تازہ ترینکالم

وفاقی ملازمتوں میں 2فیصد کوٹہ اور آزاد کشمیر پولیس کے بیگاری !

atharآزاد کشمیر میں پاکستان کے چاروں صوبوں کے مقابلے میں بیروزگاری کی شرح سب سے زیادہ ہے جوساڑھے تیرہ فیصد تک پہنچ چکی ہے۔تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والے نوجوانوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے جو اپنی ڈگریاں ہاتھوں میں اٹھائے ملازمت کی تلاش میں در بدر پھرتے ہوئے اور بیروز گار ی کا طعنہ سہتے ہوئے مایوسیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔آزاد کشمیر کے ہر محکمہ میں گریڈ سترہ اور اس سے اوپر کی ایک آسامی پر چار سے پانچ سو نوجوان اپنی درخواستیں دے رہے ہیں۔آزاد کشمیر میں پڑھے لکھے اور ہنر مند نوجوانوں کا ’ڈیٹا‘ اکٹھا کرنے کا کوئی ادارہ موجود نہیں جس سے پڑھے لکھے اور ہنر مند نوجوانوں کا احاطہ کیا جا سکے۔آزاد کشمیر کے محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نے کچھ عرصہ قبل لوکل کیبل پر ایک اشتہار کے ذریعے پڑھے لکھے اور ہنر مند نوجوانوں کا ’بائیو ڈیٹا‘ مانگا تھا ۔ اس کا مقصد یہی تھا کہ حکومت کی طرف سے ان نوجوانوں کو کسی طور ملازمت یا مثبت سرگرمیوں میں مشغول کیا جائے۔اس سے نوجوان ’فریسٹریشن‘ کا شکار ہونے سے بچتے ہوئے ایک طرف غیر ضروری سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے محفوظ رہ سکتے ہیں اور ان کو پاکستانی اداروں میں نلازمت کے لئے ’اپلائی‘ کرنے کا تجربہ بھی حاصل ہو سکتا ہے۔پاکستان میں نوجوانوں کے لئے اسی طرز کا ’نیشنل انٹیرم شپ پروگرام‘ چل رہا ہے۔ آزاد کشمیر حکومت اگر نوجوانوں کے لئے اس طرح کا باقاعدہ پروگرام شروع کرنے پر توجہ دے تو اس سے آزاد کشمیر کے نوجوانوں کو ترقی کی راہ پہ گامزن کرنے کے سلسلے میں اہم کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں حکومتی سطح پر اسی طرز کا ادارہ کام کر رہا ہے جو پڑھے لکھے اور ہنر مند نوجوانوں کو ملازمت کے حوالے سے تیار کرتا ہے۔
وفاقی حکومت کی ملازمتوں کی براہ راست بھرتیوں میں آزاد کشمیر کے ’سٹیٹ سبجیکٹ ہولڈرز‘ کے لئے دو فیصد کوٹہ مخصوص ہے۔فیڈرل پبلک سروس کمیشن میں کسی حد تک اس پر عمل ہو رہا ہے لیکن دوسرے وفاقی وزارتوں،ڈویژن اور آرگنائیزیشنز میں آزاد کشمیر کے لئے مخصوص اس کوٹے پر عمل نہیں کیا جا رہاہے۔وفاقی وزارتوں،محکموں،اداروں سب میں یہ دو فیصد کوٹہ لاگو ہوتا ہے لیکن یہ وفاقی ادارے و محکمے چپڑاسی،کلرک وغیرہ کی آسامیوں آزاد کشمیر کے کوٹے پر مشتہر کرتے ہیں جبکہ دو فیصد کوٹے کا اطلاق افسران کے عہدے کے لئے بھی ہو تا ہے جس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔اس دو فیصد کوٹے کا طلاق ہر ’رینک‘ کے لئے ہے۔وفاقی وزارتوں کی علاوہ وفاقی محکموں کی ایک طویل فہرست ہے جس میں ایف آئی اے،ایئر پورٹ سیکورٹی فورس،وفاقی پولیس،پی آئی اے،اٹامک انرجی،او جی ڈی سی،سی ڈی اے،سٹیل مل،سوئی نادرن،وپڈا،وفاقی تعلیمی بورڈ،ہائیر ایجوکیشن،پی ٹی اے اور ان کی ایک طویل فہرست ہے۔ اس کے علاوہ وفاقی وزارتوں کی تعداد تقریبا39ہے۔
اگر آزاد کشمیر کے لئے مخصوص دو فیصد کوٹے پر عمل ہو تو ایک ہی سال میں چار سے پانچ ہزار کشمیر کے ریاستی باشندے وفاقی محکموں اور اداروں میں بھرتی ہو سکتے ہیں۔اس کوٹے پر مکمل عملدر آمد کی صورت آزاد کشمیر میں کوئی بھی پڑھا لکھا اور ہنر مند نوجوان بیروزگار نہیں رہے گا۔افسوس ناک بات یہ ہے کہ آزاد کشمیر حکومت کی طرف سے کبھی بھی یہ معاملہ حکومت پاکستان کے سامنے اٹھایا نہیں گیا۔آزاد کشمیر کے حکمرانوں کو تو جب بھی ملاقات کا شرف حاصل ہوتا ہے تو وہ اپنا وقت ان کی جائز ناجائز تعریفوں کے پل باندھنے اور اپنے ’’ رونے‘‘ لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔آزاد کشمیر کے مسائل کا کیا ہے ،یہ تو ہے ہی’ بیک ورڈ‘ علاقہ، لہذا یہاں کے نوجوانوں کے مستقبل کی کس کو پرواہ ہے۔
چندہفتے قبل کسی نیوز ٹی وی پہ ایک نیوز سلائیڈ پہ نظر پڑی جس کے مطابق چیر مین نیب کی طرف سے پولیس کے ریٹائرڈ آئی جی حضرات کے ساتھ بدستور متعین پولیس اہلکاران کی تفصیلات طلب کی گئیں۔اس حوالے سے آزاد کشمیر کے آئی جی کا یہ موقف بھی سامنے آیا کہ آزاد کشمیر پاکستان میں شامل نہ ہے اور وفاقی ادارہ نیب کے دائرہ کار میں نہیں آتا ہے۔پاکستان میں سابق انسپکٹر جنرل پولیس کے ساتھ متعین افسران کے حوالے سے مزید کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی۔آزاد کشمیر میں تعینات رہ چکے آئی جی پی حضرات اور ’لنٹ‘ افسران سے متعلق اس بارے میں ذرا سا کریدیں تو معلوم ہوتاہے کہ اس وقت آزاد کشمیر پولیس کے تقریبا ڈیڑھ سو اہلکاران آزاد کشمیر کے سابق آئی جی پی حضرات اور ’ لنٹ‘ افسران کے ساتھ بدستور حفاظتی ڈیوٹی دے رہے ہیں۔ نہ معلوم آزاد کشمیر پولیس اہلکاران کی بیگار کا یہ سلسلہ کب سے جاری ہے اور کب تک جاری رہے گا؟note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button