تازہ ترینکالم

حکمران اور عالمی میڈیا بھنگ کے نشے میں مست!

گزشتہ جون جولائی میں اراکان برما کے مسلمانوں پر قیامت گزر گئی جس پر دنیا بھر کے مسلمان دکھی ہیں ۔ ماضی کا برما اب میانمار کہلاتا ہے جس کی سات کروڑ آبادی میں مسلمانوں کی تعداد 35 لاکھ یعنی 5فیصد ہے۔ پچھلے ڈیڑھ ماہ کے اندر اراکان برما پر کیے جانے والے مسلم کش فسادات میں راکھینی بدھوں نے تقریباً 30ہزار کے قریب مسلمان شہید کردیے ۔10ہزار مسلمان لاپتہ ہیں جب کہ پانچ ہزار مسلمان خواتین پر مجرمانہ حملے کیے گئے ، لاکھوں مسلمان نقل مقانی کر چکے ہیں مسلمانوں کے سینکڑوں دیہات تباہ و برباد کر دیے گئے ہیں ،50مساجد شہید اور مسلمانوں کی پاک کتاب قرآن مجید کے نسخوں کی توہین کی گئی ستم یہ کہ جب مظلوم مسلمانوں نے بنگلہ دیش سرحد پر دریائے ناف پار کرنا چاہا تو بنگلہ دیشی فورسز نے فائرنگ کرکے ان کی کشتیاں ڈبودیں اسکے باوجود بھی 3لاکھ پناہ گزین بنگلہ دیش میں در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔
مسلم کش فسادات کا آغاز ایک بدھ لڑکی کے قبول اسلام سے ہواجس نے ایک مسلم نوجوان سے شادی کرلی ۔ ظالم راکھینی بدھوں نے لڑکی کو اغوا کرکے قتل کردیا اور لاش مسلمانوں کی آبادی میں پھینک دی اور مشہور کردیا کہ مسلمانوں نے بدھ لڑکی کی آبروریزی کر کے اس قتل کردیا ہے ۔18جون کو بدھ لڑکی سے ز یادتی اور قتل کے جرم میں عدالت نے3 مسلمان نوجوانوں کو سزا سنادی ۔ اس پر بھی بدھوں کی آتش غضب ٹھنڈی نہ ہوئی تو وہ آتشیں اور آہنی ہتھیارلے کر مسلم دیہاتوں پر چڑھ دوڑے ، نہتے مسلمان مرد عورتیں اور بچے ذبح کردیے گھروں اور دکانوں کو آگ لگادی حتکہ بے گناہ مسلمانوں کو زندہ دفن کردیا گیا ان شہدائے اسلام کی تصویریں بڑی درد ناک ہیں ، بدھوں نے 10مسلمانوں کو بس سے اتار کر قتل کردیا ان کا تعلق تبلیغی جماعت سے تھا انٹر نیٹ پر جلے ہوئے جسم معصوم بچوں کے لاشے وجلے ہوئے گھر اور لاشیں ایک ساتھ باندھ کر ڈرل سے سوراخ کرکے ہلاک کرنے کے دلدوز مناظر !700مسلمان نوجوانوں کے ہاتھ پیر باندھ انھیں سمندر میں پھینک دیا۔50دنوں میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا مگر جانوروں کے حقوق کا شور مچانے والے عالمی ادارے ناجانے کیوںبھنگ پی کر سورہے ہیں ۔
امن عالم کے اجارہ دارو بتلائو ذرا!
بہہ رہا ہے کیوں اراکانی مسلمانوں کا لہو؟
پاکستان میں اراکانی مسلمانوں سے اظہار یک جہتی کے لیے یوم احتجاج منایا گیا مگر حکومت پاکستان کو توفیق نہ ہوئی کہ وہ میانماری سفیر کو دفتر خارجہ بلا کر احتجاجی مراسلے اس کے حوالے کرتی ،جب پاکستان میں نیلوفر نے برمی مسلمانوں اور اپنی مظلوم بھانہوںکے حق میں احتجاج کیا تب میڈیا کو اشاروں پر نچانے والی PPPکی رہنما ڈاکٹر فردوس عاشق کہاں تھی کیوں نہیں احتجاج میں شامل ہوئیں ،خود کو بے بو کہلوانے والی ہماری پیاری سی وزیر حارجہ حناکھر ربانی کہاں سوئی ہوئیں تھیں،شیری رحمن کا کام کیا صرف امریکہ میں پیغام رسانی ہی رہ گیا ہے ۔عمران عر ف سونامی خان دن رات دن میاں برادران اور PPPکے خلاف زہر اُگلنے میں مصروف ہیں اور اپنی سیاست کو چمکا رہے ہیں ،وہ PML(N)اور PPPکے خلاف لانگ مارچ تو کر سکتے ہیںان کو اراکان برما کے آہیں کیوں نہیں سنائی دیتیں کیوں نہیں احتجاج کرتے ۔شہباز شریف وفاقی حکومت کیخلاف مینار پاکستان کے نیچے احتجاجی کیمپ تو لگا سکتے ہیںلیکن برما کے مظلوم مسلمانوں کی آہوں سے کیوںبے خبر ہیں۔اُدھر ترکی حکومت نے اسلامی حمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے میانماری سفیر کو ملک سے نکا ل دیا ہے نیز ترکی ،ایران اور متحدہ عرب امارات نے بین الاقوامی ادارے UNOسے مطالبہ کیا ہے کہ اراکانی مسلمانوں کے قتل عام کی غیر جانبدارانہ تحقیقا ت کروائی جائیںتاکہ ذمہ داران کو سزا دی جا سکے لیکن اقوام متحدہ کے سیکرٹری نے تباہی و بربادی کے بعد اپنا نمائندہ میانمار بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔حیرت کی بات ہے کہ میانمار میں انسانی حقوق اور جمہوریت کی علمبردار کی حیثیت سے عالمی شہرت رکھنے والی نوبل یافتہ رہنما آنگ سان سوچی حالیہ مظالم کے خلاف صدائے احتجا ج بلند کرنے کی بجائے الٹا یہ تسلیم کرنے کو ہی تیا رنہیں کہ برمی مسلمان برمی شہری ہیں وہ کہتی ہیں کہ یہ مسلمان محض یہاں کے رہائشی ہیںکہ کذب بیانی کی انتہا ہے جو برطانیہ کی اس بہو کے لیے شرمناک ہے یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ میانمار کی اکثریتی آبادی بدھ مت کی پیرو کا ر ہے جس کے بانی مہاتما بدھ کی تعلیمات انسان دوست تھیںوہ اپنے پیروکاروں کو تلقین کرتے تھے کہ وہ چلتے وقت نگاہ نیچی کر کے چلیں تاکہ ان کے پیروں تلے کوئی چیونٹی آ کر مسلی نہ جائے۔لیکن بدھ مت کے پیروکاروں نے اپنے روحانی پیشوا کی تعلیمات سے روگردانی کرتے ہوئے مسلمانوں کا خون بہانے کا معمول بنا لیا ہے میانمار ی حکومت نے مسلمانوں کو حج کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے مسلمانوں کے لیے اپنی شریعت کے مطابق زندگی بسر کرنی نا ممکن ہے ،شہری آزادیاں سلب کی جا چکی ہیں مسلمان سرکاری اجازت کے بغیر شادی نہیں کر سکتے اور دو بچے پیدا نہیں کر سکتے ،برمی بدھوں کی اسلام دشمنی برسوں سے چلی آ رہی ہے ۔
1050میں برمی بادشاہ نے بیاتوی نامی مسلم رہنما اور اسکے خاندان کو محض اس لیے قتل کر وا دیا کہ وہ اسلام کی تبلیغ کرتا تھا اس زمانے میں برما میں چین کے صوبہ ینان ﴿جسے بعض کالم نگار یونان لکھتے ہیں﴾اور ایران سے بھی مسلمان آ کر آباد ہوئے ،1658میں شہزادہ شجاع اپنے بھائی اورنگزیب سے شکست کھاکر برما پہنچا تو برما کے بادشاہ نے اسکی کثیر دولت کی لالچ میں مد د کی پیشکش کی اور اسی دوران بادشاہ نے شجاع کی بیٹی گل بانو سے زبردستی کی جس پر گل بانو نے خود کشی کر لی اس پر شجاع اور مقامی مسلمانوں نے احتجاج کیا جسکے نتیجے میں کئی مسلمانوں کو قتل کر دیا گیا اور ستمبر 1660میں بھی کئی مسلمان شہید کر دیے گئے عورتیں جیل میں بھوک سے مر گئیں یہ ظلم برما میں ان مسلمانوں پر کیا گیا جو ہندوستان سے آ کر آ باد ہوئے تھے اس کے بعد اورنگزیب کے جرنیل میر جملہ نے اراکان کو فتح کرکے مغل سلطنت میں شامل کر لیا ،1784میں اراکان پر پھر بدھوں کا قبضہ ہوا تو برمی بادشاہ نے ایک مسلمان بزرگ کو سور کا گوشت نہ کھانے پر شہید کر دیا ،تاریخ میں ہے کہ ان کی شہادت کے بعد گہری دھند کا سایہ 7روز تک چھایا رہاسورج دکھائی نہیں دیا حتکہ بادشاہ نے سر عام اپنے ظلم کی معافی مانگی تو دھند چھٹ گئی ،پہلی جنگ عظیم اور 1938میں بھی اراکانی مسلمانوں کا قتل کیا گیا جب برما نے برطانیہ سے جنگ لڑی تو برطانوی فوج کی گولیوں کے سامنے مسلمانوںکو باندھ کر کھڑا کر دیتے تھے۔1978ئ میں برما کی فوجی حکومت میں مسلمانوں کا لہو بہایا گیا ،مارچ 1997ئ میں ڈیڑھ ہزار بدھوںنے مسلمانوں کی آ بادی پر حملہ کر دیا اور مساجدکو شہید کر دیا قرآن پاک کی بے حرمتی کی گئی گھروں کو مسمار کر دیا 2001میں تانگو میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا تب سے لے کرآج تک عالمی میڈیا اندھا بنا ہوا ہے ،اسلام دشمنی پر مبنی معمولی واقعہ کوبڑھا کر چڑھا کر پیش کرنے والے میڈیا نے اسلام دشمنی کی انتہا کر دی ہے ،دن رات چمکتے دمکتے مسلمان کہلوانے کے دعویدار چینل مسلمانوں کا بہتا خون اور جلی لاشیں دکھانے کی تکلیف محسوس نہیں کر رہے کیوں؟دوسر ی طرف اخبارات کا حا ل بھی ان سے کم نہیںہے اس دوران جہاں چند پاکستانی کالم نگاروں نے اراکان ِبرما کی حالت زار پر ہمدردانہ اور حقیقت پسندانہ کالم لکھے وہاں بعض غلط فہمیاں بھی پیدا ہوئیں۔PPPپارٹی کے جیالے صحافی نصرت جاوید نے انٹرنیٹ پر آنیوالی مسلمانوںکے دلدوزقتل اور برمی شہدا کی تصویروں کو جعلی قرار دے ڈالا۔زہدہ حنا نے 2007میں جہاںعوامی مظاہرین کے خلاف فوجی حکومت کی ظالمانہ کاروائی میں بدھ لڑکیوں اور لڑکوں کے قتل پر ااپنی تحریر لکھی وہاںمظلوم اراکانی مسلمانوں پر طنز بھی کر ڈالا،کہ وہ قیام پاکستان کے بعد سے برما سے علیحدگی کی تحریک چلانے کے لیے پاکستان کا کندھا استعمال کرنا چاہتے تھے اور وہ بدھوں کے حالیہ مظالم پر وہ ایک جملہ بھی نہ لیکھ سکیں جبکہ آنگ سان سوچی کی تعریف کے پلندے باندھے ،میں نے امجد اسلام امجد کا ایک کالم پڑھا جس میں لکھا تھا کہ بدھ اکثریت کے رویے میں منفی تبدیلی تب رونما ہوئی جب طالبان نے بامیان میں گوتم بدھ کے مجسمے کو تباہ کر ڈالاایک پروفیسر صاحب کی یہ دلیل کس قدر کمزور ہے کہ برما کے مسلم کش فسادات کا سلسلہ تو صدیوںسے جاری ہے جبکہ طالبان نے یہ حرکت 2000ئ میں کی!

یہ بھی پڑھیں  کراچي:ٹريفک حادثات ميں تين افراد ہلاک اور ايک درجن زخمي

یہ بھی پڑھیے :

2 Comments

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker