پاکستانتازہ ترین

18 گھنٹوں تک کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف گرمی سے نڈھال شہری سراپا احتجاج

اسلام آباد (بیورو رپورٹ)حکومت کی یقین دہانیوں کے باوجود دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک بھر میں بجلی کی روزانہ طویل دورانیے کی بندش کا سلسلہ جاری ہے جس سے روزے داروں کی مشکلات میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔ وسطا 18 گھنٹوں تک کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف گرمی سے نڈھال شہری سراپا احتجاج ہیں اور پیر کو بھی کئی علاقوں میں مشتعل مظاہرین نے جلا گھیرا کا سلسلہ جاری رکھا۔ ملتان ، گوجرانوالہ ، کے علاوہ پشاور میں بجلی لوڈشیڈنگ کے خلاف لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا پشاور میں اور رنگ روڈ اور موٹروے کو ٹریفک کے لئے بند کردیا. پشاور میں علاقہ اچینی بالا میں رنگ روڈ پر لوگوں نے بجلی لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا. مظاہرین نے رکاوٹیں کھڑی کرکے رنگ روڈ کو ہرقسم ٹریفک کیلئے بند کیا. مظاہرین نے حکومت اور پیسکو حکام کے خلاف نعرہ بازی کی. پشاور کے ساتھ نوشہرہ کے ملحقہ علاقوں اکبرپورہ، گڑھی مومن، جبہ داو دزئی اور کیمپ کورونہ میں بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف موٹروے پر احتجاجی مظاہرہ کیا. مظاہرین نے گاڑیوں کے شیشے توڑ ڈالے اور موٹروے کے دونوں اطراف کو ٹریفک کے لئے بند کردی۔ دریں اثناتوانائی کا بحران حل کرنے میں ناکامی پر پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنانے والوں میں خود حکمران جماعت کے بعض رہنما بھی شامل ہیں۔ان میں قومی اسمبلی کے رکن ندیم افضل گوندل نے دھمکی دی ہے کہ اگر غیر مساوی لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ بند نا ہوا تو وہ پارلیمان کی رکنیت سے احتجاجا مستعفی ہو جائیں گے۔ندیم افضل نے کہا کہ چونکہ بیشتر اراکین پارلیمان خود صنعت کار ہیں اس لیے اس شعبے کو دوسروں کی نسبت کم مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ توانائی کے بحران سے کاشت کار سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔آج اس ملک میں غذائی تحفظ ہے تو کاشت کاروں کی وجہ سے ہے، جو چیزیں وہ پیدا کر رہے ہیں وہی آپ کے ملک میں ہے اور کوئی چیز آپ کے پاس نہیں ہے … غیر ملکی سرمایہ کار آپ کے ملک میں نہیں آ رہی تو اگر آپ زرعات کو ہی تباہ کر دیں گے تو پھر ملک کیسے چلے گا۔۔وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی احمد مختار نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ چشما دوم جوہری تنصیب سے اتوار کو بجلی کی پیداوار دوبارہ شروع ہونے سے قومی گرڈ میں 300 میگا واٹ بجلی کی بحالی سے صورت حال میں بہتری آئے گی جب کہ ان کے بقول حالیہ دنوں میں مجموعی طور پر 800 میگا واٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل کی جا چکی ہے۔تاہم سرکاری عہدے داروں کا کہنا ہے کہ رواں سال موسم سرما کے طوالت اختیار کرنے کے باعث دریاں میں پانی کے بھا میں کمی نے پن بجلی کی پیداوار کو متاثر کیا ہے، جب کہ قدرتی گیس کی کمی اور تیل سے چلنے والے بجلی گھروں کو مالی وسائل کی عدم دستیابی کی وجہ سے ایندھن کی فراہمی میں مشکلات نے بھی ان کی پیداواری صلاحیت کم کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  پنجاب کابینہ آج حلف اٹھائیگی، 10ممکنہ وزرا کے نام طے کرلئے گئے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker