شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / 470ارب روپے کی وصولی مگر اصل ذمہ داران ؟؟؟

470ارب روپے کی وصولی مگر اصل ذمہ داران ؟؟؟

بحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض احمد کا شمارخوش قسمت اور کامیا ب ترین انسانوں میں ہوتا ہت جنہوں نے انتہائی نچلے لیول سے اپنے کاروبار کا سفر کیا اور اپنی ذہنی صلاحیتوں کے بل بوتے اس وقت پاکستان میں7 بڑی امیر ترین شخصیت ہیں انہیں ایشیا کا بل گیٹس بھی کہا جاتا ہے،کوئی دو سال قبل ایک نجی چینل پر انہوں نے اینکرز کے سوالوں پر انتہائی کھری کھری سناتے ہوئے قوم کو بتایا کہ پاکستان میں سب کچھ ممکن مگر اس کے لئے پیسہ لگانا پہلی ترجیح ہے ،انہوں نے اس موقع پر پاکستان نظام حکومت پر کئی سوالیہ نشان کھڑے کر دئیے ان کہنا تھا پیسہ ہے تو سبھی کام ہو جاتے ہیں،انہوں نے اور بہت کچھ کہا بعض میڈیا شخصیات کا نام لئے بغیر بھی ان بارے بہت کچھ کہہ گئے ،ان کی بات100فیصد درست تھی یوم پاکستان سے دو روز قبل سپریم کورٹ نے غیر قانونی تبادلہ زمین اور الاٹمنٹ پر ان کی460ارب روپے دینے کی پیشکش قبول کر لی مگر اس اہم ترین کیس جس نے کرپشن ،دھونس اور قومی ملکیت کو ریوڑیاں کی طرح بانٹنے کے عوامل کو کھول کر رکھ دیا پر نہ کسی نے لکھا ،نہ کسی نے پروگرام کیا ممکن ہے میری یہ تحریر بھی بعض معزز ایڈیٹرز صاحبان اپنی پالیسیوں کی وجہ سے شائع نہ کریں مگر میں نے اس پر لکھنا اپنے ضمیر کے متراد ف قرار دیا،یہ تحریر لکھنے کا مقصد کسی سے پرخاش نہیں ہماری کسی سے پرخاش ہو بھی کیا سکتی ہے مگر بطور ایک صحافی یہ دکھ ضرورہوا کہ ہمارے سرکاری ادارے کیسی بند بانٹ میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں جیسے ان کے باپ کا مال ہواس قومی ڈکیٹی پر ہمارا میڈیا پر اسرار طور پر مکمل خاموش ہے ،ماضی میں ایک نجی چینل جن کا انگلش اخبار بھی ہے نے ان کے بارے تفصیلی لکھا تھا بعد کے حالات کا الرواقم کو کچھ نہیں علم،سپریم کورٹ کے جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے 460ارب روپے ادا کرنے کی پیشکش کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ رقم براہ راست عدالت جمع ہو گئی پھر تعین ہو گا کہ اسے کہاں کہاں دینا ہے عدالت اعظمیٰ نے نیب کو بحریہ ٹاؤن کے خلاف مزید کسی نوعیت کی کاروائی سے روک دیابحریہ ٹاؤن نے پہلے440پھر450ارب روپے دینے کی پیشکش کی تھی فیصلہ کے مطابق رواں سال اگست تک 25ارب روپے ،ابتدائی چار سال میں12.25ارب روپے ماہانہ اور آخری تین سال میں باقی رقم چار فیصد انٹرسٹ کے ساتھ ماہانہ کی بنیاد پر جمع کرائی جائے گی ،بحریہ ٹاؤن سے متعلق اس کیس کا سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے از خود نوٹس لیا تھا جس کی ابتدائی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا تھا کہ ایک ہزار ارب روپے جمع کرا دیں کاروائی روک دیتے ہیں جس پر ملک ریاض نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کا یہ منصوبہ 437ارب روپے کا ہے اس لئے وہ اتنی بڑی رقم نہیں دے سکتے اس نے زمین کے تبادلے کے لئے سرکاری خزانے میں 14ارب روپے جمع کرائے تھیاگر ہمارا کیس نیب کو گیا تو لاکھوں لوگ بے روز گار اور سب کاروبار ٹھپ ہو جائے گا،اس موقع پر ثاقب نثار نے کہا تھا سندھ حکومت کی زمین دھوکے بازی سے بحریہ ٹاؤن کو دی گئی جس کے بدلے ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے بنجر اور ٹکڑے ٹکڑے زمین لی اور وہ بھی بلوچستان سرحد پر اور جو اس زمین سے 300کلومیٹر فاصلے پر ہے ،بحریہ ٹاؤن نے تو چاندی دے کر سونا لے لیا،ملیر اتھارٹی اور سندھ حکومت کہتی ہے ہمیں کوئی نقصان نہیں ہوا یہ سب آپس میں ملے ہوئے ہیں ہمیں مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں اب رہائیشیوں کا تحفظ بھی کرنا ہے،عدالت میں نیب تفتیشی آفیسر نے بتایا تھا کہ اب یہ زمین25601ایکڑز جبکہ 2012میں یہ زمین 12156ایکڑ تھی اب تک تبادلہ کی زمین 17220ایکڑ تک پہنچ چکی اور یہ پراجیکٹ اب30ہزار ایکڑ پر مشتمل ہے،،،، ،،، ، حیدر آباد سے کراچی جاتے ہوئے ۔۔۔موٹر وے اور اسپر ہائی وے پر کراچی ٹول پلازہ سے صرف9کلومیٹر شمالی جانب محل وقع کے اعتبار سے بہترین لوکیشن پر پاکستان کی سب سے بڑی ہاؤسنگ سوسائٹی بحریہ ٹاؤن اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ دمک چمک رہی ہے، سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لیا اور جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کے بعدبحریہ ٹاؤن کے تین منصوبوں بحریہ ٹاؤن کراچی میں ملیر ڈولپمنٹ اتھارٹی ،اسلام آباد کے نزدیک تخت پیڑی محکمہ جنگلات کی جانب سے 2219ایکڑ ،سلخترہ نانگا مریمنصوبے کی 4542کینال زمین کی منتقلی کو غیر قانونی قرا ردیتے ہوئے پلاٹس،عمارتوں کی خرید و فروخت اور تعمیرات پر پابندی لگائی اور نیب کو معاملہ دیکھنے کا کہا تھا، اس وقت کے عدالتی فیصلے کے مطابق کراچی میں اراضی کا تباڈلہ قانون کے بعرکس ہے لہٰذا حکومت کی زمین بحریہ ٹاؤن اور بحریہ ٹاؤن کی زمین حکومت واپس کرے، آغازمیں اس کیس کی سماعت چیف جسٹس نے خود کی تھی اور ملک ریاض سے1ہزار ارب روپے طلب کئے، تب ملک ریاض نے استدعا کی تھی اس منصوبے میں ان کی سرمایہ کاری 437ارب روپے ہے اتنے پیسے کیسے ادا کروں گا،سپریم کورٹ میں رقم کی پیشکش قبول کرنے کے بعد اسی سندھ حکومت نے کہارقم ہمارے پاس جمع کرائی جائے جس پر عدالت نے کہا آپ تو کہتے تھے ہمارا کوئی نقصان نہیں ہوا تو پھر اب رقم کا تقاضا کیوں؟یہ رقم عدالت میں ہی جمع ہو گی،جو کچھ ہوا اگر عدالت نوٹس نہ لیتی تو کیا اتنی رقم قومی خزانے میںآتی؟سندھ حکومت نے پوری ریاستی مشینری کے ساتھ یہاں سے سب کچھ ملیا میٹ کرایا،گھر،دربار،قبرستان اور کھجور کے باغات اکھاڑ پھینکے گئے ان کا اب وہاں نام و نشان تک نہیں رہا،یہاں کے رہائشی جن میں زیادہ تعداد محنت مزدوری،کھیتی باڑی،پولٹری فارمنگ اور مویشی پال کر گذارہ کرتے تھے ان میں سے جس کسی نے مزاحمت کی اس کے خلاف فائرنگ اور انسداد دشہت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ،گوٹھوں کے مکینوں کو یہاں سے زبردستی بے دخل کر نے کا غیر اخلاقی،غیر انسانی اور غیر قانونی کام کیا گیا،بحریہ ٹاؤن کو تورقم کے عوض ریلیف مل گیا س کی بڑی وجہ تھرڈ پارٹی انٹرسٹ تھا مگر سندھ کی حکومت سمیت اس ظلم میں شریک،سیاسی اشرافیہ،اسٹیبلشمنٹ،سرکاری افسران وغیرہ نیحقیقی رہائیشیوں کو ان کی جگہوں سے زبردستی بے دخل کرنے کے لئیاپنے ریاستی اور جابرانہ اختیارات کا استعمال کیا ان مکروہ اور گھٹیا کرداروں کو تو کچھ نہ ہوا؟: عدالت اعظمیٰ میں کیس ان چہرے پر اوڑھا نقاب ضرور اتر گیا ہے مگراربوں روپے کھانے والے کرداروں کو ،لوگوں کو بے گھر کرنے والوں کے لئے کچھ سزا تو ضروری تھی ،سندھ حکومت میں اتنی اندھیر نگری اس قدر لوٹ مار،چلو خیر اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے وہ اپنے انجام کو ضرور پہنچیں گے،

یہ بھی پڑھیں  نندی پور پاور پراجیکٹ سے نیشنل گرڈ اسٹیشن کو بجلی کی سپلائی شروع

error: Content is Protected!!