تازہ ترینسجاد علی شاکرکالم

خصوصی انتظامات کو مزید بہترکرنا، وقت کی ضرورت

logo sajjadکراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے۔ یہاں آبادی اور معاشی لحاظ سے اس کی اہمیت ہمیشہ بڑھتی رہی ہے۔ کراچی کسی زمانے میں ایک پر امن شہر ہوا کرتا تھا۔ لوگ اسے روشنیوں کا شہر بھی کہا کرتے تھے۔ پھر اسے کسی کی نظر لگ گئی۔ اگرچہ شہر کی آبادی بے ہنگم طریقے سے بڑھتی گئی۔ اس میں معاشی سرگرمیاں بھی بڑھتی گئیں لیکن اس میں آگ اور خون کا کھیل شروع ہو گیا۔ اگرچہ اس میں استعمال ہونے والے ایندھن کا کام خود پاکستانیوں نے کیا لیکن اس کی منصوبہ بندی، اس کے وسائل اور دہشت گردوں کی تربیت کچھ بیرونی دشمنوں نے کی۔ پچھلی دہائی میں کراچی میں وہ کشت و خون ہوا ہے کہ اس کی مثال کہیں بھی نہیں ملتی۔کراچی کے علاقے صفورا چورنگی میں گذشتہ روز دہشت گردی کے ہولناک واقعہ میں نامعلوم افراد نے مسافر بس جس کا نمبر جے بی 9333 تھا، میں گھس فائرنگ کر دی جس سے 45 افراد شہید اور 20 زخمی ہوگئے، جاں بحق ہونے والوں میں 17خواتین بھی شامل ہیں۔ فائرنگ اس قدر خوفناک تھی کہ علاقے میں بھگدڑ مچ گئی اور خوف و ہراس پھیل گیا، قریبی دکانداروں نے دکانیں بند کر دیں،۔ سچل پولیس سٹیشن کی حدود صفورا چورنگی کے قریب بدھ کی صبح موٹر سائیکل سوار 6ملزمان نے اسماعیلی کیمونٹی کی بس کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ الاظہر گارڈن سے عائشہ منزل پر واقع اسماعیلی جماعت خانے جا رہی تھی کہ بس کو صفورا چورنگی کے قریب غازی گوٹھ کے سنسان مقام پر روکا گیا اور مسلح افراد نے اندر گھس کر فائرنگ کردی۔ بس میں اسماعیلی برادری کے 60 سے 65 زائد افراد سوار تھے۔ جن میں خواتین کی بھی بڑی تعداد شامل تھی۔ حملہ آور بس میں داخل ہوئے اور ڈرائیور کو گولی ماری بعد ازاں دیگر افراد کو نشانہ بنایا گیا۔ اکثر افراد کو سر پر گولیاں ماری گئیں۔ بس میں 60 افراد سوار تھے جن میں سے 45 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے جبکہ زخمیوں میں خواتین بھی شامل ہیں۔ 3 موٹر سائیکلوں پر سوار6 دہشت گردوں نے بس میں گھس کرفائرنگ کی۔ فائرنگ کے واقعہ میں استعمال ہونے والے اسلحے میں فائرنگ کی جگہ سے نائن ایم ایم گولیوں کے خول ملے ہیں۔ پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں نے متاثرہ مقام سے شواہد جمع کئے۔ سانحہ پر عوام مشتعل ہوگئے اور ہسپتالوں میں شدید توڑپھوڑ کی۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرکے خون کے عطیات کی اپیل کردی گئی۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جس سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ جائے وقوعہ پر مختلف اقسام کے اسلحہ کی گولیوں کے سینکڑوں خول پڑے ہوئے ہیں۔ ملزمان واردات کے بعد موقع سے فرار ہوگئے۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کردیں۔ وفاقی حکومت نے سانحہ کراچی پر آج ملک بھر میں سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ آج سانحہ کراچی کے سوگ میں قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔ سانحہ کراچی پر یوم سوگ کے دوران جاں بحق افراد کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔ وزیراعظم نواز شریف نے بس میں فائرنگ کے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے وزارت داخلہ سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔ سانحہ پر سندھ حکومت، ایم کیو ایم اور اے این پی نے بھی یوم سوگ کا اعلان کیا۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے یوم سوگ کا اعلان کرتے ہوئے ٹرانسپورٹ، کاروبار اور تعلیمی ادارے بند رکھنے کی اپیل کی ہے۔ اے این پی نے بھی دلخراش واقعے پر یوم سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔ ملیر بار ایسوسی ایشن نے سانحہ صفورا کے خلاف آج جمعرات کو ہڑتال کا اعلان کردیا۔ تحریک انصاف نے بھی 3 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔۔ انہیں سخی حسن اور النور قبرستان میں سپردخاک کیا جائے گا۔ مقتولین کی پوسٹمارٹم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تمام افراد کو انتہائی قریب سے جسم کے اس حصے میں گولی ماری گئی جہاں بچنا مشکل ہے۔ تمام مقتولین کو انتہائی قریب سے گولیاں ماری گئیں اور تمام افراد کو ایک ایک گولی ماری گئی، جسم کے اوپر والے حصے میں گولیاں لگیں۔نوازشریف نے کہا ہے کہ دشمن پاکستان کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتا، ہماری معاشی ترقی دشمنوں کو پسند نہیں، معاشی ترقی کو روکنا دشمنوں کا ایجنڈا ہے، ایسے دشمنوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے، ہم سب کو مل کر دشمن سے لڑنا ہو گا، کراچی کی روشنیاں کم نہیں ہونے دیں گے، کراچی کو امن کا گہوارہ بنا کر چھوڑیں گے، شہر قائد میں دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی شروع کی جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سانحہ صفورا کے بعد گورنر ہاؤس سندھ میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں امن و امان کی صورتحال پر غور کیا گیا جبکہ سانحہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف، ڈی جی آئی ایس آئی جنرل رضوان اختر، کور کمانڈر جنرل نوید مختار، ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر، وزیر دفاع خواجہ آصف ، گورنر سندھ عشرت العباد، وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، سابق صدر آصف زرداری، سیکرٹری داخلہ سندھ، فاروق ستار، رشید گوڈیل، خالد مقبول صدیقی نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں کراچی میں امن و امان اور سانحہ صفورا پر ڈی جی رینجرز، آئی جی سندھ اور چیف سیکرٹری سندھ نے بریفنگ دی۔ اجلاس میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ دہشتگردوں کے معاون کاروں اور کالعدم تنظیموں کے کارندوں کے خلاف بھی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ڈی جی رینجرز نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ شہر میں آپریشن کے دائرہ کار کو بڑھا دیا ہے، رینجرز پولیس کے ہر اول دستے کی طرح کا م کر رہی ہے ، ہم نے سیاسی مصلحت سے بالا تر ہو کر کارروائیاں کی ہیں، پولیس افسروں کے قتل کی تفتیش میں پولیس کی معاونت کر رہے ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق آئی جی سندھ کی بریفنگ کے دوران وزیر اعظم نے مداخلت کرتے ہوئے آئی جی سندھ کو تنبیہ کی کہ وہ پرانے اعداد و شمار نہ بتائیں، 15دن میں 5ایسے واقعات ہوئے جس پر وفاق کو مداخلت کرنا پڑی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا واقعے پر جتنا بھی دکھ کا اظہار کیا جائے کم ہے، دہشت گردوں نے پر امن افراد اور خواتین کو نشانہ بنایا، کراچی پاکستان کا تجارتی مرکز ہے، یہاں ہونے والا واقعہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا شہر میں امن کو یقینی بنانا چاہتے ہیں، دہشت گردی کا مقابلہ کرنے والے تمام ادارے چیلنجز کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہیں، قانون نافذ ادارے کرنے والے ایک دوسرے سے بھرپور تعاون کریں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ اجلاس میں محکمہ داخلہ سندھ کے کردار پر بھی تنقید کی گئی۔ وزیر اعظم نے وزیر اعلی سندھ سے سوال کیا کہ 4ماہ میں 3سیکرٹری داخلہ کیوں تبدیل کئے گئے؟۔ وزیر اعظم نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد میں محکمہ داخلہ کا کردار نہایت اہم ہے لیکن ایکشن پلان کے تحت اہم اقدامات نہیں کئے گئے۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا اسماعیلی بھائیوں کا قتل عام پاکستان کے خلاف جنگ ہے، سانحہ صفورا چورنگی کا بدلہ ضرور لیں گے۔ معصوم قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دلی افسوس ہے اور سانحہ کراچی کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ سانحہ کراچی کے بعد ہمیں اب مزید سخت فیصلے کرنے ہونگے، دہشتگردوں نے ان لوگوں کو نشانہ بنایا جنہوں نے پاکستان کی ترقی میں کردار ادا کیا۔ دہشت گردوں نے انتہائی محب وطن اور پرامن لوگوں پر حملہ کیا۔ کراچی میں ہونے والی خونریزی انتہائی افسوسناک ہے، اسماعیلی کمیونٹی بڑی پرامن ہے۔ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ دہشت گردی کے تمام راستے بند کرنے کے لیے اس قسم کے معاملات پر خصوصی توجہ دیں۔ اس میں بھی معلومات کا تبادلہ، جرائم پیشہ افراد پر کریک ڈاؤن اور خاص طور پر سزا یافتہ افراد کے بارے میں ایک ڈیٹا بیس کے قیام کا عمل مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اگرچہ پولیس نے تمام صوبوں میں اسی قسم کے ڈیٹا بیس تیار کر رکھے ہیں لیکن ان کو مزید مؤثر بنانے، ان میں ہر قسم کی معلومات درج کرنے اور انہیں بروقت ایک دوسرے کو پہنچانے کی بھی ضرورت ہے کیونکہ اگر ڈیٹا بیس موجود ہوں اور ان کا مؤثر استعمال نہ ہو سکے تو ان کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ کراچی جیسے بڑے شہر کے لیے کیے گئے خصوصی انتظامات کو مزید بہتر، وقت کی ضرورت کے مطابق اور آئندہ آنے والے حالات سے نبرد آزما ہونے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت نے توجہ جاری رکھی تو کامیابی کے امکانات روشن ہیں۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button