تازہ ترینکالممحمد وجیہہ السماء

دہشت گردی ،صدر کا عزم ،الیکشن اور عوام

MUHAMMAD WAJI- US- SAMAپاکستان نے جب سے امریکی جنگ میں خود کو ’’اہم اتحادی‘‘ کا نام دلا کر اس میں شمولیت اختیار کی ہے تب سے ملک پر بم دھماکوں، خودکش حملوں اور دوسری مصیبتوں کا نا ختم ہو نے والا سلسلہ شروع ہو چکا ہے چاہے وہ پرویز مشرف کا دور ہو یا موجودہ جمہوری دور حکومت۔ جس میں جمہوی حکومت نے ووٹ تو اس جنگ سے ملک کو نکالنے کے نا م پر حاصل کیئے تھے اور عوام کے معیار زندگی کو بدلنے کے نعروں سے حاصل کئے تھے مگر وہ منصب اقتدار پر آ تے ہی تمام وعدے بھول چکی ہے جو اس نے اس غریب عوام سے کئے تھے کہ ہم ہر پاکستانی کا معیار زندگی بلند کر یں گے اس نام نہاد امریکی جنگ سے پاکستان کو الگ کریں گے روٹی کپڑا مکان کے نعرے کو عملی جا معہ پہنائیں گے اور ہر ایک کو روزگار میسر ہو گا۔ اس جمہوری دور حکومت کا تقا بلی جا ئز ہ لیا جا ئے تو یہ بات روز محشر کی طرح عیاں ہو تی ہے کہ اس دور حکومت میں عام آ دمی کی معیا ر زندگی میں بہتری آ نے کی بجائے ابتری آئی ہے لوڈ شیڈنگ،کرپشن، مہنگائی اور بنیادی ضرورت صنعت کی عدم فراہمی کی وجہ سے ہزاروں انڈ سٹریاں بند ہو چکی ہیں لاکھوں مزدور بے روز گار ہو چکے ہیں اور جو با قی بچی ہو ئی ہیں وہ بھی اپنی آ خری سا نسیں لے رہی ہیں کئی بزنس مین دوسرے ممالک میں سرمایہ کاری کر نے پر مجبور ہو چکے ہیں اور اکثرنے بنگلہ دیش اور انڈ یا میں اپنی سر کایہ کاری کر لی ہے تو دوسری طرف امریکی جنگ سے پاکستان کو نکالنے کا وعدہ بھی پورا نہیں ہوا جس میں پاکستان نے 4000/سے زائد پاکستانی فوجی شہیدہو چکے ہیں اور پاکستا ن نے اربوں ڈالر اس نا م نہاد جنگ میں دھو نس دیئے ہیں ، جس سے پاکستان کی معیشت پر بوجھ بڑ ھ گیا ہے اور بیرو نی قر ضوں میں بھی بے پنا ہ ا ضا فہ ہو رہا ہے جب کہ دوسری طرف عام آ دمی کو روٹی نصیب ہوئی ہے اور نہ ہی کپڑا مکان نصیب ہوا ہے اگر کچھ ہوا ہے تو وہ صرف عام آ دمی کو ذہنی اذیت، کوفت اور مہنگائی کا طو فان نصیب ہوا ہے دوسری طرف کرپشن نے ملکِ پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کیا ہے اور چیئرمین نیب نے بھی اس پر بات کر تے ہو ئے کہا ہے کہ حکومت کا یہ ماننا کہ ملک میں روزانہ 6/7ارب روپے کی کر پشن ہو رہی ہے بلکہ ا س سے بھی زیادہ ہو رہی ہے 12/13ارب روپے کی روزانہ کرپشن ہو رہی ہے جو ملک کی معیشت کو تہس نہس کرنے میں اپنا کر دار ادا کر رہی ہے اس کے ساتھ ساتھ ادارے بھی اپنی زندگی کے آ خری ایام پورے کر تے نظر آ رہے ہیں پی آ ئی اے ریلوے، پی ایس او اور دوسرے بہت سے ادارے ملک کی معیشت پر بوجھ بن کر رہ گئے ہیں تو دوسر ی طرف رہی سہی کسر لوڈ شیڈ نگ گیس کی کمی نے ملک کو اندھیرے میں دھکیلنے میں اپنا کر دار ادا کیا ہے ان سارے مصائب کے باوجود صدر آ صف علی زرداری نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ دنیا دہشت گردی کے خلاف جنگ ہا رہی ہے مگر ہم اسے لڑیں گے پاکستانی عوام ان کے اس اظہار کے بعد عجیب سی کشمکش میں مبتلا نظرآ رہی ہے کہ ایکطرف حکومت طالبان سے مذاکرات کا ایجنڈا طے کر نے میں مصروف نظر آ رہی ہے اور اے این پی نے بھی ا س بات پر زور دیتے ہوئے اسے ملک کی سلامتی کی بقاء قرار دیا ہے اور اسی مقصد کے لئے ال پارٹی کانفرنس کا بھی انعقاد کیا اور حکومت بھی اس بارے میں غور و فکر کر رہی ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ حکومت اس جنگ کو بھی جاری رکھے اور مذاکرات کی ٹیبل پر بھی بیٹھے۔ یہ سوال ہر صاحب ضمیر انسان کے ذہن میں آ رہا ہے کہ صدر پاکستان نے یہ اظہار کیوں کیا حالانکہ پاکستان نے اس نام نہاد امریکی جنگ میں اپنا تن من دھن لٹایا ہے اور پھر بھی امریکہ اسے اتحادی تو قرار دیتا ہے مگر اس پر آ ج اعتماد کر نا منا سب نہیں سمجھتا جب کہ نام نہاد جنگ کے خلاف کا علمبردار امریکہ بھی اپنی بقاء اسی میں محسوس کر رہا ہے کہ وہ کسی طرح افغانستان سے نکلتے ہوئے خود کو محفوظ راستہ دینے کے لئے افغانستان میں موجود طالبان سے مذاکرات کر ے تا کہ وہ اسے محفوظ راستہ دے دیں مگر پاکستان کیوں اس امریکی جنگ کو لڑنے کاعز م دھرا رہا ہے اور کیوں ہم پرائی جنگ میں اپنا تن من دھن ضائع کر رہے ہیں اپنے فوجی جوان شہید کروا رہے ہیں جب کہ دوسری طرف الیکشن کی آ مد آمد ہے اور پارٹیوں میں جو ڑ توڑ کا سلسلہ بھی عروج پر ہے سیاستدان اپنی اپنی آ خری تنخوا ہ وصول کرکے دوسری پارٹیوں میں شمولیت اختیارکر رہے ہیں اور جب تک انتخابات نہیں ہوتے یہ جوڑ توڑ اور پارٹیاں بدلنے کا موسم اپنے عروج پر نظر آ ئے گا ہر کوئی پرانی پارٹی کو برا بھلا کہہ کر نئی پارٹی کو پاکستان کی بقاء اور سلامتی کی ضمانت قرار دے رہاہے مگر اس سارے کام میں کہیں بھی عوام کے مفا د کا نام نہیں آ یا نہ ہی اس میں عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کے حوالے سے حکومتی مو قف سامنے آ یا ہے اور نہ ہی اپوزیشن جماعتوں نے اس حکومت سے نعرہ حق بیان کر نے کی کو شش کی ہے اور نہ ہی آ ئندہ ایسا کچھ محسوس ہو رہا ہے جماعتیں اجتماعی اور ملکی مفاد کی حفا ظت کی بجائے ذاتی مفاد کو حاصل کر نے میں اپنی بقاء سمجھے ہو ئے ہیں کوئی بھی عوام کے حقوق کے لئے آ واز بلند کر نا اپنے لئے رسوائی کا با عث سمجھتا ہے مگر اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی عوام کو با شعور ہوکر اپنے لئے وہ لیڈر چننا ہو نگے جو حقیقی طور پر پاکستا نی عوام کی خدمت کر سکیں عوام کے لئے اقدامات کر سکیں جو ایک عام آ دمی کی زندگی پر بھی مثبت اثر ڈالیں اور معاشرہ باہمی یکجہتی کا ثبوت دے اور پاکستان کی عزت و بقاء کے لئے وہ اقد اما ت کر یں ا ب ڈور عوام کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اپنے لئے کون سے لیڈر چنتی ہے عوام کو اپنے ووٹ کا استعمال سو چ سمجھ کر کر نا ہو گا کہ کس جماعت نے عوام کے لئے کیا کیا کام کیا ہے پچھلے سالوں میں کون کون سی جماعت نے عوام کا دکھ اپنا محسو س کیا ہے اور کس نے صرف پرانے نعروں سے عوام کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے اب عوام کو نعروں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات کی نظر سے اپنے ووٹ کے حق کو استعما ل کر نا ہو گا کہ کس نے ان کو سہولیات فراہم کی ہیں اور کس نے ان کے منہ سے ان کے بچو ں کے منہ سے روٹی کا نوالہ چھننا ہے تا کہ پاکستان کا نام انٹر نیشنل سطح پر ایک با شعور، باہمت، تعلیم یافتہ اور پر امن قوم کی طرح ہو سکےnote

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button