تازہ ترینکالممحمد ناصر اقبال خان

وفاق سے نفاق تک

nasir aqbal khanقیام پاکستان کے وقت قدرت کی مہربانی سے ہمارے پاس ایک مدبر،مخلص،سچااورانتھک قائدؒ تھااورہمارے باپ دادا ایک آزاداسلامی ریاست کاخواب شرمندہ تعبیرکرنے کیلئے قوم کی صورت میں ابھرے تھے اورنتیجتاً پاکستان معرض وجودمیں آگیا ۔جہاں قائدنہیں ہوتے وہاں قوم ایک ہجوم بن جاتی ہے اورجہاں قوم ایک ہجوم بن جائے وہاں حقیقی قیادت پیدانہیں ہوتی اور ریاست کابندٹوٹ جاتا ہے ۔قائدؒ کی وفات کے بعد ہم ان کی مقدس امانت کی حفاظت کیلئے مزیدمتحداورمنظم ہونے کی بجائے منتشر ہوگئے جس کے نتیجہ میں پاکستان کاایک بازوکاٹ دیا گیا ورنہ دشمن ملک بھارت ہمارا پانی روکنے اورکشمیرکی آزادی کیلئے سرگرم انسانوں کوموت کے گھاٹ اتارنے کی جسارت نہ کرتا۔قائدؒ کی وفات کے بعدجوبھی قائدکے روپ میں آیااس نے وفاق کومضبوط کرنے کی بجائے نفاق کابیج بویا۔جواقتدار کیلئے کسی سے ڈیل کرے یااسے ڈھیل ملے وہ لیڈر نہیں ڈیلر کہلواتاہے اورہمارے ہاں قیادت کافقدان ہے جبکہ ڈیلرز کی کوئی کمی نہیں۔آج پاکستان کے پاس ڈیلر نمالیڈرتوبہت ہیں مگرقائدتودرکنارقائدؒ ثانی بھی کوئی نہیں ہے اسلئے عوام منقسم،منتشر اوراپنے مستقبل سے مایوس ہوتے چلے گئے ۔ تحریک قیام پاکستان کے دوران ”پاکستان کامطلب کیا لاالہ الااللہ”کانعرہ سب سے زیادہ مقبول ہوااوربلاشبہ یہ آج بھی محب وطن پاکستانیوں میں بہت پسنداورپورے جوش کے ساتھ بلندکیا جاتا ہے۔اس نعرے کی طاقت اورتاثیرسے آج بھی ہمارادشمن ملک اوراس کے مقامی ایجنٹ خوفزدہ ہیں اور یہ نعرہ بگاڑناان کامشن ہے مگروہ نہیں جانتے یہ نعرہ پاکستانیوں کے قلوب پرنقش ہے جوکسی صورت مٹ نہیں سکتا۔ ”پاکستان کامطلب کیا لاالہ الااللہ”محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک جذبہ ،ایک تحریک اور تاریخ کاجلی عنوان ہے اورتاریخ کوکسی صورت تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔یہ نعرہ نظریہ پاکستان کی اساس اورہمارے اسلاف کی اس سرزمین پاک کے ساتھ کمٹمنٹ اورقربانیوں کاآئینہ دار ہے۔آج بھی یہ نعرہ لگانے والے کا دل زورزورسے دھڑکناشروع ہوجاتا ہے۔جوکوئی”پاکستان کامطلب کیا لاالہ الااللہ”کونہیں مانتا وہ پاکستان اورنظریہ پاکستان کوبھی نہیں مانتااورسرزمین پاک پراس کاناپاک وجودایک بوجھ سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔
قیام پاکستان کے بعدہمارے درمیان مشرقی اورمغربی پاکستان کی بنیادپرنفاق کابیج بویا گیا اورہمارے اقتدارپرست سیاستدانوں نے اسے اپنے اپنے مفادات کی شراب سے سیراب کرتے ہوئے تناورپیڑ بنادیااورنتیجتاً 16دسمبر1971ء کوبڑے کاری وار سے پاکستان کاایک بازوکاٹ دیا گیا مگرہمارے سیاستدان پھربھی سمجھنے اور سنبھلنے کیلئے تیار نہیں ہوئے۔کسی سیاستدان اورسیاسی پارٹی نے سقوط ڈھاکہ سے کچھ نہیں سیکھابلکہ آج ہمیں پاکستان اورکالا باغ ڈیم میں سے کسی ایک کومنتخب کرنے کاپیغام دیا جا رہا ہے اوراس کے باوجود وہ لوگ وفاق میں حکمران اتحاد کااہم حصہ ہیں ۔ہمارے سیاستدانوں نے اپنے اپنے سیاسی مفادات کیلئے اپنا اپنا سیاسی دھڑابنالیا،ہم مذہبی مسلک کی بنیاد پرتوایک دوسرے سے دوراورایک دوسرے کے دشمن تھے ہی پھرہم نے پاکستانیت اورقومی زبان اردو کوچھوڑکر صوبوں اورمقامی زبانوں کواپنی اپنی شناخت بنالیا۔اس کے بعدہم نے سیاسی ومذہبی پارٹیوں اوربرادریوں کے نام پر خودکوبرتراوردوسروں کوحقیر سمجھناشروع کردیا۔ہرمسلک سے تعلق رکھنے والے علماء اپنے اپنے سیاسی ونگ بناتے ہوئے انتخابی سیاست میں کودپڑے اورمراعات کی بندربانٹ کے دوران پوراحصہ نہ ملنے پران کے اندربھی کئی کئی دھڑے بن گئے ۔کسی نے اپنے آمرانہ اقتدارکوطول دینے کیلئے قوم کو دین کادرس دیا توکسی نے شخصی آمریت کی مضبوطی کیلئے روشن خیالی کاڈھول بجایا ۔کسی نے پیپلزپارٹی کوکاؤنٹراورکارنر کرنے کیلئے شہرقائدؒ میں ایک جماعت بنادی اوراس شہرمیں کشت وخون کابازارگرم کردیا توکسی نے سماجی سرگرمیوں کے دوران پذیرائی اورنوٹ ملنے پرانصاف کاعلم اٹھا لیا ،کوئی دین کاپیغام عام کرتے کرتے سیاستدان اورسٹنٹ مین بن گیااوراس کے نزدیک قادری اورپادری میں کوئی فرق نہ رہا ۔جوبھی آیااس نے خودکومسیحااورنجات دہندہ بتا یا اورعوام کواپنے پیچھے لگالیا ،ہرکسی نے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائی ،دوسری پارٹیوں کے ساتھ سیاسی اتحاد بنایا مگرکسی سیاستدان یاعالم دین نے منتشر عوام کومتحد کرنے اوراس ہجوم کودوبارہ ایک قوم بنانے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی ،ہمارے درمیان نفاق کابیج بونے والے ہاتھ توڑنے اوروفاق کی کمزور چھت کاڈھانچہ مضبوط کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ہرسیاسی پارٹی کے پاس محدود ووٹ بنک موجودہے مگرکوئی بھی تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں اوریوں اقتدارمیں شریک سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کے ہاتھوں بلیک میل ہوتی ہیں۔سرکار بنانے والی پارٹیوں کوقومی مفادات سے کوئی سروکار نہیں ہوتا ۔بحیثیت ریاست پاکستان کی بقاء اورپاکستانیوں کی بہبود کاراستہ” ٹوپارٹی سسٹم”اورصدارتی طرزحکومت سے ہوکرجاتا ہے۔دنیا کے بیشتر مہذب اورترقی یافتہ ملکوں میں صدارتی طرز حکومت سے استفادہ کیا جارہا ہے ۔قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی سپیکر چودھری جعفر اقبال نے مسلم لیگ (ن) میں ہوتے ہوئے اپنے مطالعہ ،مشاہدے اورویژن کی بنیاد پرپاکستان میں صدارتی طرزحکومت کے حق میں آوازاٹھائی ہے،اب سنا ہے ان کے قائد میاں نوازشریف نے بھی اس تجویزپرپسندیدگی کی مہرثبت کردی ہے مگرعام انتخابات کے بعداس پرسنجیدگی سے کام کرنے کاکہا ہے۔چودھری جعفر اقبال نے اپنے طویل سیاسی کیرئیر میں کئی اہم سیاسی وسرکار ی عہدوں پرکام اوربڑی عمدگی سے پرفارم کیا ہے۔حیران کن طورپربابائے قو م محمدعلی جناح ؒ ،پاکستا ن اوربھارت کے سابق وزرائے اعظم میاں نوازشریف اور شری واجپائی کی طرح چودھری جعفر اقبال کایوم پیدائش بھی25دسمبر ہے ۔چودھری جعفر اقبال نے کئی بار مادروطن کے سیاسی نظام میں مثبت تبدیلی بارے دوررس تجاویزدی ہیں ان پرغورکرنے کی ضرورت ہے ۔صدارتی طرزحکومت کے حوالے سے چودھری جعفر اقبال کی تجویز پرسنجیدگی سے غورکیلئے عام انتخابات سے قبل اے پی سی منعقد کی جاسکتی ہے۔ہم نے پارلیمانی نظام حکومت کوبار بارآزمایا مگرپاکستان اورپاکستانیوں کی حالت زارجوں کی توں ہے لہٰذا صدارتی طرز حکومت کوآزمانے میں کوئی قباحت نہیں۔
ہمارے ہاں موٹرسائیکل اورکارڈرائیوکرنے کیلئے ڈرائیونگ ٹیسٹ پاس کرنا ضروری ہے مگرسیاسی پارٹی بنانے یااخباراورنیوزچینل شروع کرنے کیلئے کسی کی تعلیم و تربیت یااہلیت اورقابلیت نہیں دیکھی جاتی ۔جس کسی کوکسی دوسری پارٹی میں اپناراستہ نہیں ملتا وہ جھٹ سے اپنی قیادت میں ایک پارٹی میدان میں لے آتا ہے اورہم اس مجرمانہ روش کانتیجہ ریاست ،سیاست ،معیشت اورجمہوریت کی بربادی کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ہمارے ہا ں سیاستدان اقتدارکیلئے اتحادبناتے اورتوڑتے ہیں مگرآج تک عوام اپنے حقوق یاملک میں رائج گلے سڑے نظا م سے جان چھڑانے کیلئے آپس میں متحد نہیں ہوئے ۔عوام کومتحداورمنظم کرنے کیلئے کوئی جادوکی چھڑی نہیں چاہئے بلکہ ایک سچے لیڈر کے ساتھ ساتھ ایک متفقہ قومی ایجنڈے کی ضرورت ہے ۔پاکستان میں چھوٹی چھوٹی سیاسی پارٹیاں پریشرگروپ کی صورت میں اقتدارمیں شراکت اورمراعات کیلئے حکمران پارٹیوں کوبلیک میل کرتی ہیں اورپچھلی دودہائیوں سے شہرقائدؒ اس کاخمیازہ بھگت رہا ہے۔جوسیاسی پارٹی عام انتخابات میں چاروں صوبوں میں کم ازکم ایک سو سیٹوں پر اپنے امیدوارکھڑے نہیں کرتی اوراسے مجموعی طورپرایک مخصوص شرح تک ووٹ نہیں ملتے تواس کی رجسٹریشن خارج کر دی جائے ۔ہمارے ملک میں چھوٹی چھوٹی سیاسی پارٹیوں اوربونے سیاستدانوں کاوجودایک بوجھ کی طرح ہے ،ان کے ہوتے ہوئے ہجوم کوایک قوم نہیں بنایا جاسکتا۔جس معاشرے میں اونے پونے دام پربک جانیوالے بونے سیاستدانوں کاراج ہووہاں قدآورشخصیات کوکوئی نہیں پوچھتااورنہ وہاں قائدپیدا ہوتے ہیں ۔عوام کوان سیاسی گداگروں اورسوداگروں سے جان چھڑانااورایک سچے قائد کی تلاش کرنا ہوگی ۔نفاق کابیج بونے والے سیاسی بونے ہمارے دوست نہیں دشمن ہیں ۔جووفاق کی مضبوطی کویقینی اورپاکستان میں بکھرے ہجوم کوایک قوم بنا ئے وہی سچاقائداورہمارانجات دہندہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں  ارفع کریم سے ملا لہ یو سفزئی تک

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker