بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

وقت کا حال اور مستقبل کی چال

bashir ahmad mir logoرواں ہفتہ کے دوران وطن عزیز میں دہشتگردی کے دو اہم واقعات ہنگو اور لکی مروت میں ہوئے ،5 فروری کو یوم یکجئتی ملک گیر سطح تک منایا گیا،سیاسی لحاظ سے تحریک منہاج القران کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے تحریک انصاف سے انتخابی معاملات پر مذاکرات کئے اور انہوں نے پورے ملک میں انقلاب مارچ کے نام پر جلسے کرنے کا اعلان کیا،ن لیگ نے اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کو با اختیار کرنے کے لئے بھر پور دھرنا بھی دیا ،دوران ہفتہ کراچی میں ممتاز عالم دین سمیت درجنوں افراد ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوئے۔اس ہفتہ میں کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش بھی سامنے آئی جبکہ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ کی اطلاعات بھی ہیں۔
ہفتہ رفتہ میں سب سے اہم بات جو سر فہرست لائق توجہ و بحث ہے وہ ڈاکٹر طاہر القادری کی جانب سے انقلاب مارچ کا اعلان کہا جا سکتا ہے۔ڈاکٹر صاحب نے جس تیز رفتاری سے دھرنا دیا تھا اور اس کا جس طرح ڈراپ سین سامنے آیا تو بہت سی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ وہ اب کینیڈا واپس چلے جائیں گے ،مگر انہوں نے نظام بدلنے کی ٹھان رکھی ہے جس کا انکے اعلان کے مطابق انقلاب مارچ سے واضح اشارہ ملتا ہے۔اگرچہ سیاسی حلقوں میں ان کے بارے متضاد آراء موجود ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ انہوں نے حالات کا درست ادراک کرتے ہوئے جہد مسلسل پر تمام توانائیاں اور صلاحیتوں کو بروے کار لانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
بلا شبہ ملک مہنگائی،بے روزگاری ،غربت ،سماجی نا ہمواری ،معاشی تنزلی سمیت توانائی بحران اور دہشتگردی جیسے واقعات سے دوچار ہے اور اس سے عوام کا جینا دوبھر ہو چکاہے جس میں مجموعی طور پر سب سیاسی جماعتیں ناکام نہ سہی مگر کوئی حوصلہ افزاء کامیابی بھی حاصل کر نہ سکیں اس طرح پورے سماج میں مایوس کن صورت حال عیاں ہے۔جہاں تک انتخابات کا تعلق ہے اس میں ’’باری‘‘ کا نظریہ واضح نظر آ رہا ہے اور ہمارے سیاسی کلچر میں ابھی سنجیدگی بھی نہیں آ سکی ،ووٹر اب بھی اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ ڈالنے سے قاصر نظر آ رہا ہے کیونکہ ہماری اپر کلاس کسی طور لوئر کلاس کو آگے نہیں آنے دے گی یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری نظام بدلنے کی بات توکرتے ہیں مگر قریب قریب ایسا ہوتا دکھائی نہ دینا عوام کی بد قسمتی ہے ۔ہمارے سیاسی نظام میں کافی اصلاحات درکار ہیں سچی بات تو یہ ہے کہ اگر یہ کہا جائے کہ ہماری سیاسی عمر کتنی ہے تو اس کا جواب یہی ہے کہ صرف پانچ سال ’’موجودہ‘‘ مختصر عرصہ میں کسی بڑی تبدیلی کا امکان بھی کم ہے کیونکہ ہماری سیاسیات ،معاشیات اور دیگر اداروں میں جاگیر داروں ،نوابوں ،چوہدریوں ،وڈیروں اور بڑی کلاسز سے تعلق رکھنے والوں کا اثر و رسوخ اس قدر زیادہ ہے کہ ان کے بنے ہوئے جال کو توڑنا محال ہے۔اگر ملک کے مجموعی نظام پر نظر دوڑائی جائے تو ہر طرف یہی طبقہ کہیں نہ کہیں براجماں ہے ،جہاں کہیں اختلافات ہیں وہ بھی’’ سٹیٹس کو‘‘ کے اردگرد حصار رکھتے ہیں ۔ہر ادارہ ،ہر شعبہ اور ہر جماعت چاہئے وہ سیاسی ہو یا مذہبی شخصیات کے اردگرد گھومتی دکھائی دیتی ہے ،ہر ایک اپنے آپ کو درست سمت اور بہتر نظریہ کے حامل سمجھتا ہے ۔
ان حالات میں ڈاکٹر طاہر القادری کا انقلاب مارچ کا فیصلہ یقینی طور پر ہمارے سیاسی نظام میں بڑا بریک تھرو ثابت ہو گا ،اگرچہ ان کے پاس لاکھوں جانثار موجود ہیں مگر انہیں اپر کلاس کو توڑنے کے لئے کافی محنت ،حکمت اور تنظیم کی ضرورت ہے ،میرا وجدان کہتا ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری کی فکری مہم جاذب نظر ،دلوں کو ہلانے والی اور عوام کے نبض پر بر وقت ہاتھ رکھے جانے کی صلاحیت تو رکھتی ہے ،اگر عوام دوست طبقہ ان کا ساتھ دے تو سیاسیات میں مثبت تبدیلی کی کرن روشن مستقبل کی صورت میں نمودار ہو سکتی ہے ۔انہیں محض جلسے جلوس ،دھرنے اور ریلیوں پر وقت ضائع کرنے کے بجائے ہر حلقہ انتخاب سے ایسے با اثر ،با کردار اور عوام دوست نمائندوں کو ساتھ جوڑنا پڑے گا جو آمدہ انتخابات میں تبدیلی کا ذریعہ بن سکتے ہوں ۔ان کا تحریک انصاف سے ہمرکاب ہونا بھی اچھا فیصلہ کہا جا سکتا ہے ،انہیں زیادہ سے زیادہ سیاسی و مذہبی جماعتوں کو ساتھ ملانے پر توجہ مرکوز کرنا پڑے گی کیونکہ ان کے مقابل ’’مفاہمتی پالیسی‘‘ پر مبنی اتحاد کسی طور تنہا کسی کی پرواز کو آگے نہیں بڑھنے دے گا ۔بہرحال ڈاکٹر صاحب کے انقلاب مارچ کے دوران ہی کوئی حتمی رائے قائم کی جا سکتی ہے ابھی ان کا ہوم ورک ٹائم ہے ۔
دریں اثناء ن لیگ نے رواں ہفتہ اسلام آباد میں دھرنا دیا جو بقول چوہدری شجاعت ’’دھرنی‘‘ تھا ،سیاسی فکر کے حامل حضرات نے ن لیگ کے دھرنے کو غلط فیصلہ قرار دیا ،کیونکہ اس دھرنے نے ن لیگ کی ساکھ کو ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے کے بعد طاقت کے پہلو کو بے نقاب کر دیا ،اگر چہ عوامی حمایت کے ا عتبار سے ڈاکٹر طاہر القادری کا گراس روٹ ن لیگ کی نسبت زمین و آسمان کا فرق رکھتا ہے مگر ایسا دھرنا ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا چکا ہے ۔عوام کی غالب اکثریت اس امید میں ہے کہ میاں نواز شریف موجودہ کٹھن حالات سے قوم کو نکال سکتے ہیں ،اس سطح کو برقرار رکھنے کے لئے ایسے اقدامات سے پرہیز ضروری ہے جن سے عوام میں ان کی ساکھ متاثر ہونے کا احتمال ہو،نہ جانے یہ کس کی سوچ اور فیصلہ تھاجس کا ن لیگ کو کوئی سیاسی فائدہ نہیں ہو سکا،البتہ میاں نواز شریف کا اس دھرنے میں کسی مصروفیت کے باعث نہ آنا کسی حد تک جماعتی بھرم قائم رکھنے میں مددگار ثابت ہوا ۔
دوران ہفتہ تحریک طالبان کی جانب سے امن مذاکرات کی پیشکش اہم developmentکہی جا سکتی ہے ،تحریک طالبان نے میاں نواز شریف ،منور حسن ،فضل الرحمن اور مشروط طور پر ڈاکٹر قدیر خان کی ضمانت اور ثالثی کی شرط پر مذاکرات کرنا امن کوششوں کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں مگر ابھی تک کسی جانب سے اس پیشکش کا جواب سامنے نہیں آیا البتہ فضل الرحمن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ،جبکہ وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا کہ پیشکش کا جواب حکومت کی سطح پر دیا جائے گا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ضمن میں مذاکرات کے خدو خال پر مشاورت کا سلسلہ جاری ہوگا ،حالات کا تقاضہ ہے کہ حکومت کو مذاکرات کرنے چاہئیں ،کیونکہ دہشگردی کے وہ اسباب جن سے ابھی تک عوام گومگو کا شکار ہیں وہ کم از کم بے نقاب ہو سکیں ،اب تو تحریک طالبان نے بسوں میں گانے اور فلمیں چلانے والوں کو بھی دھمکی دی ہے کہ ان کے خلاف بھی کارروائی ہو سکتی ہے ،اس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ طالبان عوام کی حمایت مذہب کی بنیاد پر حاصل کرنا چاہتے ہیں ،یہ امر حکومت کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ ہمارا معاشرہ جس بے راہ روی کا شکار ہوتا جا رہا ہے اس کے خلاف طالبان کی اس دھمکی سے عوام میں ان کے بارے نرم گوشہ جنم لے سکتا ہے لہذا حکومت کو از خود غیر اسلامی ماحول پیدا کرنے کے جملہ ذرائع پر پابندی عائد کرنی چاہیئے،تاکہ دہشتگرد اپنے مذموم عزائم میں ناکام ہو جائیں ،ویسے بھی پاکستان اسلامی ملک ہے اور اس پس منظر میں ایسی کوئی حرکت جو اسلام کے منافی ہو اسے سختی کے ساتھ روکا جائے۔طالبان کی مذاکراتی پیشکش کو تسلیم کرتے ہوئے فوری طور پر مذاکرات کا آغاز کیا جانا سو فی صد ملک و قوم کے لئے بہتر ہو گا ،مذاکرات میں طالبان سے پوچھا جا سکتا ہے کہ وہ کیوں بے گناہ انسانی جانوں کے قتل میں ملوث ہیں ،کیا اسلام میں کہاں ایسا حکم ہے کہ آپ اپنے مسلمان بھائیوں کا خون کرتے جا رہے ہیں ۔۔؟ ممکن ہے کہ طالبان میں کچھ شر انگیز گروپس ہوں جو انہیں بدنام کرنے کے لئے ایسے انسانیت سوز جرائم میں ملوث ہوں ،ذرائع بتاتے ہیں کہ اس وقت درجنوں ایسے گروپس دہشتگردی میں ملوث ہیں جو منظم انداز سے دہشتگردی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں ،اگر ایسی بات درست اور حقیقت پر مبنی ہے تو مذاکرات سے سب کچھ سامنے آسکتا ہے ،تاہم طاقت کے استعمال سے گریز کرتے ہوئے مذاکرات کی پیشکش کو سنجیدہ لیا جانا ضروری ہے ورنہ ڈیڈ لاک سے تباہ کن نتائج برآمد ہو سکتے ہیں جو کسی بھی صورت میں کسی بھی فریق کے لئے سود مند نہیں ،مذاکرات کی پیشکش میں ملک کے نامور شخصیات کاضامن ہونا بھی خوش آئند امر ہے جسے مل بیٹھ کر بہتر سمت دی جا سکتی ہے۔
بھارت کے کم فہم ،عوام دشمن اور غیر سنجیدہ طبقہ نے لائن آف کنٹرول پر گذشتہ چند ہفتوں سے فائرنگ کا جو سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اس پر بھی عالمی برادر ی کو متوجہ کرنے کی ضرورت ہے ،دراصل ہر ملک میں ملک دشمن عناصر ہوتے ہیں جو ایسے غلط فیصلے کرتے ہیں جن سے عوام کا سکھ اور چین ہی نہیں برباد ہوتا بلکہ اس سے امن دشمنوں کو کمک میسر ہوتی ہے ،اس تناظر میں یہ بات سمجھ آتی ہے کہ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر نہتے شہریوں کو نشانہ بنانا بھی دہشتگردی کے ذمرہ میں آتا ہے ،بھارتی حکومت کو چاہئے کہ وہ غیر سنجیدہ رویہ ترک کر کے امن کوششوں میں رخنہ اندازی کرنے والوں کی چابکدستی کا سراغ لگا کر انہیں قرار واقعی سزا دیں جو بظاہر تو حب الوطنی کا تاثر دیتے ہیں لیکن اس کے مضر اثرات سے پورے جنوبی ایشیا ء کا امن خطرے میں پڑ سکتا ہے جس سے عوام ہر لحاظ سے تباہی اور خستہ حالی کا شکار ہو سکتے ہیں ۔
ان ہفتہ بھر حالات کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ہوشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دانشمندانہ فیصلے کرئے ،اندرونی دشمنوں اور بیرونی مداخلت کا جائیزہ لیکر قومی سلامتی کے تقاضوں کو مد نظر رکھ کر دورس نتائج کے حامل اقدامات یقینی بنائے نیز سیاسی قیادت باا لخصوص ڈاکٹر طاہر القادری کو کسی ایسے اقدام سے گریز کرنا چاہئے جس سے جمہوری نظام میں دراڑیں پڑنے کا اندیشہ ہو ،ضروری ہے کہ پوری قوم کے مفادات کو مد نظر رکھ کر ہر سطح پر جرات مندانہ پیش رفت کی جائے تاکہ ملک مستحکم اور خوشحال ہو اور اس سے پوری دنیا میں نیک نامی ،اعتماد اور تعلقات میں اضافہ ہو۔note

یہ بھی پڑھیں  ’عالمی میڈیا سے پتا چل رہا ہے کہ حکومت امریکا کو اڈے دے چکی‘مریم نواز

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. plaese bashir sahb dr tahrul qadri k upar jitna ho sakhy kalum likho unky andar jo qualty hai usko awaam k samney lao .taky log ek achy leader ka faislah kar sakhain

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker