شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / وفا کی دیوی بے وفائی پہ اُتر آئے تو گھر اجڑ جاتے ہیں

وفا کی دیوی بے وفائی پہ اُتر آئے تو گھر اجڑ جاتے ہیں

عورت کے ہزاروں روپ ہوتے ہیں اس کے مطابق کئی مفکرین نے اپنے اپنے انداز میں عورت کو خراج تحسین پیش کیا مگر اس کالم میں میرامقصد عورت کی خامیوں کو دور کرنا ہے نہ کہ اس پر تنقیدکرنا ہے۔اسلام میں عورت کوا علیٰ درجہ دیا گیا ہے ۔عورت کو گھر کی زینت کے نام سے بھی موسوم کیا گیا ہے مگر بحیثیت انسان عورتوں میں بھی چند خامیاں پائی جاتی ہیں جن کو دور کرنا بے حد ضروری ہے۔بہر حال میرا مقصد عورت کی دل آزاری کرنا ہر گز نہیں بلکہ جو عورتیں اپنے خاندان کے لیے شرمندگی کا باعث بنتی ہیں میرا ان عورتوں سے سوال ہے ۔یاد رکھیں؛جو عورتیں اپنے بھائی ،باپ یا خاوند کو دوسروں کے ہاتھوں اپنے سکھ چین کی خاطر قتل کروا دیتی ہیں ان عورتوں کا انجام بڑا بھیانک ہوتاہے۔اسی ہوالے سے میں اس کالم میں ایک معاملہ آپ تک پہنچانا چاہتا ہوں۔ قصور کی رہائشی منور بی بی کی شادی منظور احمد سے طے پائی جن سے ایک بیٹا اور بیٹی پیدا ہوئے۔اس دوران منور بی بی کے عبدالغفار نامی شخص سے ناجائز تعلقات بن گئے۔جبکہ منظور نے اپنی بیوی اور عبدالغفار کے درمیانی تعلقات پر شبہ ہوا تو اس نے اپنی بیوی کو عبدالغفار سے ملنے سے منع کیا تو خاوند کے بار بار روکنے پر اس کی بیوی نے اپنے اشناء عبدالغفار سے مل کر اپنے خاوند کوقتل کرنے کا منصوبہ بنالیا اور رات کو اپنے خاوند کو نشہ آور چیز کھلا دکر عبدالغفار سے مل کر اپنے خاوند کے ہاتھ پاؤں رسی سے باندھ دیے اور اسے نشہ کی حالت میں موٹرسایکل پر بیٹھا کر قریبی بانسوں کے کھیت میں لے جاکر اس پر ٹوکے کے پے در پے وار کر کے اس کے ٹکڑے کر دیے اور وہاں ہی گڑھا کھود کر اس کے تمام ٹکڑے زمین میں دفن کر دیے اور کچھ دنوں بعد اپنے خاوند کے اغوا ہوجانے کی جھوٹی درخواست مقتول کے حقیقی بھایوں کے خلاف تھانہ الہ آباد میں دے دی جبکہ پولیس کی تفتیش میں مقتول کے بھائی بے گناہ پائے لیکن SP انویسٹی گیشن نے مقدمہ کی سماعت کی تو SP کو منور بی بی پر شک گزرا جس پر SP کے حکم پر منور بی بی کو شاملِ تفتیش کیا گیا دورانِ تفتیش منور بی بی نے تمام وقع کا انکشاف کر دیا جس پر پولیس تھانہ الہ آباد نے منور بی بی اور اس کے آشناء کے خلاف مقدمہ نمبر669/09 بجرم376/392 درج کر کے ملزمان کو جیل بھج دیا مگرافسوس پولیس نے بھاری رشوت لے کر ملزمان سے اس بچارے مقتول کی لاش دفن شدہ جگہہ سے آج تک نہیں برآمد کی ۔کیا پولیس والوں نے مرنا نہیں ؟اس واقع میں ایک عورت نے کتنی بے دردی سے اپنے خاوند کو قتل کیا اور قتل کرتے وقت ذرا بھی اس کو اپنے خاوند پر رحم نہ آیا ۔اس قتل کا جواب یہاں نہ دیا تو قیامت کے دن تو دینا ہی پڑے گا۔زمین کسی کا خون اپنے اندر ذیادہ دیر نہیں رکھتی اسے ایک نہ ایک دن اُگل دیتی ہے۔کیونکہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابد ہ ہونا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور قہر سے ہر وقت ڈرنا چاہیے۔یہ بھی تو اللہ پاک کا عذاب ہی تھا جو ایک ہنستا بستا گھر تباو برباد ہو گیا ۔کیا یہ ایک عورت نہیں تھی کیا ایسی عورت ماں کہلانے کی حودار ہے؟
اس طرح کے ہزاروں واقعات ہر روز پیش آتے ہیں اور اخبارات میں بھی ایسی کئی خبریں مل جاتیں ہیں جو عورت ایسے کام کرتی ہے کیا معاشرے میں اس کی عزت ہو گی ؟عورت اپنے گھر میں ہی اچھی لگتی ہے نہ کہ بازاروں میں ۔اس لیے میری تمام عورتوں سے گزارش ہے کہ ایسے اقدام نہ اٹھائیں جن سے معاشرے کے سامنے شرمندہ ہونا پڑے۔اللہ تعالیٰ سب مسلمان بہن بھایوں کو راہ راست پر چلنے کی توفیق دے۔۔۔ آمین

یہ بھی پڑھیں  مولانا سمیع الحق کو طالبان سے مذاکرات کا کوئی مشن نہیں دیاگیا تھا، وزیراعظم ہاؤس