پروفیسر رفعت مظہرتازہ ترینکالم

وقتِ دعا ہے

یہ آپس میں لڑنے جھگڑنے، طعنہ زَن ہونے اور ایک دوسرے کو موردِالزام ٹھہرانے کا نہیں، وقتِ دعا ہے کہ یہ مملکتِ خُداداد ہے۔ یہ الگ بات کہ ہماری دعائیں بھی بارگاہِ ربی میں مستجاب نہیں ہوتیں کہ ہم اپنی سرکشی میں بنی اسرائیل سے بھی آگے نکل چکے۔ وہ بنی اسرائیل جو کبھی اللہ کے محبوب ہوا کرتی تھی، جس پر من وسلویٰ اآتارا گیا، جس کے سر پر بادلوں کا سایہ کیا گیا، جس کے لیے شہر مسخر کیا گیا اور جسے زمینی خُدا فرعون کے جوروستم سے صاف بچا لیا گیا۔ اتنی عنایات کے باوجود بھی جب یہ قوم اپنی سرکشی سے باز نہ آئی تو اُسے ہمیشہ کے لیے راندہئ درگاہ کر دیا گیا کہ رَب کی رسی دراز سہی مگر اُس کی پکڑ اُتنی ہی سخت۔
آج پوری دنیا زمینی خداؤں کے پنجہئ استبداد میں ہے لیکن شاید وہ بھول چکے کہ محض ایک مچھر نے نمرود کی ناک میں گھُس کر اُس کا کیا حشر کیا۔ وہ زمینی خُدا مچھر کی بھنبھناہٹ سے تنگ آکر اپنے سر پر جوتے لگواتا، جونہی جوتے لگنے بند ہوتے، مچھر پھر بھنبھنانے لگتا اور زمینی خُدا کو پھر اپنے سر پر جوتے لگانے کا حکم دینا پڑتا۔ وہ جوتے کھاتا کھاتا بالآخر واصلِ جہنم ہوگیا۔ قومِ عاد، قومِ ثمود، قومِ لوط اور قومِ نوح کا حشر سب کے سامنے لیکن سبق کوئی نہیں لیتا نہ عبرت پکڑتا ہے۔ دَورِ جدید کے زمینی خُداؤں کو بھی کورونا جیسے ایک ایسے بے رنگ، بے بُو وائرس کا سامنا ہے، جو نظر تو نہیں آتا لیکن جب، جہاں اور جیسے جی چاہتا ہے بغیر آہٹ کے انسانی جسم میں گھُس کر اپنے وجود کی یوں منادی کرتا ہے کہ جیسے یہ گھڑی محشر کی ہے اور ہم عرصہئ محشر میں ہیں۔ نفسانفسی کا یہ عالم کہ بیٹا باپ سے دور بھاگتا ہے، ماں اپنے لختِ جگر کا مُنہ چومنے سے ڈرتی ہے، بھائی،بھائی کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور شوہر بیوی سے فاصلہ رکھتا ہے۔ اِس نظر نہ آنے والے وائرس نے یہ فیصلہ بھی کر دیا ”میرا جسم میری نہیں، اللہ کی مرضی“۔ دائرہئ اختیار اِس کا اتنا وسیع کہ یہ رنگ دیکھتا ہے نہ نسل، بڑا دیکھتا ہے نہ چھوٹا، امیر دیکھتا ہے نہ غریب، شاہ دیکھتاہے نہ گدا۔ اِس نظر نہ آنے والے عفریت کے خوف کا یہ عالم کہ سارے کلب بند، سارے تعیش خانوں پر تالے، ترقی کا پہیہ جام اور سفر کے سارے ذرائع ساکت۔ کیا مسجد، کیا مندر، کیا چرچ، کیا بت خانہ، سب بند۔ میڈیکل سائنس بے بَس کہ ہر تحقیق وتدقیق کا نتیجہ صفر اور ستاروں پر کمندیں ڈالنے والے حیران وپریشان۔ پورے عالم میں خوف کی ایسی حکمرانی کہ بقول غالب
رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو
ہمسفر کوئی نہ ہو اور ہم زباں کوئی نہ ہو
پڑیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیمار دار
اور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو
موت پر قابو پانے کے زعم میں مبتلاء میڈیکل سائنس کی لیبارٹریوں سے اب یہ صدائیں بلند ہو رہی ہیں کہ کسی کو چھونا نہیں، گلے لگنا نہیں، قریب بیٹھنا نہیں، ہاتھ ملانا نہیں، مُنہ چومنا نہیں۔ الفت ومحبت کے سارے فسانے ہوا ہوئے اور آدمی سے آدمی بِدکنے لگا۔ کوئی مانے یا نہ مانے، حقیقت مگر یہی کہ یہ سب زمینی خُداؤں کے اعمال کا نتیجہ ہے۔۔۔۔۔ وہ زمینی خُدا جو ہم بھی ہیں اور تم بھی ہو۔ اِس”گلوبل ویلج“ پر نظر دوڑا کر دیکھ لیجئیے مَن حیث المجموع ابلیس کی عمل داری، استثنائی مثالیں خال خال۔ جب عالم یہ ہو تو پھر رَبّ کی بے آواز لاٹھی اُٹھتی ہے اور ابلیسیت کے علمبرداروں کو سبق سکھاتی ہے، کبھی زلزلوں کی صورت میں، کبھی سیلابوں کی صورت میں اور کبھی وباؤں کی صورت میں۔ یہ حضرتِ انسان کے لیے تنبیہ ہوتی ہے مگر ہم سبق حاصل کرنے کی بجائے اپنی عقل کے گھوڑے دوڑانے لگتے ہیں۔ عقل کا استعمال بجا لیکن جس نے یہ عقل عطا کی، اُس کا شکر ادا کرنا بھی لازم۔ ہم مگر دوا کی تگ ودَو کرتے ہیں، دعا کو بھول جاتے ہیں، شاید ہمیں دعا کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔ اختر شیرانی دنیا کا نقشہ بہت پہلے کھینچ چکے جو آج بھی اپنی پوری سچائیوں کے ساتھ موجود، کہا
اے عش کہیں لے چل اِس پاپ کی بستی سے
نفرت گہہ عالم سے، لعنت گہہ ہستی سے
اِن نفس پرستوں سے، اِس نفس پرستی سے
دور اور کہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
آکاش کے اُس پار اِس طرح کی بستی ہو
جو صدیوں سے انساں کی صورت کو ترستی ہو
اور جس کے نظاروں پر تنہائی برستی ہو
یوں ہو تو وہیں لے چل
اے عشق کہیں لے چل
چلیں! کورونا وائرس کو عذابِ الٰہی نہ سمجھیں، دعا کے لیے ہاتھ نہ اُٹھائیں، اپنے رَبّ کے سامنے گڑگڑاتے ہوئے گناہوں کی معافی نہ مانگیں لیکن یہ تو طے ہو گیا کہ سائنسی ترقی اور ستاروں پر کمند ڈالنے کے باوجود انسان فانی ہے اور بقا وفنا کے معاملے میں سائنس بے بَس۔ تو پھر کیا مذہبی نہ سہی، معاشی ومعاشرتی طور پر ہم اپنے رویے بدلنے کو تیار ہیں؟۔ کیا انسان لازمہئ انسانیت کو اپنی زندگی کا جزوِ لاینفک بنانے کو تیار ہے؟۔ کیا ہم باہمی اخوت ومحبت اور رواداری کے رشتے قائم کرنے کو تیار ہیں؟۔۔۔۔۔ جی نہیں! دیگر وباؤں کی طرح یہ وبا بھی ایک نہ ایک دن گزر جائے گی اور حضرتِ انساں سب کچھ بھول کر پھر اُنہی بے ڈھنگی راہوں پر چل نکلے گا جو اُس کی سرشت میں شامل ہے۔
انانیت کے پہاڑ کی چوٹی پر براجماں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیرِاعظم کو ابھی تک سمجھ نہیں آئی کہ یہ اناؤں کا نہیں، دعاؤں کا وقت ہے۔ اگر یہ تسلیم کر بھی لیا جائے کہ وہ سلیکٹڈ نہیں، الیکٹڈ ہیں تو پھر بھی اُن کے پاس لگ بھگ ایک چوتھائی جمہور کی نمائندگی ہے، باقی تین چوتھائی اپوزیشن کے پاس۔ جمہوری ملکوں میں یہی روایت کہ دشمن کے خلاف پوری قوم ایک صفحے پر ہو جاتی ہے لیکن ہمارے ”محبوب“ رَہنما خود ہی اتفاق، اتحاد اور یگانگت کو پارہ پاہ کرنے پر تُلے بیٹھے ہیں۔ اُنہیں یہ بھی ادراک نہ احساس کہ ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس نے پہلے ایک لاکھ انسانوں کو 67 دنوں میں نشانہ بنایا، دوسرے ایک لاکھ کو 11 دنوں میں، تیسرے ایک لاکھ کو 4 دنوں میں اور اگلے ایک لاکھ کو 2 دنوں میں۔ پھر حضرتِ انسان گنتی بھول گیااور اب اِس وبا نے 6 لاکھ انسانوں کو جکڑ رکھا ہے۔
پاکستان کے ڈاکٹرز اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیراگر صفِ اوّل میں کھڑے مسیحائی کا حق ادا کررہے ہیں تو کیا وزیرِاعظم اپوزیشن کے ساتھ ہاتھ بھی نہیں ملا سکتے؟۔ میرے تمام بچے (ایک بیٹا، تین بیٹیاں) ایک داماد اور بہوڈاکٹر ہیں جو ہر صبح اپنا فرض نبھانے ہسپتالوں کی طرف رواں ہوتے ہیں اور ہم گھر میں لرزاں بَراندام۔ اِس خوف سے تو صرف ایک ماں ہی آشنا ہو سکتی ہے، ہمارا وزیرِاعظم نہیں۔ اُسے تو قوم کو یہ سبق رٹانے سے فرصت نہیں کہ پاکستان ایک غریب ملک ہے۔ یہ کوئی امریکہ یا چین نہیں جس کے پاس بے پناہ وسائل ہوں، کورونا کے پھیلاؤ پر حکومت مریضوں کو سنبھال نہیں سکتی، عوام خود ہی احتیاط کریں۔ بجا، بالکل بجا! سوال مگر یہ کہ کیا اپوزیشن کو ساتھ بٹھانے کا بھی وسائل سے کوئی تعلق ہے؟۔ کیا اپوزیشن کو آواز دینے سے ہماری معیشت بیٹھ جائے گی؟۔ پوری اپوزیشن اُن کی دست وبازو بننے کو تیار لیکن وہ اِس دستِ تعاون کو حقارت سے ٹھکرا رہے ہیں۔ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی بھرپور کاوشوں کے سبب اپوزیشن، حکومت کے ساتھ ویڈیو لنک پر مشاورت کرنے کو تیار ہوئی تو یہاں بھی وزیرِاعظم کی اَنا نے اتحاد واتفاق کی فضاء کو پارہ پارہ کر دیا۔ اُنہوں نے ویڈیو لنک پر قومی اسمبلی کے پارلیمانی لیڈروں سے خطاب کیا لیکن جب قائدِحزبِ اختلاف میاں شہباز شریف کی باری آئی تو وزیرِاعظم صاحب اُٹھ کر چل دیئے۔ جس پر میاں شہباز شریف نے بھی کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا اور بلاول بھٹو زرداری جہ یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے تھے کہ وہ اِن حالات میں وہ وزیرِاعظم کے خلاف ایک لفظ نہیں بولیں گے، اُنہوں نے بھی کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا۔ شاید اپنی انا کے زیرِاثر وزیرِاعظم صاحب یہ بھول گئے کہ میاں شہباز شریف نے اِس وبا سے نپٹنے کے لیے اپنے تمام ہسپتال حکومت کو دینے کا اعلان کر رکھا ہے، امیرِجماعت اسلامی سراج الحق نے بھی یہ اعلان کیا کہ اِس وبا کے خاتمے تک جماعت اسلامی کے تمام ہسپتال حکومت کی ڈسپوزل پر ہوں گے۔ یہی نہیں بلکہ حکومت کے شدیدترین مخالف مولانا فضل الرحمٰن نے بھی اپنے 40 ہزار رضاکاروں کی خدمات حکومت کے سپرد کرنے کا اعلان کیا لیکن اِس دستِ تعاون کو جھٹکنے کے بعد اب وزیرِاعظم اپنی ”ٹائیگرفورس“ قائم کرنے جا رہے ہیں۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملکی حالات کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے، اپنی انا کو ایک طرف کیا اور چینی صدر کو فون کرکے اِس وبا کے بارے میں نہ صرف مشورہ کیا بلکہ وبا پر قابو پانے کے لیے چین کی طرف سے اُٹھائے گئے اقدامات پر گفتگو بھی کی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی قوم عزیز جبکہ ہمارے وزیرِاعظم کو اپنی انا۔ اُن کی ضِد اور انانیت کا یہ عالم کہ اگر کسی نے ملک میں لاک ڈاؤ ن کاصائب مشورہ دیا تو اناؤں کے رَتھ پہ سوار وزیرِاعظم نے پایہئ حقارت سے ٹھکرا دیا (یہ الگ بات کہ اُنہیں بہت جلد اپنا تھوکا چاٹنا پڑا)۔ اگر میڈیا نے بھرپور انداز میں اِس وبا کے خلاف تشہیری مہم کا اعلان کرتے ہوئے میڈیا کے کچھ معاملات پر نظرِ ثانی کے لیے کہا تو وزیرِاعظم صاحب نے پریس کانفرنس چھوڑ کر جانے کی دھمکی دے دی۔ جب یہ حالت ہو تو مورّخ اِس کے سوا کیا لکھ سکتا ہے کہ قیامت کی اِس گھڑی میں بھی ہمارا کپتان اپنی اَنا کا خول توڑ کر باہر نکلنے کو تیار نہ ہوا۔ ایسی انانیت، ضد، خودپسندی، خودستائی، خودنمائی اور نرگسیت دیکھی نہ سُنی۔

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker