تازہ ترینطاہر نامہکالم

ووٹ کاصحیح استعمال عوام کی ذمہ داری

tahirایک زمانہ تھا جب بادشاہوں کے دور تھے اور دنیا کے مغرور بادشاہوں کو جھکانا بڑا مشکل کام ہوتا تھا۔ ان کے پاس اپنی آزاد مرضی کے سوا کوئی بالاتر قانون نہ ہوتا تھا جسکو چاہتے مروا دیتے اور جسکو چاہتے موتیوں سے منہ بھر دیتے۔۔خوشامدیوں کے سوا ان کے دربار میں کوئی دم نہیں مار سکتا تھا۔لیکن اللہ کے نبیوں نے اپنے اپنے زمانے میں ایسے سخت حالات کے اندر بھی تنہا اللہ کا قانون بلند کر دیااور بار بار کیا۔مغرور بادشاہوں اور سرداروں کو جھکا دیا۔اس کام کے لیے انہیں آگ میں جھونکا گیا ۔آروں سے چیرا گیا۔تلواروں سے قتل کیا گیا۔کیوں؟ صرف اس لیے کہ مسلمان کا حقیقی ایمان اسی وقت ثابت ہوتا ہے جب اللہ کا قانون نافذ ہو۔ان زمانوں میں اللہ کا قانون جاری کرنا اور اسلام کی بادشاہی قائم کرنا بڑا ہی مشکل کام تھا۔بادشاہ فوجوں کے زور سے انسانوں کو بھیڑ بکریوں کے گلے کی طرح ہانکتے تھے اور کسی فرد کے لیے اٹھ کر ان خود مختار بادشاہوں سے ٹکر لینا کوئی آسان کام نہیں تھا۔
آج قانون بدلنا آسان ہے بادشاہت کا زمانہ گزر گیاہے۔آج بادشاہی بدلنے کے لیے باقاعدہ فوج تیار کرنے ۔اسلحہ جمع کرنے اور بے شمار سامان جنگ فراہم کر کے چڑھائی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔آج بادشاہی بدلنے کے لیے اور قانون بدلوانے کے لیے کسی میدان جنگ کو گرم کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔جس حکومت سے آپ غیر مطمئن ہیں صرف مدت انتخاب ختم ہونے کا انتظار کیجیے۔انتخاب کے موقع پر ناپسندیدہ آدمیوں کو چھوڑ دیجیے اور اپنی پسند کے ایماندار شخص کو ووٹ دیجیے۔اگر ہر شخص ایسا کرے تو تبدیلی خود بخود اور اپکی مرضی کے مطابق آئیگی ۔ چنانچہ اس دور میں جس شخص کے پیش نظر بادشاہی کا بدلنا یا قانون کو بدلوانا ہواس کے لیے پہلے کی طرح جان جوکھوں میں ڈالنے۔سولیوں پر چڑھنے۔آروں سے چیرنے۔تپتی ریت پر برہنہ لیٹنے کی بجائے مضبوط اور پختہ عزم کے ساتھ منظم ہو کر اپنی پسند کے نمائندے کے حق میں ووٹ کا صحیح استعمال کرنا ہی کافی ہے۔انتخابات کی اس جدیدپرامن لڑائی کے ذریعے چرچل جیسے منہ زور حاکم اور ٹرومین جیسے با اختیار صدر راتوں رات بدل جاتے ہیں۔اور کانوں کان خبر بھی نہیں ہوتی۔
لہذا یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں پر اللہ کا قانون اور اسلامی نظام کو رائج کرنے کی ذمہ داری پہلے کے مقابلے میں اب زیادہ عائد ہوتی ہے۔پہلے اگر معاملہ بادشاہوں کے ہاتھ میں ہوا کرتا تھا تواب یہ عوام کے ہاتھ میں ہے۔اور جس ملک کے عوام کی اکثریت مسلمان ہو اور انہوں نے اپنا ملک بھی دنیا کو گواہ ٹھہرا کر اسلام کے نام پر حاصل کیا ہو ۔وہاں پر بھ اگر اسلامی قانون عملا جاری نہ ہو تو اس کی ذمہ داری سے بروز قیامت جہاں برے حاکم اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکتے وہاں اللہ اور اسکے رسول کے نام کے نعرے بلند کرنے والے عوام بھی نہیں بچ سکتے۔موجودہ حکومت(پیپلز پارٹی)نے اپنے دور میں جو کارنامے سرانجام دیے ہیں وہ بیان سے زیادہ آپ پر واضح ہیں۔اب ملک کی بہتری اور اسلام و جمہوریت کی سلامتی اسی میں ہے کہ ایسے لوگوں کو آگے لایا جائے جو مخلص ہوں۔اسلام کے چاہنے والے ہوں۔بے داغ سیرت کے مالک اور محب وطن ہوں۔اور اگر اسی گروہ کو دوبارہ موقع مل گیا تو اسلام رہے گا نہ جمہوریت۔ اس لیے ضروری ہے آپ ذات پات۔برادری ازم۔مسلک کی جکڑ بندیوں اور روپے کے لالچ اور ذاتی مفاد سے بلند ہو کر ووٹ دیں اور ایماندار قیادت کو منتخب کریں۔اس سے قائد اعظم کی انتھک محنت اور مسلمانوں کی عظیم قربانیوں سے حاصل ہونے ولا ملک پاکستان صحیح معنوں میں ترقی کی جانب گامزن ہو سکتا ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب عوام اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں  فائزر ویکسین صرف حاجیوں اور ورک ویزہ ہولڈرز کو لگے گی: اسد عمر

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker