شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / اعجاز رانا / وعدے دعوے اور عملی اقدامات

وعدے دعوے اور عملی اقدامات

جب بھی کوئی نئی سیاسی جماعت اور پرانے سیاسی چہرے بھیس بدل کر نئے روپ میں جلوہ گر ہوتے ہیں تو عوام پاکستان ایک دفعہ پھر نئی قیادت سے امیدیں باندھ لیتے ہیں۔قرضوں میں ڈوبی قوم کو جب عمران خان نے برسراقتدار آنے کے بعد مہنگائی اور ٹیکسوں کی بھر مار ختم کرنے کے خواب دکھائے تو قوم کو ان کے روپ میں ایک مسیحا نظر آیا ۔ پاکستانی قوم نئے پاکستان میں سنہرے دور کے خواب دیکھنے لگی اور عمران خان سے خوشحالی کی نہ جانے کتنی توقعات وابستہ کرلیں ، غربت و مہنگائی کے خاتمے کے لئے نہ جانے کتنی امیدیں باندھ لیں۔ کیونکہ پاکستانی قوم گزشتہ اکہتر سالوں سے کبھی کسی فوجی ڈکٹیٹر تو کبھی کسی جمہوری حکومت کے دعوؤوں اور وعدوں کے سہارے محض جوتیاں گھساتی چلی آئی ہے مگر نتیجہ یہ نکلا کہ آج قوم کا ہر فرد ڈیڑھ لاکھ روپے تک کا مقروض ہے جبکہ یہاں محنت کش کے دونوں ہاتھ خالی ہیں۔ پاکستان میں بد سے بدترین حالات میں جمہوری حکومتیں وجود میں آتی رہی ہیں لیکن کسی حکومت کے بارے میں یہ کہنا غلط نہ ہو گاکہ ابھی وہ اپنے پاؤں پر چلنے کے قابل بھی نہیں ہوتی ، اور جلد ہی عوام کارکردگی دیکھ کر مایوسی کا اظہار کرنے لگتے ہیں ۔ عمران خان کی حکومت بھی جس رفتار سے چل رہی ہے اس میں کردار سے زیادہ گفتار سے کام لیا جا رہا ہے، اور کچھ کر دکھانے کی بجائے ہر روز ایک نئی کمیٹی ایک نئی طفل تسلی کا اعلان ہوجاتا ہے ، یوں ایک ماہ کے حکومتی اقدامات محض ہاتھ باندھنے کی حکمت عملی سے زیادہ نہیں۔ جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان عوام پاکستان سے معاشی و اقتصادی ترقی کے جو وعدے اور دعوے کرتے رہے ہیں اب برسراقتدار آنے کے بعد ان کے برعکس اقدامات اٹھا تے دکھائی دے رہے ہیں، گزشتہ حکمران جماعتوں نے بھی ایسا قتل عام نہیں کیا جیسا کہ ضمنی بجٹ میں ٹیکس کے نام پر عوام کو نشانہ ستم بنانے کی تیاری کی گئی ہے۔ جس ملک میں 43فیصد بچے مناسب خوراک اور اڑھائی کروڑ بچے سکول جانے سے محروم ہوں وہاں پانچ ہزار اشیاء پر 158ارب کے نئے ٹیکس عائد کئے جارہے ہیں۔ اور فنانس ایکٹ میں نئی ترمیم کے ذریعے تمام اشیاء پر ایک فیصد سپرٹیکس اور ایک فی صد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی جا رہی ہے جبکہ گیس کے سلیب تین سے بڑھا کر سات کرتے ہوئے سوئی گیس کی قیمتوں میں 10 سے 143فیصد تک اضافہ کر دیا گیا ہے۔ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمتیں بڑھادی گئی ہیں اور اب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ زیر غور ہے۔ ان تمام اقدامات سے گرانی و مہنگائی کا وہ سونامی آئے گا جس کا تصور ہی غریب پاکستانی اور محنت کش پر لرزا طاری کر دیتا ہے ۔ موجودہ حکومت کی جانب سے نئے ٹیکس لگاتے ہوئے عوام کی آمدن کو یکسر نظرانداز کر دیا گیا ہے، اسدعمر توماہر اقتصادیات ہیں جنہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ محدود آمدنی والے عوام نئے ٹیکسوں کو کیسے ادا کریں گے، خصوصی طور پر یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد اور تنخواہ دار طبقہ پر اس کے جو اثرات مرتب ہوں گے انتہائی ناقابل برداشت ہیں۔ امر واقع یہ ہے کہ سرکاری اور نیم سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر ٹیکس میں حیران کن اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ بڑے تاجروں اور صنعت کاروں سے مراعات واپس نہیں لی گئیں جو قومی خزانے کو ہر سال اربوں روپے کا نقصان پہنچاتے ہیں اور ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ ماضی کی حکومتوں کی طرح عمران خان نے اپنے تمام تر دعوؤں اور وعدوں کے برعکس امراء کو تو ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات اٹھائے ہیں لیکن غریبوں، مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس پر پٹرول، بجلی، گیس اور انکم ٹیکس کے بم پر بم گرائے جارہے ہیں۔ قبل ازیں پاکستان کے غریب شہری ہر چیز کی خریداری پر حکومت کو جنرل سیلزٹیکس ادا کرتے تھے اور اب انہیں جنرل سیلزٹیکس کی موجودگی کے باوجود ضمنی بجٹ میں عائد ہر چیز پر ایک فیصد ٹیکس اور ایک فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی بھی ادا کرنا پڑے گی جس سے یکم اکتوبر سے گرانی و مہنگائی کی طوفانی لہر جنم لے گی، اور اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی نظر آئیں گی ۔ خام مال فراہم کرنے والی کمپنیاں بھی اپنے خام مال کی قیمتوں میں اضافہ کر دیں گی۔ آج عوام پاکستان اس اسد عمر کو تلاش کر رہے ہیں جو کل تک کہتے تھے پٹرول کی قیمت عالمی مارکیٹ سے 45 روپے زیادہ ہے، اور اب وہ عوام پر براہ راست اثر انداز ہونے والے حکومتی ٹیکسوں میں پے در پے اضافہ کررہے ہیں، جس پر شہری چیخ رہے ہیں کہ اس نوع کے فیصلے کرنے میں اسحاق ڈار تو کہیں بہت پیچھے رہ گئے، اسد عمر رفتار اور قد میں ان سے بہت آگے نکل گئے ہیں۔ اگر غریب پاکستانیوں کے زخموں کا مداوا کرنے کی بجائے مہنگائی و گرانی کا سونامی ہی لانا تھا تو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومت ہی ان سے بہتر تھی۔جبکہ ان حالات میں عمران خان اپیل کررہے ہیں کہ وہ پاکستان میں تبدیلی لانے کے جو اقدامات کر رہے ہیں،ان کی کامیابی کے لئے پوری قوم ان کا ساتھ دے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قدر ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبی قوم کیسے ساتھ دے سکے گی؟ حکومتی اقدامات پرمحو حیرت قوم سوال کررہی ہے کہ کبھی لگژری گاڑیاں نیلام کرنے اور سرکاری عمارات و گورنر ہاؤسز کو سیرگاہیں بنانے سے بھی انقلاب آیا ہے؟ ابھی تک تمام تر ریاستی اداروں میں کرپٹ ترین افراد موجود ہیں ان پر کسی نے ہاتھ نہیں ڈالا ہے، کیا حکمرانوں کے پاس محض انتخابی نعروں ، تبدیلی اور احتساب کی رٹ تھی جو اقتدار سنبھالنے کے بعد بخارات بن کر ہوا میں معلق ہو گئی ہے

error: Content is Protected!!