انور عباس انورتازہ ترینکالم

وفاقی کابینہ

anwar abasوفاقی کابینہ نے حلف اٹھا لیا ہے۔جس کے ساتھ ہی پاکستان میں پرامن انتقال اقتدار کے تمام مراحل اپنے احتتام کو پہنچ گے۔وفاقی کابینہ کے وزرا کی تعداد پچیس اور چار مشیر اور معاونین خصوصی کا تقرر بھی عمل میں لایا گیا ہے۔مشیر اور معاونین خصوصی میں سرتاج عزیز قومی سلامتی اور خارجہ امور،سابق سفیر طارق فاطمی معاون خصوصی برائے خارجہ امور،کیپٹن ریٹائرڈ شجاعت عظیم مشیر برائے ہوا بازی،سردار ثناء اللہ کی وزارت کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔وفاقی کابینہ کی تشکیل میں ذاتی وفاداری،اہلیت اور اور سیاسی سودے بازی کو مد نظر رکھا گیا ہے۔ اس بات کابھی قوی خیال رکھا گیا ہے کہ اس میں ایسے افراد کو شامل کیا جائے جس سے ’’شریف خاندان‘‘ کی گرفت مضبوط رہے۔ کوئی وزیر نواز شریف یا شہباز شریف کی جانب دیکھنے کی بجائے کسی اور ’’ حلقوں‘‘ سے راہنمائی لے۔ہوا بازی کے معاون خصوصی شجاعت عظیم سینٹر طارق عظیم کے بھائی ہیں۔ان کی اہلیت بس اس قدر ہے کہ موصوف لبنان کے شہید لیڈر رفیق الحریری کا جہاز اڑاتے تھے۔ذاتی اور سیاسی وفاداروں رانا تنویر حسین،برجیس طاہر کے ساتھ ساتھ سیاسی وفاداریاں بدلنے والے ریاض حسین پیرزادہ، سکندر بوسن کوبھی اکاموڈیٹ کر کے ان سے کئے گے وعدوں کا نبھایا گیا ہے۔ضلع شیخوپورہ کو دو وزارتوں سے نوازا گیا ہے۔جنرل مشرف کے لیے اپنی قابلیت اور اہلیت کے جوہر دکھانے والے زاہد حامد اور انکے لیے عالمی سطح پر حمایت کے لیے خاموشی سے سرگرم سرتاج عزیز بھی نواز شریف کی آنکھوں کا تارا بننے میں کامیاب ہوگے ہیں۔دفاع اور خارجہ کی وزارتیں وزیر اعظم میاں نواز شریف اپنے پاس رکھیں گے۔وزارتوں کی تقسیم میں کشمیریوں کو سر فہرست رکھا گیا ہے۔اہم وزارتیں کشمیری خواجہ محمد آصف(پانی و بجلی) اسحاق ڈار سمدھی نواز شریف( خزانہ و اقتصادی امور)خواجہ سعد رفیق( ریلوے)حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔وفاقی کابینہ میں سب سے زیادہ نمائندگی پنجاب کی ہے جس کے ارکان کی تعداد انیس ہے۔جبکہ ابھی ایک رکن ریاض حسین پیرزادہ نے حلف لینا ہے جس سے یہ تعداد انیس سے بڑھ کر بیس ہو جائیگی۔سندھ کو تین بلوچستان کو دو اور خیبر پختونخواہ کو ایک وزارت دی گئی ہے۔راولپنڈی،گجرانوالہ،سیالکوٹ کو دو دو اور لاہور کو وزارت عظمی کے علاوہ چھ وزارتوں کا حقدار قرار دیا گیا ہے۔یوں ماضی میں کہی گئی بات کہ’’لاہور کی حکومت لاہور یوں کے لیے اور لاہوریوں کے زریعے‘‘ وفاقی کابینہ میں بلوچستان کو خاطر خواہ نمائندگی دی جانی چاہئے تھی۔سب کا خیال تھا کہ بلوچستان سے نومنتخب رکن قومی اسمبلی عبدالقادر بلوچ کو وزارت دفاع کا قلمدان سونپا جائے گا۔لیکن انہیں سرحدی امور کی وزارت دیدی گئی ہے۔ خیال تھا کہ میاں نواز شریف محمود خاں اچکزئی کو ڈپٹی پرائم منسٹر کا منصب عطا کریں گے لیکن نواز شریف نے ایسا بھی نہ جانے کیوں نہیں کیا اگر محمود خان اچکزئی کو ڈپٹی پرائم منسٹر بنا دیا جاتا تو بلوچستان کے حوالے سے ان کی ذمہ داریوں میں کافی حد تک کمی واقع ہو جاتی۔شائد میاں صاحب اپنے ساتھ اقتدار میں شریک کرنا پسند نہیں کرتے۔اس بات کا انہیں آگے چل کر احساس ہو جائیگا۔کیونکہ پنجاب میں تو وزارت اعلی بھی انکے اپنے حقیقی بھائی کے پاس ہے۔جو پنجاب کی تعمیر و ترقی میں اکیلے ہی سب پر بھاری ہیں۔انہیں تو ایک بھی وزیر نہ دیا جائے تو وہ سب وزارتوں کا کام خود اکیلے ہی چلا سکتے ہیں۔وزیر اعظم نواز شریف نے سابق حکومت کے صرف ایک کام کی تعریف کی ہے۔وہ بھی ان الفاظ میں کہ ’’ سابق حکومت نے گوادر پورٹ چین کے حوالے کرنے کا اچھا کام کیا ہے‘‘حالانکہ انہیں(وزیر اعظم نواز شریف) کو صدر زرداری کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ انہوں نے اپنے وعدے کے مطابق وقت پر الیکشن کروانے کا وعدہ پورا کر دکھایا ہے۔ جبکہ وہ الیکشن سے فرار کے لیے ہاتھ پاؤں تو مار ہی سکتے تھے ۔ایسا کرنے کے لیے انہیں بہت سے ’’ شرفاء‘‘ کی مدد ملنے کے قوی امکانات پائے جاتے تھے۔لیکن زرداری صاحب نے جمہوریت کے استحکام کے لیے سب ’’پیشکشوں اور آفرز‘‘ ٹھکرا کر وقت پر الیکشن کرانے کو ترجیح دینا پسند کیا۔ وزیر اعظم نواز شریف نے ایسا نہ کر کے نواز شریف نے کوئی اعلی ظرفی کا مظاہرہ نہیں کیا۔اچھا کام مخالف بھی کرے تو اسکی تعریف کرنی چاہئے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button