انور عباس انورتازہ ترینکالم

وفاقی محتسب کا تقرر ………… شکریہ صدر مملکت

وفاقی محتسب کے ان تمام سائلین کو مبارک ہو جنہوں نے سرکاری محکموں کے ناخداؤں (افسران اور اہلکاران )کے ظلم و زیادتی کے خلاف داد رسی کے لیے وہاں درخواستیں گذاری ہوئی تھیں اور عرصہ دو اڑھائی سال سے انصاف کے طلب گار تھے…مبارک ہو انہیں کہ خدا نے ان کی دعائیں سن لیں ہیں …..اور اس خدا ئے بزرگ و برتر جس کے قبضہ قدرت میں ہماری اور صدر مملکت سمیت سب حکمرانوں کی ں ان عزیز ہے نے ہمارے منتخب صدر مملکت کے دل میں وفاقی محتسب کے تقرر کا خیال پیدا فرمایا اور صدر مملکت جناب آصف علی زرداری نے ان کے دکھوں کا مداوا کرتے ہوئے مستقل نہ سہی قائمام وفاقی محتسب کا تقرر کر دیا ہے گو صدر مملکت کواس تقرری کا خیال دوسال سے زائد طویل صبر آزما عرصے کے بعد ہوا ہے….. وہ کہتے ہیں ناں دیر آید درست آید کے مصداق ہم صدر مملکت جناب آصف علی زرداری کے بے حد ممنون ہیں کہ انہوں نے اپنی رعایا کا خیال کر ہی لیا…..کہتے ہیں ناں صبح کا بھولا شام کو گھر واپس آ جائے تو اسے بھولا ہوا نہیں کہتے……بڑے لوگوں کے کام بھی بڑے ہوتے ہیں اور ان کے کرنے کے کام بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں اس لیے بعض اوقات یہ بھول بھی جاتے ہیں جیسے نیب کے پراسیکیوٹر جنرل آدم خان مسلم لیگ نواز کے صدیق الفاروق کو گرفتار کرنے کے بعد انہیں بھول گے تھے اور کئی سال صدیق الفاروق جیل کی کال کوٹھڑی میں پڑے سڑتے رہے….اگر صدر زرداری یا ان کے وزرا وفاقی محتسب کی تقرری کرنا دو سال تک بھولے رہے تو کیا ہوا…….اس کیس میں اکیلے صدر زرداری ہی نہیں میرے نزدیک آئین اور قانون کی پاسداری کے بلند بانگ دعوے کرنے والے سب لوگ قصور وار ہیں ……..وہ اس لیے کہ انہوں نے دوسال تک آئین کی بے حرمتی کوکیوں برداشت کیا..؟.چھوٹی موٹی باتوں پر سو موٹو نوٹس لینے میں تو لمحہ بھر کی تاخیر گوارا نہ کی لیکن اس کیس پر ان کی’ ’خاموشی بڑی معنی خیز ‘‘ہے… اس کے علاوہ تمام نجی چینلز اور اخبارات کے وہ ’’دبنگ قسم کے‘‘ صحافیوں اور اینکر پرسن جن نظروں سے کچھ بھی نہیں چھپا رہ سکتا …… انکی عقاب نظروں سے یہ کیس اوجھل کیسے رہا..؟.کسی ایک نے بھی اس حوالے سے کوئی ایک پروگرام نہیں کیا…. کیوں ؟.اس حوالے سے یہ بندہ نا چیز فخر سے کہہ سکتا ہے کہ ’’خاص لوگ ‘‘نے ایک بار نہیں کم بیش تین چار بار کالم لکھے اور اس آئینی خلاف ورزی اور ستم گری پر احتجاج کرتے ہوئے صدر محترم کی توجہ اس اہم کام کی جانب مبذول کرانے کی اپنے تئیں کوششیں کیں اور الحمد للہ اس مقصد بلکہ کار خیر میں نہ صرف اپنا حصہ ڈالا بلکہ کامیاب بھی ہوا ہوں….اس سلسلے کا پہلا کالم میں نے 18 جون 2011 کو لکھا جس کا عنوان ’’ وفاقی محتسب کے تقرر میں تاخیر ……کیوں ‘‘اس کالم میں لکھا تھا ’’وفاقی محتسب کا ادارہ ایک آئینی ادارہ ہے اور وفاقی محتسب کا تقرر بھی ایک آئینی تقاضہ ہے.لیکن آپ حیران ہونگے کہ ہمارے پیارے پاکستان میں گذشتہ ساڑھے نو مہینوں سے یہ ادارہ بغیر محتسب کے کام کر رہا ہے بغیر سربراہ کے لاہور پشاور کوئٹہ کراچی فیصل آباد اور حیدر آباد سمیت دیگر بڑے اور اہم شہروں میں قائم ریجنل دفاتر بدستور اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں.اور سائلین کی درخواستوں پر فیصلے بھی صادر کیے جا رہے ہیں مگر ان فیصلوں کے باوجود لاکھوں کی تعداد میں سائلین ذلیل و خوار ہو رہے ہیں.اس کی وجہ یہ ہے کہ وفاقی محتسب جناب جاوید صادق محمود ملک گذشتہ برس ستمبر ( ستمبر دو ہزار دس)سیریٹائرڈ ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک ان کے جانشین نئے وفاقی محتسب کا تقرر عمل میں نہیں آ سکا…ساڑھے نو ما ہ گزر نے کے باوجود نئے وفاقی محتسب کا کے تقرر کی راہ میں کیا چیز رکاوٹ ہے..وفاقی محتسب کے تقرر میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے ؟ یہ بھی ایک دلچسپ اور عجیب کہانی ہے…..وہ یہ کہ وفاقی محتسب کے ذرائع بتاتے ہیں کہ نئے وفاقی محتسب کا تقرر صدر مملکت جناب آصف علی زرداری کی طرف سے کیا جانا ہے.اور وہ اس منصب کے لیے سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کا تقرر چاہتے ہیں مگر کچھ حلقے ایسا نہیں چاہتے اور کچھ حلقوں کی خوائش ہے کہ اس منصب کے لیے سابق جسٹس سپریم کورٹ جناب خلیل الرحمان رمدے کی تقرری کی جائے……اس کے باوجود ارباب اختیار کے کانوں تک جوں نہ رینگی تو ایک بار میں نے اپنے قلم کو حرکت دی اور ایک کالم اور لکھا اور یہ کالم جولائی دو ہزار گیارہ میں شائع ہوا اس کالم میں میں نے لکھا کہ وفاقی محتسب کے تقرر میں تاخیر اس وں ہ سے ہو رہی ہے کہ صدر مملکت اس منصب کے لیے عثمان فاروقی(سلمان فاروقی) کی بطور وفاقی محتسب تقرری چاہتے ہیں جب کہ ایک عدالتی شخصیت سابق جج سپریم کورٹ جناب خلیل الر حمان رمدے کا تقرر چاہتی ہے‘‘ اس سلسلے کا تیسرا کالم بھی لکھا گیا ا ور اس کالم کا بھی عنوان ’’ وفاقی محتسب کے تقرر میں تاخیر‘‘ تھا اس میں میں نے لکھا کہ ’’ ہمارا کیا بنے گا؟ ہم کدھر جا رہے ہیں ؟ہم اور ہمارے حکمران اس ملک کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ کم از کم مجھے تو اسکی سمجھ نہیں آ رہی ہے….شائد آپ لوگوں کو آ رہی ہو…… وفاقی محتسب کا ادارہ عوام کے مسائل اور شکایات کے ازالہ کے لیے معرض وجود میں لایا گیا تھا…مگر پچھلے ایک سال سے یہ ادارہ لوگوں کے لیے وبال جان بنا ہوا ہے…..وفاقی محتسب جناب جاوید صادق ملک گذشتہ برس ستمبر سے اپنے عہدے سے ریٹائرڈ ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک ان کے جانشین کا تقرر ی عمل میں نہیں لائی جا سکی(جب یہ کالم لکھا تھا تو اس وقت مدت چودہ مہینے ہو
چکی تھی) اسی کالم میں آگے چل لکھا کہ ’[اب تو سنا ہے کہ کسی محب وطن پاکستانی کی جانب سے سپریم کورٹ کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا جا چکا ہے اور اس رٹ پٹیشن کے ذریعہ عدالت عظمی سے وفاقی محتسب کا تقرر نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی استداعا کی گئی ہے‘‘ میں نے آگے جاکر کچھ یوں بھی لکھا کہ ’’ میری سمجھ میں آج تک یہ بات نہیں آ سکی کہ آخر حکومت اور خصوصا وزارت قانون یا استبلشمنٹ ڈویژن اس قسم کے حربوں سے کیا نتائج اخذ کرنا چاہتا ہے؟آئینی اداروں کے سربراہان کے تقرر میں تاخیر سے وہ اپنے کن مقاصد کی تکمیل چاہتے ہیں؟کیا وہ نہیں جانتے کہ آزاد اور بیدار عدلیہ کی موجودگی میں اس قسم کے اقدامات کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں ؟پہلے بھی نیب کے چئیر مین کے تقرر میں بھی خاصی غفلت برتی جا چکی ہے ……چلو نیب چیئرمین کے مسلہ پر کہا جا سکتا ہے کہ اپوزیشن سے مشاورت میں دیر سویر ہو گئی ہے.. مگر وفاقی محتسب کے تقرر میں تاخیرکے اسباب کیا ہیں.اور اس تقرر ی کی راہ میں کون سے عوامل حائل ہیں؟ آگے چل کر میں نے صدر اور وزیر اعظم سے وفاقی محتسب کی تقرری میں تاخیر کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا اور آخر میں لکھا کہ ’’جناب صدر اور جناب وزیر اعظم صاحب اس جانب بھی دھیان دیں کہ جمہوریت کہتے ہی عوام کی خدمت کو ہیں اور جمہوری حکومت بھی عوام کی خدمت کرنے والی اور ان کی تکالیف اور دکھوں کا مداوا کرنے کو کہا جاتا ہے…جناب صدر مملکت …..جناب وزیر اعظم صاحب ورنہ …پھر نہ کہنا کہ خبر نہیں ہوئی؟‘‘ مجھے بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اس کالم کی اشاعت کے بعد بھی سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے کوئی سوموٹو نوٹس نہ لینا میرے لیے کسی بھیانک خواب سے کم نہ تھا …..کتنی حیران کن بات ہے کہ وفاقی محتسب کے تقرر کے لیے جو رٹ پٹیشن سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی اسے بھی شرف سماعت حاصل نہ سکا……. اور نہ ہی ایوان اقتدار میں بیٹھے ارباب عقل دانش اپنی ڈگر سے ٹس سے مس ہوئے….. ابھی دو ماہ قبل میں نے ایک اور کالم میں عوام الناس کو خوشخبری دی کہ بالاآخر دو سال کے بعد حکومت نے وفاقی محتسب کے منصب کے لیے سابق چیف جسٹس آف پاکستان جناب عبدالحمید ڈوگر کے تقرر کی منظوری دیدی ہے لیکن اب صدر مملکت کی جانب سے اپنے سکریٹری جنرل جناب سلمان فاروقی کی بطور قائم مقام وفاقی محتسب کے تقرر کے لیے ایک آرڈیننس جاری کیا ہے اور ان کی تقرری ہو گئی ہے جناب سلمان فاروقی نے اپنے منصب کا چارج بھی سنبھال لیا ہے اور اپنے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ کوشش کر رہے ہیں کہ کوئی ایسا نظام وضع کیا جائے کہ محتسب کے پاس آنے والی درخواتیں 15 روز میں نمٹا دی جائیں سلمان فاروقی صدر مملکت کے جنرل سکریٹری کے عہدے پر بھی کام جا ری رکھیں گے جبکہ وہ وفاقی محتسب کے طور پر اضافی ذمہ داریاں نبھائیں گے سلمان فاروقی نے کہا کہ وہ یہ ذمہ داریاں دو ماہ کے لیے قبول کر رہے ہیں انہوں نے کہا ان کی خوائش ہے کہ ایسا نظام وضع کیا جائے کہ جو سائلین وکیل کرنے کی حثیت نہیں رکھتے انہیں انصاف صراہم کیا جا سکے نئے وفاقی محتسب نے اعلان کیا ہے کہ وہ بطور وفاقی محتسب کسی قسم کی تنخواہ وصول نہیں کریں گے…..ہمیں سلمان فاروقی صاحب کے جذبے کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے کہ وہ غریب عوام کے لیے اپنے دل میں درد کا خزانہ رکھتے ہیں……میں اپنی اور ان تمام سائلین کی جانب سے تہ دل سے کہتا ہوں کہ …شکریہ جناب صدر مملکت شکریہ

یہ بھی پڑھیں  سراج الحق کی ٹانگ پر چوٹ لگ گئی ،فوری طبی امداد دی گئی

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker