پاکستانتازہ ترین

ہسٹری وارث شاہ

وارث شاہ سید وارث شاہ بن سید گلشیر شاہ 5 ربیع الثانی 1130 ھ(1718ء) کو جنڈیالہ شیر خاں میں پیدا ہوئے
ان کے پیدا ہوتے ہی ایک کرامت ظاہر ہوئی بھاگ بھری نامی عورت جو آپ کی خاندانی خادمہ تھی کا بیٹا رحمو ماچھی مادرزاد نابینا تھا اس نے آپ کی ولادت کی خبر سنی تو فورا دردولت پر حاظر ہوا، اس کے اشتیاق کی بنا پر سید وارث شاہ کو اس کی گود میں ڈال دیا گیا اس نے فرط شوق سے آپ کی پیشانی کا بوسہ لیا تو قدرت خداوندی سے اس کی آنکھیں روشن ہو گیئی
آپ کے ننھیال قصور میں مقیم تھے آپ کے ایک ماموں سید سلامت علی شاہ بخاری جو ، مخدوم قصور ، کے لقب سے مشہور تھے عارضی طور پر جنڈیالہ شیر خان میں مقیم تھے آپ نے ابتدائی تعلیم انہی سے حاصل کی بارہ سال کی عمر میں آپ نے قرآن مجید حفظ کرلیا اور ساتھ ساتھ دینی اور مر وجہ تعلیم بھی حاصل کرتے رہے چودہ سال کی عمر تک آپ نے پنجابی ، عربی،فارسی، پشتو،سندھی،بلوچی،سنسکرات،اور ہندی زبانوں پر عبور حا صل کر لیا سنسکرات اور ہندی سیکھنے کغ لیے آپ نے مدراس کا سفر کیا ا
مدارس سے واپسی پر آپ نے اپنے استاد سید سلامت علی شاہ کی آجازت سے ،درس وارث، کے نام ایک مدرسہ قائم کیا جس کی منظوری نا ظم پنجاب زکریا خاں سے حاصل کی گئی تھی،اس مدرسہ کو چلانے کے لیے سرکار کی طر ف سے دو ہزار سالانہ وظیفہ مختص کیا گیا
بائیس سال کی عمر (1152ھ) میں آپ نے عربی زبان کے مشہور، قصیدہ بردہ، کا پنجابی زبان میں ترجمہ کیا، پھر چھبیں سال کی عمر (1156ھ) میں آپ نے طب واوث کے نام سے ایک کتاب لکھی
حج کی غرض سے آپ مکہ معظمہ تشریف لے گئے اور پھر مدینہ منورہ میں روضہ ﷺ پر حاضر دی اسکے بعد آپ نے روم تک سفر کیا وہاں مولانا جلالالدین رومی، حضرت شمش تبریز ،اور دیگر اولیا اکرام کے مزارات کی زیارت کی،پھر آپ پیرس گئے وہاں قلوپطرہ کا بت دیکھا آپ نے ایران اور چین کی سیاحت بھی کی،
سید وارث شاہ کے زمانہ میں ہیر رانجھا کے معاشقہ کا بہت چرچا تھا، آپ سے پہلے فارسی اور پنجابی میں یہ قصہ لکھا جا چکا تھا آپ کے دوستوں نے فر مائش کی آپ بھی ہیر رانجھا کا قصہ پنجابی زبان میں نظم کریںآپ نے د وستوں کی فرمائش قبول کر لی،لیکن قصہ لکھنے سے قبل آپ اس قصہ سے متعلقہ تمام مقامات عینی مشاہدہ کرنا ضروری سمجھا اس غرض سے آپ نے رخت سفر باندھا رحمو ماچھی اور بشنوکے ہمراہ جنڈیالہ سے چل نکلے، منزل بہ منزل سفر کرتے ہوئے آپ ٹلا بالناتھ(ٹلا گورکھ ناتھ)جا پہنچے اور وہاں گورکھ نا تھ کے چھبیسو یں گدی نشین تیرتھ نا تھ سے ملاقات کی،ٹلا پر اقامت کے دوران آپ نے جوگیوں اور ان کے چیلوں کے رہن سہن ، رسوم اور رواج ، ناتھ پنتھ اور یوگ پنتھ کے روموز سے اگاہی حاصل کی،
ٹلا پر کچھ عرصہ قیام کرنے کے بعد آپ رنجھا کے گاؤں تخت ہزارہ پہنچے ، ان دنوں تخت ہزارہ میں ، رانجھا کی مسجد، (جو اس کی بھا وج نے تعمیر کر وائی تھی) اور، ہیر کا حمام ، (جو رانجھا کی بہن نے تعمیر کر وایا تھا) موجود تھا وارث شاہ نے رانجھا کی مسجد میں ہیر اور رانجھا کی قبر دیکھی ، انہیں بتایا گیا کہ دونوں ایک ہی قبر میں مدفون ہیں، تخت ہزارہ سے آپ ہیر کے دیس جھنگ سیال پہہنچے ان دنوں ریاست جھنگ سیا ل کا چودھواں حاکم عنایت اللہ خاں حکمران تھا، کچھ روز قیام کرنے کے بعد ہیر کے سسرالی گاؤں رنگپور پہنچے اور وہاں ایک مسجد میں اقامت پزیر ہوئے، رنگپور کے بلوچ خاندان میں سے بھاگ بھری نامی ایک عورت آپ کو دونوں وقت کا کھانا دے جایا کرتی تھی یہاں آپ بیمار پڑ گئے تو رتن چند نامی ایک وید نے آپ کا علاج کیا،جو قریبی گاؤں موضع،،کھڑا،، کا رہنے والا تھا،کچھ دنوں کے بعد آپ کوٹ قبولہ تشریف لے گئے جو راجہ عدلی کا مسکن تھا، یہاں سے آپ پاکپتن تشریف لے گئے اور وہاں بابا فرید الدین شکرگنج کے مزار پر حاضری دی، پھر آپ ملتان پہنچے اور وہاں حضرت بہاوالدین زکریا ،شاہ شمش تبریز سبزواری اور دیگر اولیا اکرام کے مزارات پر قرآن خوانی کی،آپ کچھ عرصہ اوچ شریف میں بھی مقیم رہے، پھر آپ ملکہ ہانس میں دولت خاں بلوچ کے مہمان رہے، سید وارث شاہ نے ملکہ ہانس میں اقامت کے دوران ہیر رانجھا کا قصہ پنجابی نظم میں لکھا،یہ قصہ آپ نے (1171ھ) میں لکھنا شروع کیا اور 1180ھ میں مکمل کیا قصہ لکھتے وقت آپ کی عمر 40 سال تھی اور قصہ مکمل ہونے آپ پچاس سال کی عمر کو پہنچ گئے
ہیر رانجھا کا قصہ مکمل کر نے کے بعد سید وارث شاہ اپنے آبائی گاؤں جنڈیالہ شیر خان لوٹ آئے، کچھ عرصہ بعد آپ رحمو ماچھی اور بشنو کے ہمراہ حضرت لعل شہباز قلندر کے مزار پر حاضری دینے کے لیے سیون شریف تشریف لے گئے ،واپسی پر آپ کی کایا پلٹ چکی تھی،اور آپ ایک قلندر ،، ملنگ بن چکے تھے اب آپ سیاہ لبادے میں ملبوس رہنے لگے گلے میں مختلف قسم کے پتھروں ،مثلا نیلم ،عقیق یا قوت اور پکھراج وغیرہ کے منکوں سے پرویا ہوا کنٹھا پہنے رکھتے دائیں ہاتھ کی انگلیوں میں فیروزہ، زہر مہرہ اور زمرد کے نگینوں والی انگشتریاں اور دائیں بازو پر عقیق کے گلابے نظر آتے تھے
آخری عمر میں آپ اپنے گاؤں جنڈیالہ کی جنوب جانب بڑ کے درختوں تلے ڈیرہ جما لیا ، رحمو ماچھی اور بشنو کے علاوہ اروپ سنگھ اور دیوی چند ہر وقت خدمت میں حاضر رہتے تھے اب آپ نے خاموشی اختیار کر لی تھی اور بلا ضرورت کوئی بات نہیں کرتے تھے
سید وارث شاہ ،10 محرم الحرام، بروز جمہ1220ھ(1805ء)کو نوے سال کی عمر میں اس دنیا فانی سے کوچ کرکے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے انااللہ وانا الیہ راجعون

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ:مسلم لیگ(ن)یوتھ ونگ اورایم ایس ایف(ن) کے عہد ید اران کی تحریک انصاف میں شمولیت

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker