امتیاز علی شاکرتازہ ترینکالم

وقتِ صفائی

صفائی ایساعمل ہے جس کے بغیرزندگی کاتصورہی دھندلاجاتاہے۔صفائی کی اہمیت کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ انسانی زندگی کاتقریباً15 فیصدحصہ گھر،دفتر،فیکٹری اورخارخانے وغیرہ کی صفائی میں گزرجاتاہے۔پاکستان وہ گھرہے جسے برصغیرکے مسلمانوں نے بے مثال جدوجہداورلاکھوں قربانیاں پیش کرکے دین اسلام کے مطابق آزادانہ زندگی گزارنے کیلئے حاصل کیا۔قیام پاکستان کے سترسال گزرچکے ہم نے کبھی اپنے گھرپاکستان کی صفائی کیلئے کردارادانہیں کیا۔راقم کے خیال میں جتنی عظیم جدوجہدتحریک آزادی پاکستان کی قیادت اورکارکنان نے کی اتنی ہی عظیم جدوجہدآج وطن عزیزکی صفائی ستھرائی کیلئے بھی درکارہے ۔بٹ کے رہے گاہندوستان ،بن کے رہے گاپاکستان،پاکستان کامطلب کیا لاالہ الااللہ محمدرسول اللہﷺ۔مسلمان اورہندویادیگرغیرمسلم کسی قیمت پرایک قوم نہیں ہوسکتے ۔قیام پاکستان سے قبل تحریک آزادی پاکستان کے کارکنان کامقبول ترین نعرہ پاکستان کامطلب کیا لاالہ الااللہ محمدرسول اللہ ﷺآج بھی پاکستان کی بنیاداورجان ہے۔راقم قوی یقین کے ساتھ کہہ سکتاہے کہ قائداعظم کوسیکولرکہنے والے اس سوال کاجواب نہیں دے سکتے کہ قائداعظم محمد علی جناح سیکولرتھے توپھرانہوں نے متحدبھارت کی بجائے مسلمانوں کیلئے الگ آزادملک کے قیام کیلئے جدوجہد کیوں کی؟قائداعظم آزادخیال ضرورتھے اسلام مخالف نہ تھے ۔ 25 جنوری 1948ء کراچی بار ایسوسی ایشن کو خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم ؒ نے رسول اللہ ﷺکو زبر دست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اْنہوں نے فرمایا ’’تیرہ سو سال قبل ہی حضورﷺ نے جمہوریت کی بنیاد رکھ دی تھی۔آپ ﷺ عظیم مصلح ، عظیم رہنما ،عظیم واضح قانون ، عظیم سیاست دان اورعظیم حکمران ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ جب ہم اسلام کی بات کرتے ہیں توکچھ لوگ پسند نہیں کرتے۔اسلام صرف رسوم‘ روایات یاروحانی تصورات کا مجموعہ نہیں ہے‘ اسلام ہر مسلمان کیلئے مکمل ضابطہ حیات ہے جس کے مطابق وہ اپنی روز مرہ زندگی‘ اپنے افعال و اعمال اور حتیٰ کہ سیاست و معاشیات سمیت زندگی کے تمام شعبوں میں عمل پیرا ہوتا ہے۔اسلام سب کیلئے انصاف‘ رواداری‘ شرافت‘ دیانت اور عزت کے اعلیٰ اصولوں پر مبنی ضابطہ حیات ہے۔ توحیدِ ربانی اور مساواتِ انسانی دین اسلام کے بنیادی اصول ہیں۔اسلام میں انسان، انسان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ مساوات، آزادی اوراُخوت اسلام کے اساسی اصول ہیں۔ اسلامی جمہوریت کے بنیادی اصولوں کی وضاحت قائداعظم ؒ نے سبی دربار (بلوچستان) میں 14فروری 1948ء کو اپنی تقریر میں یوں بیان فرمائی ’’میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات کا واحد ذریعہ اس سنہری اصولوں والے ضابطہ حیات پر عمل کرنے میں ہے جو ہمارے عظیم واضح قانون‘پیغمبر اسلامﷺنے ہمارے لئے قائم کر رکھا ہے۔ ہمیں اپنی جمہوریت کی بنیادیں سچے اسلامی اصولوں اور نظریوں پررکھنی چاہئیں‘‘اسلامی جمہوریہ پاکستان کوقائم ہوئے سترسال گزرچکے ہیں۔انتہائی کوشش اورگہری سازشوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کے فضل سے دشمن اسلامی جمہوریہ پاکستان کولبرل ریاست بنانے میں بری طرح ناکام و نامرادہیں۔جب بھی کسی فتنے نے سراُٹھایاپاکستانی مسلمانوں نے ڈٹ کرمقابلہ کیا،جانوں کے نذرانے پیش کرکے اپنے ایمان،وطن اورنظریات کی حفاظت کی ہے۔دورحاضر میں جب ایون میں موجودپاکستان کی تمام سیاسی مذہبی وغیرمذہبی جماعتوں کے اندرقادیانی اپنااثرقائم کرچکنے کے بعد ختم نبوتﷺ کے قانون پرحملہ آورہوئے تواللہ تعالیٰ کے فضل سے تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ پاکستان نے دشمن کے ناپاک ارادے خاک میں ملادیئے۔جس طرح قیام پاکستان سے قبل ہندوستان کی ہرگلی میں لگنے والے نعرے پاکستان کامطلب کیا لاالہ الااللہ محمدرسول اللہﷺکی گونج پوری دنیانے سنی ٹھیک اسی طرح آج لبیک یارسول اللہ ﷺکی صدائیں پاکستان کی پاک سرزمین سے پوری دنیامیں گونج رہی ہیں۔تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ پاکستان کے مرکزی رہنمامرشِد سرکار،عظیم روحانی پیشواسید عرفان احمدشاہ المعروف نانگامست صاحب فرماتے ہیں پاکستان کامطلب کیا لاالہ الااللہ محمدرسول اللہﷺ اورلبیک یارسول اللہ ﷺ دونہیں ایک ہی نعرہ ہے۔ تحریک لبیک پاکستان کامطلب ہے ۔تحریک کامطلب جماعت ،پارٹی،لبیک کامطلب حاضرہیں اورپاکستان کامطلب کیا لاالہ الااللہ محمدرسول اللہﷺ۔یعنی اللہ تعالیٰ کے احکامات اوررسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کی پیروی کرنے والی اسلامی جمہوریہ پاکستان کی زمینی اورنظریاتی سرحدوں کی محافظ جماعت۔قائد اعظم ؒ نے جس جمہوریت کی بات کی آج اسی جمہوریت کی بات تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ پاکستان کے مرکزی امیرعلامہ حافظ خادم حسین رضوی کررہے ہیں ۔اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اندرکفارکی جمہوریت کیلئے کسی قسم کی گنجائش نہیں ہے ۔اب پاکستان میں وہی جمہوریت قائم ہوگی جودین اسلام کی تابع داری کرے گی‘‘ مرشِد حضورنے دوسال قبل فرمایاتھاکہ جسمانی و روحانی صفائی کانظام موثراندازمیں چلتارہناہی زندگی ہے ۔ پاکستان سے تمام گندجلد صاف ہوجائے گا۔قیام پاکستان کے بعد ہم جسمانی طورپرکامیاب ہوچکے ہیں جبکہ روحانی صفائی ابھی باقی ہے۔ایسے وقت میں تحریک لبیک پاکستان کابطور سیاسی جماعت الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہونااورانتخابی نشان کرین الاٹ ہونا مرشِدسرکارکے فرمان کے عین مطابق وقتِ صفائی بہت قریب معلوم ہورہاہے۔کرین دورجدیدکی انتہائی طاقتورمشین ہے۔کرین کی ایجادنے دنیاکی ترقی میں جوکرداراداکیااسے کسی صورت فراموش نہیں کیاجاسکتا۔سالوں کے منصوبے مہینوں اورمہینوں میں مکمل ہونے والے منصوبے گھنٹوں میں مکمل کرناکرین کی بدولت ممکن ہوا۔کرین پرانی ،بوسیدہ عمارت کوگرانے سے ملبہ ٹھکانے لگانے اورپھربالکل نئی ،مضبوط اورضروریات کے مطابق عمارت تعمیر کرنے تک انتہائی مددگارمشین ہے۔دین اسلام سے دوری ،کرپشن،جھوٹ،لوٹ گھسوٹ اورناانصافی نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومتی (انتظامی)عمارت کی بنیادیں کھوکھلی کرکے انتہائی بوسیدہ اورخستہ حال بنادیاہے۔قادیانی نوازحکمران اپنے دم توڑتے اقتدارکی خستہ حال عمارت کوملکی سلامتی کے ضامن اداروں پرگرانے کی کوشش میں تمام حدیں توڑرہے ہیں تودوسری جانب اللہ تعالیٰ نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کوتحریک لبیک پاکستان کی شکل میں مسلمان ،سچی اورمخلص جماعت عطافرمادی ہے۔انتخابی نشان کرین بھی سونے پرسوہاگے کاکام کرے گا۔اب اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پھیلے اسلام اورپاکستان دشمن لبرل گند کی صفائی کے فوری بعد نئی اورمضبوط عمارت کھڑی کرناانتہائی آسان ہوجائے گا ۔وقتِ صفائی ہواچاہتاہے۔کرین پہلے صفائی کرے گی اورپھرپاکستان تیزترین ترقی اورخوشحالی کی منازل طے کرے گا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button