شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / وطنِ عزیز میں مردم شماری

وطنِ عزیز میں مردم شماری

مردم شماری کا آسان اور سلیس معنی تو اعداد و شمار مرتب کرنا یا حاصل کرنا کے ہی ہیں۔ لیکن آزاد جمہوریت کیلئے لازمی ہے کہ انتخابات منصفانہ ہو ں کیونکہ منصفانہ انتخابات جمہوریت کیلئے کلیدی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ پُرامن منتقلی اقتدار بھی آزادانہ اور منصفانہ انتخابات میں ہی مضمر ہے ۔اور یہ سب کچھ حاصل کرنے کے لئے اعداد و شمار کا مردم شماری نہایت لازمی امر ہے ، ویسے بھی مردم شماری ایک آئینی اور دستوری فرائض میں شامل ہے اور دنیا بھر کی طرح ہمارے یہاں بھی اس کا ایک ادارہ قائم ہے جو جب بھی ضرورت پڑے مردم شماری کیلئے ہمہ وقت تیار ہے۔ ویسے تو یہ فریضہ ہر دس سال بعد لازماً منعقد ہونا چاہیئے مگر ہمارے ملک میں گذشتہ 65سالوں میں صرف اور صرف پانچ یا چھ مرتبہ ہی مردم شماریاں کرائی گئی ہیں۔ ظاہر ہے کہ 65سال پہلے اعداد و شمار کچھ اور تھا اور آج 2012ء میں یہ اعداد و شمار یکسر تبدیل ہو چکا ہے۔ لہٰذا لازمی مردم شماری کرایا جانا چاہیئے۔
ملک بھر میں آنے والے انتخابات کے حوالے سے بہت زیادہ تحفظات ہیں ۔ حکومت کچھ چاہتی ہے اور سپریم کورٹ کچھ! کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہماری آزاد عدلیہ جس طرح گیس کی قیمتوں میں کمی کروا کر عوام کے دل جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی ویسے ہی بجائے کراچی کے پورے ملک میں مردم شماری ، حلقہ بندیوں اور گھر گھر جاکر ووٹر کو چیک کرنے کا حکم دیتی ۔ عوام کی آنکھیں بھی کھلی ہی ہیں آج کل ! کل ایک صاحب سے یونہی چلتے پھرتے بات چیت ہوئی اس موضوع پر تو جناب انہوں نے اپنے غصے کا اظہار کیا کہ ایک شہر کیلئے حکم نامہ سراسر ناانصافی ہے ۔اصل بات بھی یہی ہے کہ پورے ملک میں نئی مردم شماری کرائی جائے اور پھر حلقہ بندیوں کا سلسلہ بھی از سرِ نو ترتیب دیا جائے تاکہ کسی بھی شخص، عوام، یا سیاسی جماعت کو اعتراض نہ ہو۔ کیونکہ اگر اعتراضات نے جنم لیا اور اسے ختم کیئے بغیر یہ سب کچھ کیا گیا تو انتخابات بھی بعد میں ان ہی لوگوں کی طرف سے مبہم قرار دیئے جا سکتے ہیں جس کی وجہ سے دنیا میں ہمارا امیج متاثر ہونے کا اندیشہ پیدا ہوگا۔
خدشہ ہے کہ الیکشن کے انعقاد سے پہلے ملک بھر میں امن و امان کی فضا خراب ہو سکتی ہے (ویسے بھی آج کل کون سے حالات ٹھیک ہیں) اور الیکشن پاک فوج کے جوانوں کی نگرانی میں ہونگے۔ یہ خدشہ تو ملک کے حالات کی وجہ سے ظاہر کیا جا رہا ہے سچ پوچھیں تو انتخابات فوجی جوانوں کی نگرانی میں ہی ہونا چاہیئے تاکہ سب کا اعتماد بحال رہے اور خاص کر امن و امان کا مسئلہ بھی درپیش نہ ہو۔
الیکشن کمیشن کے پاس اگر وسائل اور وقت دستیاب ہے تو وہ بجائے اس کے کہ صرف ایک شہر میں کاروائی کریں انہیں چاہیئے کہ پورے پاکستان میں پرانی حلقہ بندیوں پر نظرِ ثانی کرے اور اگر ضرورت پڑے تو پاک افواج کو اپنے شانہ بشانہ رکھیں ۔ کچھ عرصہ پہلے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اخبارات کے ذریعے یہ واضح کیا تھا کہ آنے والے انتخابات موجودہ حلقہ بندیوں میں کسی ترمیم کے بغیر ہی ہونگے اس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ حلقہ بندیوں کیلئے مردم شماری نہایت ضروری امر ہے۔ اور مردم شماری کے لئے سمری مشترکہ مفادات کونسل کے پاس ہے جس کی رپورٹ 2012ء کے آخر سے پہلے ممکن نہیں ہے اس لئے نئے انتخابات موجودہ حلقہ بندیوں کے تحت ہی ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ خانہ شماری میں ہر اسٹرکچر کی تفصیل جمع ہونی ہوتی ہے’’ الف‘‘ سے لیکر ’’ی ‘‘تک کی تفصیلات جمع کرنا کوئی دنوں کا کام تو ہے نہیں ۔ ان تمام معاملات کو حل کرنے کیلئے وقت درکار ہوگی ، چونکہ الیکشن سَر پر ہے اس لئے اس طرح کے عمل سے شفافیت کا عمل پھر سے متاثر ہونے کا اندیشہ ہوگا۔ اب کراچی بھی پہلے جیسا نہیں رہا اس کی آبادی دگنی سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق کراچی میں صرف تیرہ سو کچی آبادیاں موجود ہیں اور سیلاب زدگان کے کیمپ الگ ہیں ۔ ان کو بھی شمار کرنا ہوگا ، ان کے گاؤں ، تعلقہ کا بھی اندراج ضروری ہے تاکہ یہ وہاں کے ووٹروں کی فہرستوں میں شامل ہو سکیں نہ کہ کراچی میں بھی اور وہاں بھی!
ملک کے طول و عرض کے ہر حلقے کو اس بات کی شنید ہے کہ خانہ شماری کا کام باورچی خانے کی طرح آسان نہیں ہوتی بلکہ مردم شماری کا کام خاصا مشکل ہے ، نقشوں اور بلاکوں کے باوجود بکھرے ہوئے کچی آبادیوں، ریلیف کیمپس ، اوطاقوں، فٹ پاتھوں پر سوئے ہوئے غریب افراد، اور کھلے ہوئے مقامات پر رہنے والوں کو جمع کرنا انتہائی دشوار گزار مرحلہ ہوتا ہے۔ مردم شماری تنگئ وقت اور اخراجات کی زیادتی، عملے کی وافر تعداد کی ضرورت کے لحاظ سے بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ نئے بجٹ میں بھی اس کے لئے رقم مختص نہیں کیا گیا ہے۔مردم شماری اور خانہ شماری ایک ہی کام نہیں بلکہ یہ دونوں کام الگ الگ زمرے میں آتی ہیں مگر یہ ایک دوسرے کا جز ہیں۔
مردم شماری کے پس منظر کو دیکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ آج وطنِ عزیز کی آبادی لگ بھگ بیس کروڑ ہے اور ان بیس کروڑ افراد اور فیملیز کا ڈیٹا جمع کرنا آسان نہیں اگر نادرا سے بھی استفادہ کیا جائے تب بھی وقت درکار ہوگا۔ اور حکومت سمیت الیکشن کمیشن کے پاس بھی وقت کی کمی دیکھی جا سکتی ہے کیونکہ چند دنوں میں کیئر ٹیکر حکومت نے بھی آنا ہے ۔ اس وقت لگ بھگ چالیس فیصد دیہات کی آبادی شہروں میں منتقل ہو چکی ہے اور حکومتی اداروں نے ابھی تک دیہی آبادیوں کو شہری آبادیوں میں منتقلی کا نوٹیفیکیشن ہی جاری نہیں کیا ہے۔ اس کی وجہ سے بھی انتخابی سیاست کے میدان میں گہرے اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ نظر آ تا ہے۔
محبتیں جب شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرنا
جو خانہ شماری میں آئیں ہیں وہ تکلیفیں بھی شمار کرنا
تم اپنی مجبوریوں کے قصے ضرور لکھنا وضاحتوں سے
مگر کہیں ضبط ٹوٹ جائے تو بارشیں بھی شمار کرنا
مسلم مزاج میں بھی آج سیاسی موقع پرستی ہے ، آئین اور قانون سے بے نیاز، تاریخی شعور سے بے بہرہ پن، ہم میں کُوٹ کوُٹ کر بھری ہوئی ہیں اسی لئے ہم کام تو سب کرنے کی جستجو کرتے ہیں مگر کامیاب شاز و نادر ہی ہوتے ہیں ۔ اور تمام معاملوں میں عوام بھی مطمئن اور منظم نہیں ہوتے جس کی وجہ سے ہوتا ہوا کام بھی رُک جاتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا پورے ملک میں مردم شماری اور حلقہ بندیوں پر کام ہوتا ہے یا صرف ایک شہر تک ہی اس کام کو محدود کیا جاتا ہے ۔ کون سا ادارہ انصاف کی بلندیوں کو چُھوتا ہے اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا۔ ہم تو صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ پروردگار نے فقط دو چیزوں کا بندوں سے مطالبہ کیا تھا: اخلاص اور غور و فکر، بے حد افسوس کے ساتھ تحریر کرنا پڑ رہا ہے کہ ہم سب ان دونوں سے تہی علم اور نامراد ہیں۔
ابھی تک تو اخبارات اور میڈیا کے ذریعے یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر صاحب نے کہہ دیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کریں گے اور آئندہ انتخابات شفاف کرائیں گے۔ اور نئی ووٹر لسٹیں تیار کی جائیں گی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حلقہ بندیوں کے حوالے سے کوئی اپیل کر دے اور یہ کام پھر رُک جائے ۔ Lets wait and watch کے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  راولپنڈی:ریڑی بان کو موت کے گھاٹ اتارنے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ