تازہ ترینکالممحمد افضل شاغف

وطن کے دشمن

afzalوطن عزیز پاکستان محض ایک زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ ایک نظریاتی مملکت ہے جسے اس مقصد کے تحت حاصل کیا گیا تھا کہ یہاں پر اسلام اور ارکان اسلام کی پاسداری ہوگی اور حقوق العباد کی بجا آوری ہوگی۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے اسے ہمارے حوالے کرکے ایک بلند فرض ادا کر دیا۔ لیکن افسوس صد افسوس کہ اب بھی ملکی حالات وہی ہیں جو قیام پاکستان سے قبل تھے۔ قیام پاکستان سے قبل ہندواورسکھ مسلمانوں کا استحصال کرتے تھے اور لوٹ مار کا بازار گرم کیے ہوئے تھے لیکن اب پاکستانی ہی پاکستانی کا گلا کاٹ رہا ہے۔اوپر سے عوام کے اپنے ہاتھوں سے منتخب شدہ حکومتی نمائندے عصر حاضر کے خدا بنے بیٹھے ہیں۔ہماری پاکستانی عوام بھی کتنی بھولی بھالی ہے کہ اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھنے کے با وجود بھی ایک سوراخ سے کئی کئی بار ڈسے جا رہے ہیں ۔ لیکن قانون قدرت ہے کہ سطح ماہتاب سے یہ زمین آسمان پر ہے۔ہر عروج کو بالآخر زوال ہے۔
یوں تو انسان خوبیوں اور خامیوں کا مرقع ہے ۔ ہر حکمران اپنے اپنے طریقے سے حکومت کرتے چلے گئے ہیں لیکن ملک عزیز اور عوام کا جو حال محترم جناب زرداری صاحب کی حکومت نے کیا، اس سے پہلے کسی نے سوچا تک نہ تھا۔بے روزگاری، غربت، مہنگائی اور کمزور معیشت کا ریکارڑ قائم کر دیا۔ آصف زرداری اکثر اپنی تقاریر میں فرمایا کرتے تھے ’’نواز شریف آ جاؤ تمہیں میں حکومت کرنی سکھاؤں ، پہلے بھی تمہیں سیاست بہت سکھائی ہے، اب اور سکھا دوں۔‘‘ اور پھر اس کے بعد میاں نواز شریف صاحب کا زرداری کے لیے مشہور ڈائیلاگ ’’ پہلے تہاڈی واری ، فیر ساڈی واری‘‘ بھی تو ملکی اور عوامی مفادات کو بالائے طاق رکھ کراپنا کشکول بھرنے کا ایک اعلان تھا۔پیپلز پارٹی کے دور اقتدار میں جب بڑے میاں نواز شریف اور چھوٹے میاں شہباز شریف کی حکومت پر تنقید اور ان کا ملکی عوام کے لیے ڈگڈگی بجانا ٹی وی پر دیکھتے تھے تو لگتا تھا کہ ان سے بڑھ کر عوام کا کوئی خیر خواہ نہیں ہے۔عوام نے آنکھیں بند کرکے اعتماد کا اظہار کر ڈالا۔ نواز شریف 2روپے والی روٹی کا راگ الاپتے رہے اور شہبار شریف 6ماہ میں لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے بلند و بانگ دعوے کرتے رہے۔آنے والے وقت میں بہت جلد ہی ثابت ہو گیا کہ’’بڑے میاں تو بڑے میاں، چھوٹے میاں سبحان اللہ‘‘۔وہی مہنگائی۔۔وہی جان لیوا لوڈشیڈنگ۔۔وہی ملکی قتل و غارت گری اور بد امنی۔مجموعی طور پر یوں کہیے کہ پچھلے ایک سال کے عرصے میں ایک لٹیرے کے دور حکومت کہ نسبت موجودہ حکومت ذرا بہتر دکھائی دی، لیکن پھر بھی عوام کی توقعات سے افسوسناک حد تک نیچے۔ ترقیاتی کاموں کا ذکر کریں تو سب سے اول میٹرو بس (المعروف جنگلہ بس) کا ذکر آتا ہے۔شہر لاہور کے لیے گو کہ یہ اضافہ کسی نعمت سے کم نہیں لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک طرف عوام مہنگائی اور بھوک سے مر رہی ہے اور دوسری جانب انہیں میٹرو بس اور بلٹ ٹرین میں بیٹھنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔میا ں صاحب کو چاہیے تھا کہ پہلے عوام کی بھوک کی وجہ سے خود کشیاں کم کر لیتے اور ملکی خزانے کا عوام کے اپنے دیے گئے پیسے سے عوام کی بھوک مٹانے پر خرچ کرتے اور میٹرو بس کا منصوبہ اگلے مرحلہ پر رکھتے تو کیا ہی اچھا تھا۔ایک مزدور جو محنت و مشقت کے لیے صبح سے شام تک جفا کشی کرتا ہے، اسے سستے آٹے، سستی سبزی، سستے کپڑے اور سستی اشیائے خورد و نوش کی ضرورت ہے ناکہ میٹرو بس میں سفر کرنے اور مزے اڑانے کی۔آپ مجھے ایمانداری سے بتائیے کہ جس ملک میں اپنی پبلک کے لیے بجلی کی مانگ ہی پوری نہ ہو رہی ہو ، وہ ترقی کر سکتاہے؟
فارسی کا ایک مشہور مقولہ ہے ’’جہاں چاہ ، وہاں راہ‘‘۔ انسان اگر چاہے تو سب کچھ ہو سکتا ہے۔ اگر ’’پیاسا کوا‘‘ اپنے لیے پانی کی دستیابی ممکن بنا سکتا ہے تو میاں صاحب پاکستان کے لیے بجلی کی دستیابی کیوں ممکن نہیں بنا سکتے۔ میاں صاحب، کسی پیاسے کوے سے ہی مشورہ لے لیجئے شاید بجلی پوری کرنے کا کوئی فارمولہ ہی بتا دے۔اور اگر جان بوجھ کر اس اہم مسئلے کا حل التوا میں ڈالا ہے اور حکومت کے چوتھے سال کچھ گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنی ہے تا کہ سادہ لوح عوام آپ کو پھر سے آنے والے 5سالوں کے لیے نام نہاد لیڈر چن لیں تو یہ آپ کی بھول ہوگی۔
کہتے ہیں کہ اقتدار کی عینک لگ جانے سے حکمران کو عوام دکھائی نہیں دیتے۔ میرے خیال سے یہ بات سو فی صد سچ ہے کیوں کہ اس تلخ تجربے سے میں بھی گزر چکا ہوں۔ میں نے الیکشن سے ایک دن قبل ایک سیاستدان کا ایف ایم ریڈیو پر انٹرویو کیا تھا۔ کافی طویل انٹرویو۔انسان اپنے انٹر ویؤر کو کم ہی بھولتا ہے ۔ وہ صاحب الیکشن جیت گئے اور ایک عظیم منصب پر فائز ہو گئے۔ چند سال گزرنے کے بعد مجھے اپنے ایک جائز کام کے سلسلے میں ان کے پا س لاہور میں حاضر ہونا پڑا۔میرے بھرم کی اس وقت کرچیاں کرچیاں ہو گئیں جب موصوف نے مجھے پہچاننے سے کلی انکار کر دیا۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ ’’الیکشن والا سیاستدان کچھ اور ہوتا ہے اور اقتدار والا سیاستدان کچھ اور‘‘۔
میرے دوستو، پاکستان کسی خطہ زمین کا نام نہیں بلکہ قوم کے ایک ہونے اور تمام صوبوں کے اتحاد کا نام پاکستان ہے۔ آپ پاکستان ہیں ، میں پاکستان ہوں۔لیکن ہماری حکومتیں اور حکمران کس طرح سے اس ملک کا ستیا ناس کیے جا رہے ہیں ، یہ ہم سب کے ل
یے لمحہ فکریہ ہے۔میاں صاحب اپنی گرتی ہوئی حکومت کو کندھا دینے کے لیے مختلف قسم کے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں، یہاں تک کہ عوام کا امڈتا ہوا سیلاب ان کے لیے اس قدر خوفناک تھا کہ آزادی مارچ کے راستے روکے جانے لگے، کنٹینرز کو رکاوٹوں کے طور پر نہ صرف استعمال کیا گیا بلکہ ان میں مٹی بھر کر بھاری کیا گیا کہ کوئی اٹھا کر ادھر نہ کر سکے۔میاں صاحب عوام سے اس طرح ڈرنے لگے جس طرح کوئی بچہ کسی جن بھوت کا خواب دیکھ کر ڈرتا ہے۔یہ وہی تو عوام ہے جس کے ساتھ آپ نے وعدے کیے تھے۔دوسری جانب عمران خان اور طاہر القادری صاحبان بر سر پیکار ہیں کہ نواز شریف سے استعفی لے کر ہی جائیں گے۔احتجاج ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔کل عمران خان نے ریڈ زون میں داخل ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ ریڈ زون کا مطلب ہے خون خون ۔۔۔۔۔۔اور خون۔ کس کا؟ کسی سیاستدان کا؟ نہیں جناب، عوام کا خون۔ بیچارے عوام کا۔حکمرانوں اور سرمایہ داروں کے ایسے ہتھکنڈوں کے بارے میں ہی تو علامہ اقبال نے کہا تھا، 

’’ مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات ‘‘ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا رنج ابھی پرانا نہیں ہوا کہ ایک اور سانحہ ہونے کو ہے۔عمران خان سمجھتے ہیں کہ شاید نواز شریف استعفی دے دے گا لیکن کپتان صاحب کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ نواز شریف بھی تو زرداری کے شاگرد سیاست ہیں، مجال ہے جو ان کے کان پر جوں بھی رینگ جائے، جنہوں نے استعفی دینا ہوتا ہے وہ اتنی دیر نہیں لگایا کرتے جناب۔ساتھ ساتھ طاہر القادری بھی خون لگا کر شہیدوں میں شمار ہونا چاہتے ہیں۔عوام نے ان کی خاطر گولیاں کھائیں ، شہادتیں ہوئیں لیکن یہ لیڈر صاحب اپنے پیاروں کے حقوق کے لیے ایک FIRتک درج نہ کروا سکے، کیسے عظیم لیڈر ہیں یہ صاحب بھی۔اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی یاد رہنا چاہیے کہ اسی ڈی چوک پر ان کا سابقہ دھرنا بغیر کسی مطالبہ کی تکمیل کے ہی کافور ہو گیا تھا۔
ْقصہ مختصر، نواز شریف، عمران خان اور طاہرالقادری اس وقت جو کچھ بھی کر رہے ہیں اس میں سراسر پاکستان کا اور عوام کا نقصان ہے۔ ان کو ہوش کے ناخن لے کر کوئی درمیانی راہ اختیار کرنی چاہیے۔ انقلاب کا لفظ بول دینا آسان ہوتا ہے، تاریخ کے صفحات پلٹ کر دیکھ لیجیے، انقلاب جب بھی آیا ہے، اپنے ساتھ، خون کی نہریں اور مرگھٹ لے کر ہی آیا ہے۔ہماراباہمی اتحاد اور اتفاق مضبوط ہوتا تونریندر مودی جیسا کافر یہ کبھی نہ کہ سکتا کہ ’’ پاکستان اپنی روائتی جنگ لڑنے کی صلاحیت کھو چکا ہے‘‘۔ 

note

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ: اوکاڑہ یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ نے خواتین اساتذہ کے لیے رہائشی کمپلیکس کی منظوری دے دی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker