تازہ ترینغلام مرتضیٰ باجوہکالم

واپڈاملازمین دشمن نہیں، قوم کے ہیروہیں

چین ایجادات کے سبب ہمیشہ سرخیوں میں رہتا ہے۔دنیا جہاں الیکٹرک کار کو فروغ دینے کے خواب دیکھ رہی ہے وہیں چین نے الیکٹرک ہوائی جہاز کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا ہے۔چین نے الیکٹرک جہاز کا کامیاب مشق کر لیا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ اب مستقبل الیکٹرک گاڑیوں کا ہی ہے تاہم الیکٹرک گاڑیوں کا انقلاب برپا ہونے سے پہلے حکومتوں کو اس ضمن میں پالیسی فیصلے کرنا پڑیں گے تاکہ الیکٹرک گاڑیوں کے لئے مناسب حدود و قیود کا تعین ہو سکے۔
 واپڈا”گیپگو، لیسکو،فیسکو سمیت دیگر الیکٹرک کمپنیوں کے سربراہوں،افسروں، ملازمین“ کی ملکی ترقی میں عظیم خدمات، قربانیوں ہیں۔جن کی بدولت آج پاکستانیوں نے دنیا میں بھر عظیم کارنامے سرانجام دیے۔ لیکن افسوس ہمارے ہاں چند نااہل، کرپٹ ملازمین، جاگیرداروں،بااثر شخصیات کی لوٹ مارسے ہر روزان اداروں کو بدنام کرنے کیلئے حادثات، بجلی چور،لوڈشیڈنگ سمیت دیگر خبر یں ہمیشہ سرخیوں میں رہتی ہیں۔تاریخی حوالے سے پاکستان واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کا قیام پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے ذریعے 1958 میں عمل میں لایا گیا تھا۔ یہ وفاقی حکومت کے انتظامی کنٹرول میں ایک خودمختار اور قانونی ادارہ ہے۔ اتھارٹی ایک چیئرمین اور تین ممبروں (پانی، بجلی اور فنانس) پر مشتمل ہے۔ سال 2007 میں واپڈا کو غیر منقطع کیا گیا تھا جس کے تحت اس کے پاور ونگ کے افعال کو بجلی گھروں کے ہائیڈل پاور جنریشن اور آپریشن اینڈ مینٹیننس (O&M) کے طور پر نئی شکل دی گئی تھی۔ اپنے پاور ونگ کو ختم کرنے کے بعد، واپڈا کا مینڈیٹ اب موثر انداز میں پانی اور پن بجلی کے وسائل کی ترقی کر رہا ہے۔پانی اور پن بجلی کے دونوں شعبوں میں ملک کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے، پاکستان کو ترقی کے راستے پر کھڑا کرنے کیلئے، واپڈا نے آئندہ 3۔12 سال کے دوران پانچ کثیر جہتی واٹر اسٹوریج ڈیم تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ان ڈیموں کی تعمیر سے نہ صرف پانی کے شدید چیلنج سے نمٹنے میں مدد ملے گی بلکہ یہ ارزاں اور صاف ستھری پن بجلی پیدا کرے گی۔یہ منصوبے نہ صرف قومی سطح پر فائدہ مند ہوں گے بلکہ ملک کے دور دراز اور کم ترقی یافتہ خطوں کی ترقی کے لئے بھی کارآمد ثابت ہوں گے جہاں وہ واقع ہیں۔
 حقیقت یہ ہے کہ اگر کسی مقام پر پانی اور برقی جیسے وسائل دستیاب ہوں تو وہاں آسانی سے زندگی گذاری جاسکتی ہے، ترقی کیلئے برقی اور پانی اہمیت کے حامل ہیں۔ بجلی چوری کا خاتمہ،نئے ڈیموں کی تعمیرسے زراعت، صنعت،طب،ہر میدان میں انقلاب برپا ہوگا۔ بجلی کی بچت کے اصولوں پر عملدرآمد سے سسٹم کو کامیاب بنانے میں کافی حد تک مدد کی جاسکتی ہے اس میں خود صارفین کا بھی فائدہ ہے اور ملکی معیشت کو بہتربنانے میں مصروف حکومت کی معاونت بھی ہوگی۔ واپڈا کی بہتری کیلئے موجودہ حکومت کے اقدامات سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ یہ ادارہ ایک بار پھرکروڑوں انسانوں کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی میں کامیاب ہوگا۔ اور دنیا بھر میں پاکستان ایک عظیم مقام ہوگا کیونکہ 2019میں اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلی کانفرنس (COP25) میں شروع کیا گیا ایک نیا عالمی ماحولیاتی سہولت (جی ای ایف) گلوبل ای موبلٹی پروگرام، ایکس این ایم ایکس ایکس کے ترقی پزیر ممالک کے ابتدائی سیٹ کو ہوا کے معیار میں بہتری اور فوسیل ایندھن کی انحصار کی حمایت میں، پیمانے پر برقی گاڑیاں تعینات کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔ یورپی کمیشن کے نئے ای موبلٹی حل پلس پروجیکٹ کے تعاون سے میڈرڈ میں شروع کیا گیا نیا امریکی $ 33 ملین پروگرام، ترقی پذیر ممالک میں بجلی کی نقل و حرکت کو فروغ دینے اور اس میں تیزی لانے کیلئے پہلی عالمی، مربوط کوشش کی نمائندگی کرتا ہے۔یہ افریقہ، ایشیا اور بحر الکاہل، اور لاطینی امریکہ اور کیریبین میں بجلی کی نقل و حرکت کی منتقلی کے لئے تین علاقائی پلیٹ فارم بھی تشکیل دے گا۔ابتدائی ممالک جو جی ای ایف گلوبل ای موبلٹی پروگرام میں حصہ لیں گے انٹیگوا اور باربوڈا، آرمینیا، برونڈی، چلی، کوسٹا ریکا، کوٹ ڈی آوائر، ہندوستان، جمیکا، مڈغاسکر، مالدیپ، پیرو، سیچلس، سیرا لیون، سینٹ شامل ہیں۔ لوسیا، ٹوگو، یوکرین، اور ازبیکستان، بھوٹان، چلی، چین، کوسٹا ریکا، جورجیا، لاؤ پیپلز ڈیموکریٹک جمہوریہ، منگولیا، پیرو، اور جنوبی افریقہ میں پائیدار شہری نقل و حمل کے منصوبے شامل ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے مستقبل کو روشن کرنے کے لئے ملک پر قربان ہونے والے واپڈا سے منسلک اداروں کے شہداء کی قومی خدمات کے حوالے سے نئی نسل کو آگاہ کیا جائے کہ یہ لوگ آپ کے دشمن نہیں بلکہ آپ ہیروزہیں۔ ملازمین اور افسران قدرتی آفات، سخت گرمی،دھوپ میں قوم کی خدمات میں مصروف رہتے ہیں۔ جن کی بدولت آج پاکستان ترقی کے جدیددور شامل ہوچکا ہے۔شہداء کو خراج عقیدت، ملازمین کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے تعلیمی اداروں سمیت مختلف مقامات پر تقریبات اور بجلی کے بلوں پر آگاہی تحریریں شائع کی جائیں تاکہ نئی نسل میں واپڈا ملازمین کے خلاف نفرت کے بجائے،محبت اور احترام کا رشتہ قائم ہوسکے۔

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker