ ہمارا حق ہے ،جے یو آئی والے اسلام کے نام پر ہمیشہ سے ووٹ مانگتے آئے ہیں اسی طرح جماعت اسلامی بھی اسلامی انقلاب کی بات کرتی ہے ،ایم کیو ایم والے تو شہزادے ہیں انہیں الطاف بھائی دن کو رات بول دیں ان کی کیا مجال نہ مانیں،تحریک انصاف نے کچھ نیا سلوگن پیش کیا ہے کہ وہ انقلابی تبدیلی لائیں گے یہی وجہ ہے کہ انتخابی مہم میں انہیں کافی پذیرائی مل رہی ہے مگر عمران خان کو علم کے باوجودکہ ہماری انتظامیہ میں ایسی ایسی کالی بھیڑیں ہیں جن کا خاتمہ کرنے کے لئے کسی کے پاس کوئی ایجنڈا نہیں،جو قومی کے خزانہ پر ریچھ کی ماند چمٹے ہیں کہ کوئی مائی کا لال انہیں ہاتھ لگانے کا سوچ بھی نہیں سکتا اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہمارے منتظم پہلے ہی اقتدار میں آنے والوں کو شیشے میں اتار لیتے ہیں ۔پٹواری 5لاکھ کا چندہ دیکر جیتنے والے امیدوار کو خرید لیتا ہے ،اسی طرح دیگر محکموں کے چھوٹے بڑے افسر حسب توقیق ایڈؤانس انوسٹمنٹ کر لیتے ہیں،یہی نہیں پارٹی ٹکٹ کے لئے 50/50لاکھ روپے کے چندے اور پھر عوام کی کھال دل کھول کر ادھیڑنا ان کے لئے مشکل نہیں ہوتا تو یہ بات سمجھنے کی ہے کہ ایسے نظام کی اصلاح کون کرئے گا ، یہی استحصالی نظام کہلاتا ہے ۔سیاسی جماعتوں کا غیر ذمہ دارانہ کردار پُر خطر ہے ،پی پی نے ٹھیک کیا کہ اس نے عوام کا سامنا کرنے سے گریز کرنا بہتری سمجھا ،کیونکہ جن مسائل کو قابو کرنا ان کے بس میں تھا وہ بے بس رہے اب انہوں نے عدی جیت تک اپنے آپ کو محدود رکھا جس کا نتیجہ اتوار کی صبح انہیں مل جائے گا،بد قسمتی سے ہمارے ملک میں جاگیردارنہ اور سرمایہ دارانہ نفوز ہے لہذا کسی سیاسی پارٹی کو عوامی کہنا ذرا مشکل ہوگا ،یہی وجہ ہے کہ سیاستدان اقتدار میں آکر ناکام رہتے ہیں ۔البتہ یہ امر خوش آئند ہے کہ اس بار جمہوری تسلسل سے عوام میں کافی شعور ی بیداری دیکھنے میں آئی مگر اس سمت کافی جد و جہد کی ضرورت ہے ۔وطن عزیز ہلے گلے ،مار دھاڑ کا متعمل نہیں ،لہذا سیاسی جماعتوں کو انتخابی عمل کامیاب بنانے اور اس کے نتائج تسلیم کر کے قومی ذمہ داری کا ثبوت دینے کی نئی روایت ڈالنا ہو گی۔یہ نظر آ رہا ہے کہ کوئی سیاسی جماعت واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکے گی ،اس صورت میں سیاسی قائدین کو سنجیدہ پن اختیار کرتے ہوئے نیا پاکستان کا خواب پورا کرنا ہو گا تاکہ عوام کا جمہوریت پر اعتماد بحال رہ سکے ۔سیاسی کارکنوں کو بھی ہوشمند رہنا چاہئے کہ ان کی صفوں میں افسر شاہی کی روح داخل ہو کر کہیں انہیں بھی ویسا ہی نہ بنا دے جیسے سبھی کرتے آئے ہیں ۔عوام میں زندہ رہنے کے لئے اب زندہ دلی کا مظاہرہ کرنا پڑے گا ۔اب انشاء اللہ انتخابات کے نتائج آنے کے بعد عوام کو نئی صورت حال سے آگاہ کیا جائے گا تاہم ایک اپیل سن لیں کہ ہر شہری پوری ذمہ داری کے ساتھ گیارہ مئی کے دن ملک کے نام اپنا قیمتی وقت وقف کر کے ووٹ ایسے امیدوار کو ڈالے جو اس کی نظر میں ووٹ کا اہل ہو ۔بد دیانت ،اچھی شہرت نہ رکھنے والا اور خائن نہ ہو اگر ووٹر اپنا انتخاب درست کر لے تو یقیناًتبدیلی آئی گی یہ سب آپ کے ایک ووٹ کی طاقت ہے ۔note

یہ بھی پڑھیں  تعلیمی نظام میں بہتری کی ضرورت ہے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker