شہ سرخیاں

وقت کا جبر

حالیہ واقعات کی روشنی میں تاریخ خود کودہرا رہی ہے اورہماری نگاہوں کو ایسے مناظرد یکھنے کو مل رہے ہیں جس پر صرف کفِ افسوس ہی ملا جا سکتا ہے۔جب کوئی حکمران اقتدار کے نشہ میں دھت اپنے مخالفین کا جینا خرام کردے تواس کے خلاف متخدہ اپوزیشن کی تشکیل نا گزیر ہو جاتی ہے۔ ۴۱۰۲؁ میں عمران خان کو بہت سمجھایا گیا تھا کہ وہ جمہوری حدو کوپامال نہ کریں اور کسی ایسی راہ کاانتخاب نہ کریں جو آنے والے وقتوں میں خود ان کے پاؤں کی زنجیر بن جائے لیکن عمران خان نے کسی کی بات سننا گوارا نہ کیا۔ وہ جذبات کی رو میں ریاست کے خلاف بغاوت پر اتر آئے۔چونکہ مقتدرحلقے ان کی پشت پرتھے اس لئے ان کی بغاوت پر ان سے کسی کوباز پرس کرنے کی ہمت نہیں تھی۔عمران خان نے جس راہ کا انتخاب کیا تھا اس کا منطقی نتیجہ انتشار اور بد امنی کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں تھا۔میاں ممد نواز شریف کے خلاف مقتدرحلقو ں نگاہِ التفات عمران خان پر جا کر ٹک گئی کیونکہ ان کے علاوہ کوئی دوسرا شخص میاں برادران کو سبق سکھانے کی اہلیت نہیں رکھتا تھا۔پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) میثاقِ جمہورت کی رو سے پہلے ہی پی پی پی کے ساتھ مفاہمانہ طرزِ عمل اختیار کر چکی تی اس لئے پی پی پی کا انتخاب ممکن نہیں تھا۔میاں ممد نواز شریف کی نا اہلی کے بعد مسلم لیگ (ن) بے اثر ہو ئی اور خود پی پی پی میں قیادت کا فقدان تھا۔بلاول بھٹو زرداری سیاست میں نو واردتھے لہذا عمران خان کے لئے خود بخود راستہ ہموار ہو گیا۔انتخابات میں جس طرح دھاندلی کی گئی وہ کوئی سر بستہ راز نہیں ہے۔ انتخابات میں دھاندلی کا عنصر اور ریاستی نا انصافی اس وقت عمران خان کے لئے عذاب بن چکی ہے۔اسلام آباد میں اپوزیشن کا آزادی مارچ عوامی شرکت کے لحاظ سے توقع سے زیادہ کامیاب قرار پایا ہے لہذا شرکائے مارچ عمران خان کے استعفے سے کم پر راضی نہیں ہورہے۔مولانا فضل الرحمان اور عمران خان کے درمیان ذاتی مخاصمت زوروں پر ہے جو سیاسی درجہ حرارت کو مزید ہوا دے رہی ہے۔میاں برادران کے ساتھ عمران خان نے جو بے رحمانہ سلوک روا رکھا ہے اس کا منطقی نتیجہ ٹکراؤ ہی ہونا ہے۔پی پی پی کے خلاف وفاق کی ہٹ دھرمی نے پی پی پی کی صفوں میں غم و غصہ کی کی لہر دوڑا دی ہے۔ساری اپوزیشن حکو مت کی انتقای کاروائیوں کا نشانہ بنی ہوئی ہے لہذا حکومت کے خلاف اس کے سخت موقف کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔اپوزیشن عمران خان کے استعفے کو یقینی بنانے پر بضد ہے جبکہ حکومت اپوزیشن کے مطالبہ پر کان دھرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔
اس وقت اپوزیشن اورحکومت کے درمیان خونی ٹکراؤ یقینی ہے۔میرا شروع سے ہی موقتف رہا ہے کہ عمران خان کی انتقامی کاروائیاں خود اس کے لئے پھانسی کا پھندا ثابت ہوں گی۔اقتدار کا نشہ انسان کو دیکھنے سننے کی صلایت سے بے نیاز کر دیتا ہے۔وہ یہی سمجھتا رہتا ہے کہ اقتدار سدا اس کی مٹھی میں بند رہے گا لیکن جب اقتدار ریت کے ذروں کی طر اس کی مٹھی سے سرکنا شروع ہو جاتا ہے توپھرکچھ بھی اس کے اضتیار میں نہیں رہتا۔لیکن اس وقت بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔پاکستان میں جس کسی نے بھی یہ سمجھنے کی غلطی کی کہ وہ حقیقی حکمران ہے اسی وقت اس کے مقدر کا ستارا ڈوبنا شروع ہو جاتا ہے۔پاکستانی معاشرہ تضادات کا مجموعہ ہے جس میں مختلف سوچ اور فکر کے لوگ رہائش پذیر ہیں۔تہذیب و تمدن،رسومات اور بودو باش کے لحاظ سے سارے صوبے ایک دوسرے سے علیحدہ تاریخ و تمدن کے حامل ہیں۔ان میں مفاہمت اور باہمی اعتماد کا رشتہ ہی اس تضاداتی سوسائٹی کو آگے بڑھا سکتا ہے۔جس نے انتقامی سوچ کر پروان چڑھایا اور اپنے مخالفین کو زندانوں اور زنجیروں میں جکڑنے کی کوشش کی اسے پچھتانا پڑا۔اپوزیشن ہمیشہ سے ہی بڑی طاقت ور رہی ہے کیونکہ ان کے حا صل کردہ ووٹ حکومتی ووٹوں سے زیادہ ہوتے ہیں لہذا ان کا تحاد حکو مت کے لئے عذا ب بن جاتا ہے۔ اسلام آباد اس وقت پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔پوری دنیا کی نگا ہیں اسلام آباد پر جمی ہوئی ہیں کیونکہ اپوزیشن کے مارچ نے نظامِ حکومت کومفلو ج کررکھا ہے۔ اپوزیشن نے وزیرِ اعظم کو گرفتار کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔اگست۴۱۰۲؁ میں عمران خان نے بھی تو یہی کیاتھا لیکن اس کے کارکنوں اور مولانا فضل الرحمان کے کارکنوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔مولانا کے کارکن سینوں پرگو لیاں کھا نے والے کارکن ہیں۔یہ طبلے کی تھاپ ناچنے والے کارکن نہیں ہیں۔یہ مر جائیں گے لیکن مولانا کے حکم سے سرِموسرتابی نہیں کریں گے۔۱۳ اگست ۴۱۰۲ ؁ میں پاکستان عوامی تحریک کے کارکن نہ ہوتے تو پر عمران خان ۱۳ اگست کو بری طرح پٹ جاتے۔اس بات کا اعترف خود عمران خان نے بھی کیا تھا۔نا چ گانے کے رسیوں اور سیاسی کارکنوں میں زمین و آسمان کا فرق ہو تا ہے۔ سیاست کبھی کبھی لہوبھی مانگ لیتی ہے جو کہ سیاست کو مذا ق سمجھنے والوں کے لئے ممکن نہیں ہوتا۔جمیعت العلمائے اسلام کی ایک تاریخ ہے۔انگریزوں کے خلاف ان کی باجرات جدو جہد اور قربانیوں سے تاریخ کے اوراق بھرے پڑ ے ہیں لہذاان کے لئے جان کا نذرانہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ان سے پنجہ آزمائی حکومت کوبہت مہنگی پڑے گی۔کیا حکومت لاشوں کے انبار لگانا چاہتی ہے۔جو ہجوم اسلام آباد میں جمع ہے وہ انتہائی پر عزم ہے۔اسے ڈرانا دھمکانا حکومت کے بس میں نہیں ہے۔وہ آئے ہیں تو ایسے نہیں جائیں گے۔یہی بات ہے جس کا ہلِ دانش کو دھڑکا لگا ہوا ہے۔وہ خوف زدہ تھے کہ مولانا کا لشکرِ ِجرار اسلام آباد میں داخل ہوگیا پھر کشت و خون کو روکنا ممکن نہیں ہوگا۔آغ و خون کی ایسی ہولی کھیلی جائیگی جس میں ملکی وحدت پارہ پارہ ہوجائے گی۔حکومت کی کوشش تھی کہ آزادی مارچ کو شہرِاقتدار سے دور روک لیا جاتا لیکن ایسا ممکن نہ ہوسکا۔آزادی مارچ عمران خان کی انا اور ضد کا شاخسانہ ہے۔ پاکستان ایک دفعہ پھر ۰۹۹۱؁کی دہائی والی سیاست میں واپس چلاگیا ہے جس میں مخالفین کا مقدر جیلیں اور عقوبت خانے ہوا کرتے تھے۔آصف علی زرداری نے اسی دور میں ا پنی زندگی کے قیمتی بارہ سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارے تھے۔اب اسی پرانی روش کو عمران خان نے دوبارہ زندہ کردیا ہے۔آصف علی زرداری اب وہ بوڑھے ہو چکے ہیں۔بیماریوں کی یلغار نے انھیں جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے لیکن وہ پھر بھی استقامت سے ڈٹے ہوئے ہیں۔ایسی سفاک صورتِ ھال میں پی پی پی کے پاس ا حتجاج کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔جب وزیرِ اعظم اپنے مخالفین کو موت کی وادی میں دھکیلنے کے لئے کمر بستہ ہو تو پھر اس کے خلاف اپوزیشن کا متخد ہونا حیران کن نہیں ہونا چائیے۔میاں ممدنواز شریف کے خلاف عمران خان کا اندھا انتقام ہی اس کی تباہی کا پیش خیمہ بنے گا۔پورا پاکستان میاں نواز شریف کی بیماری سے دہل کیا ہے۔تین دفعہ منتخب وزیرِ اعظم کے ساتھ اس طر ح کا بے رحم رویہ عوام کی برداشت سے باہر ہے۔نواز شریف اب ملزم کی بجائے مظلومیت کا روپ دار چکے ہیں۔ عوام انھیں صخت مند اور توانا دیکھنا چاہتے ہیں۔احتساب کے نام پر عوام نے انتقام کے بڑے بڑے دعوے دیکھ رکھے ہیں لہذا وہ انتقام اور انصاف میں فرق کرنا جانتے ہیں۔میاں محمد نواز شریف کی نظر میں مظلوم بن چکے ہیں۔عوا م کی سوچ میں یہی بنیادی تبدیلی عمران خان کی شکست ہے جس کا دیباچہ مولانا فضل الرحمان تحریر کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  راولپنڈی:محکمہ ایکسائزنےخواتین کےایک نجی ہاسٹل کوسیل کردیا

What is your opinion on this news?