شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / وکلاء گردی آخر کب تک۔۔۔؟

وکلاء گردی آخر کب تک۔۔۔؟

سب انسپکٹر ثمر ریاض کے ساتھ لاہور احاطہ عدالت میں جس طرح غندہ گردی کا مظاہرہ کیا گیا انتہائی شرمناک فعل ہے۔پولیس آفیسر پرحملہ،سرعام مارپیٹ اور وردی پھاڑنا ،نہ صرف پولیس آفیسرکے ساتھ زیادتی ہے بلکہ محکمہ پولیس کے تقدس کے خلاف اور قابل مواخذہ عمل ہے۔آئی جی اور پولیس افسران کو چاہئے کہ اپنے ڈیپارٹمنٹ اور وردی کی عزت بحال کروائیں اورقانون سے کھلواڑ کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے ڈٹ جائیں۔
نگہبا ن بن کر جو خود ہی چمن کی آبرو لُوٹے
چمن والو عقیدت چھوڑدو ایسے نگہبان کی
جناب چیف جسٹس وکلاء گردی کا بھی نوٹس لیں ۔ جب عدالتی حدود میں بھی کوئی محفوظ نہیں ہے تو پھرانصاف کی فراہمی اور قانون کی بالادستی کے سامنے سوالیہ نشان ہے؟ایسے واقعات کا سدباب ہونا بہت ضروری ہے،مذکورہ وکلاء کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہونے چاہئیں اور ان کو سخت سزائیں بھی دی جائیں تا کہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
پاکستان کی تاریخ میں دہشت گردی کے ساتھ ساتھ وکلاء گردی کی اصطلاح سامنے آئی ،کہیں معزز عدالتوں کے جج صاحبان ان کے ہتھے چڑھے اور ان پر جوتے برسائے، کہیں عدالتوں میں پیشی پر پولیس افسران ،کہیں عدالتی اہلکار اور کہیں بد نصیب سائلین وکلاء گردی کا شکار ہوئے۔
جناب چیف جسٹس گستاخی معاف ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں سے پہلے اپنے گھر میں جھانکنے کی ضرورت ہے،قانون کی پاسداری اور قانون کی وردی میں ملبوس افسران کو تحفظ دینا آپکی اولین ذمہ داری ہے۔ اگر تیزی سے بڑھتی ہوئی وکلاء گردی کو لگام نہ ڈالی گئی توسارے ملک میں لاقانونیت کا راج ہوگا اور وکلاء گردی سے تنگ عوام کے پاس ہتھیار اٹھانے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔جب کسی حقدار کا حق چھین لیا جائے گا یا بے گناہ پر ظلم کیا جائے گا تو اس کے پاس مرنے یا مارنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہوگا۔
عدالت کا سب سے زیادہ وقت وکلاء حضرات سرکاری افسران اور عوام پر جھوٹی اور من گھرٹ پٹیشن دائر کرکے ضائع کرتے ہیں۔قانون کے غلط استعمال ،عدلیہ کو گمراہ کرنے اور عوام کو بلیک میل کرنے والوں کا احتساب کیے بن قانون کی حکمرانی کا خواب ادھورا ہے۔عوام اور اداروں کو بلیک میل کرنے کیلئے جھوٹی پٹیشن دائر کرنے کی ریت کا خاتمہ نہ کیا گیا تو یہاں ہر کسی کو بلیک میل کیا جائے گا، پٹیشن کے بہانے کورٹ بلاکر سرعام لوگوں پر تشد د کیاجائے گا ،احاطہ عدالت میں کسی کو مارا گیا تمانچہ حقیقت میں عدلیہ کو تھپر رسید کرنے کے مترادف ہوتا ہے ۔جھوٹی پٹیشن دائر کرنے والے بلیک میلرز کی حوصلہ شکنی ضروری ہے پٹیشن غلط ثابت ہونے پر وکیل کے خلاف بھی سخت کاروائی ہونی چاہئے ۔اکثر وکلاء نے جھوٹی درخواستیں دائر کرنے کیلئے ٹاؤٹ رکھے ہوتے ہیں ۔جس طرح پولیس کا ریکارڈ آن لائن ہوا ہے اسی طرح عدالتی ریکارڈ بھی مرتب ہو کہ کس نے کب ،کہاں ،کیوں اور کس کے خلاف رٹ دائر کی۔
جناب چیف جسٹس پولیس کو سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ وکلاء گردی سے بھی آزاد کروانا ضروری ہے ،نہیں تو وہ دن دور نہیں جب وکلاء کا ہاتھ آپ کے گریبان تک بھی پہنچ جائے گا۔سول اور سیشن ججز کے ساتھ نہ صرف بدتمیزی بلکہ ہاتھا پائی اور کمرہ عدالت میں محصور کرنے کے واقعات پہلے ہی ملکی اور بین الاقوامی سطح پر عدلیہ کی تضہیک اور تذلیل کا باعث بن چکے ہیں۔
جوڈیشری ایگزام کا تازہ ترین رزلٹ ملاحظہ کیجئے ایڈیشنل سیشن جج کے امتحان کیلئے 2400 وکلاء نے رجسٹریشن کروائی اور صرف 8امیدور ہی پاس ہوسکے۔سول جج کے امتحان کیلئے 6500وکلاء نے رجسٹریشن کروائی اور 21امیدوار امتحان میں کامیابی حاصل کرسکے۔ عدلیہ سے غنڈہ گرد عناصر کے خاتمے اور اس کے تشخص کی بحالی کیلئے جوڈیشر ی کی طرح وکالت کے لائسنس کیلئے بھی مضبوط اور شفاف امتحانی نظام رائج کیا جائے۔
جب سے اے ایس آئی اور ایس آئی کیلئے گریجوایشن کی شرط عائد کی گئی ہے ،قابل اور تعلیم یافتہ نوجوان محکمہ پولیس میں آئے ہیں جنہوں نے نہ صرف تھانہ کلچر کو تبدیل کیا بلکہ رشوت جیسی لعنت کو ختم کرکے میرٹ پر مقدمات کو نمٹا کر مجموعی طور پر پولیس کا امیج بہت بہتر کیا ہے۔
ایک سی ایس پی دوست آشج لقمان نے بہت خوبصورت الفاظ میں وکلاء گردی کا اِحاطہ کیا’’کسی وکیل کو کہیں کہ جناب آپ غلط کر رہے ہیں وہ ایک آپکو ایک تھپڑ لگائے گا۔ آپ سوال کریں گے کہ تھپڑ کیوں مارا تو وہ ایک اور تھپڑ مارے گا اور کہے گا "مجھ سے بدتمیزی کرتے ہو”آپ ابھی تھپڑ سے سنبھلے نہیں ہوں گے کہ گالیاں دیتے ہوئے آپ کے گریبان تک پہنچ جائے گا اور اگراس دوران غلطی سے آپکا ہاتھ خود کو چھڑاتے ہوئے مقدس کالے کوٹ کو چھو گیا تو وہ معزز قانون میں ایک ناقابل معافی جرم گردانا جائے گا‘‘
جس ملک میں وکلاء قانون شکن ہو جائیں ،ججز کو گالیاں دیں ،انہیں زد وکوب کر کے کمروں میں محبوس کر دیں اس معاشرے میں انصاف کی امید کیسے کی جاسکتی ہے ۔پولیس کیسے آزادانہ تحقیقات کرسکتی ہے اور معززججز ایسے’’ جگے‘‘ وکیلوں کے خلاف کیسے فیصلہ سناسکتے ہیں؟۔وکلاء کی جانب سے آئے روزپولیس اہلکاروں پر تشدد کیا جاتاہے،احاطہ عدالت سے ملزمان کو بھگایا جاتا ہے۔سچ کی آوازبننے پر صحافیوں پر تشدداور انکے کیمرے چھیننے کا عمل عام رویہ بن چکا ہے۔
وکلاء گردی ،تشدد پسندی اور تخریبی سرگرمیوں میں ملوث وکلاء کی تعداد بہت کم ہے لیکن اس اقلیت نے فرض شناس اکثریت کی ساکھ بھی خراب کی ہے۔وکالت نہ صرف ایک معزز پیشہ ہے بلکہ دکھی انسانیت کی عظیم خدمت بھی ہے ۔وکلاء کی اکثریت نہایت اچھے اور مہذب افراد پر مشتمل ہے، جو صرف حق کا ساتھ دیتے ہیں اور جھوٹے کا مقدمہ تک نہیں لڑتے، جنہوں نے قانون کی بالادستی کیلئے نہ صرف طویل جدوجہد کی بلکہ عظیم قربانیاں دیں۔وکلاء قیادت کو چاہئے کہ حدودو اختیارات سے تجاوزکرنے اور قانون کا غیر قانونی استعمال کرنے والی کالی بھیڑوں کو پہچانیں جنہوں نے کالے کوٹ کی آڑ میں کالے کرتوت چھپااور اپنا رکھے ہیں۔ اس مقدس پیشے اور انصاف کی علامت ’’کالے کوٹ‘‘ کی حرمت کیلئے شرپسند عناصر سے ناصرف بریت اور لاتعلقی کا اظہار کریں بلکہ ان کی رکنیت ختم کرکے پریکٹس پر پابندی لگائی جائے۔

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ : پنجاب بار کونسل کی ڈسپلنری کمیٹی نے شہری کی شکایت پر اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والے جعلی وکیل کے خلاف مقدمہ درج