تازہ ترینطارق حسین بٹکالم

۔۔، ۔ وطن کے دشمن ۔،۔۔

TARIQ BUTTپاکستان کا قیام ایک ایسی شخصیت کے ہاتھوں پایہ تکمیل کو پہنچا تھا جس نے اعلان کر رکھا تھا کہ پاکستان میں تھیاکریسی کی حکومت قائم نہیں ہو گی بلکہ یہاں پر ایک ایسا لبرل معاشرہ قائم کیا جائے گا جس میں ملک میں رہنے والی ساری اکائیوں کے حقوق کا خیال رکھا جائے گا۔ پہلی قانون ساز اسمبلی میں قائدِ اعظم محمد علی جناح کی تقریرانہی جذبات کا احا طہ کئے ہو ئے تھی ۔ان کی اس تقریر کو غلط رنگ بھی پہنایا گیا اور ان پر سیکو لر ہونے کا الزام بھی لگایا گیا حا لانکہ وہ سیکو لر نہیں تھے بلکہ ایک جدید، ماڈرن اور لبرل معاشرے کے قیام کے علمبردار تھے۔ان کی کسی بھی تقریر میں مذہبی منافرت کا کہیں شائبہ تک نہیں ملے گا۔وہ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے مستقبل کے بارے میں بڑے متفکر رہتے تھے اور ایک علیحدہ اسلامی ریاست (پاکستان) کا قیام ان کی اسی فکر کا شاہکار بن کر سامنے آیا تھا۔وہ ایک سچے جمہوریت پسند تھے اسی لئے ان کا شمار انتہا پسندی کے شدید ناقدین میں ہوتا تھا۔علما کی ان سے پرخاش کی سب سے بنیادی وجہ بھی یہی تھی کہ قائدِ اعظم محمد عی جناح ٹکراؤ اور انتہا پسندی کی سیاست کرنے کی بجائے پر امن جمہوری جدوجہد کے علمبردار تھے ۔ ان کا لباس،اندازِ زیست،خراش تراش اور رہن سہن بھی ان کے نظریات کا عکاس تھا۔یہی وجہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد کبھی بھی شدت پسندی یا انتہا پسندی کے مظاہر دیکھنے کو نہیں ملے تھے کیونکہ قائدِ اعظم محمد علی جناح کی سوچ اور کردار اس بات ی اجازت نہیں دیتے تھے ۔معاشرہ محبت اور یگانت کی اجلی تصویر تھا جس میں سارے لوگ ایک دوسرے کا احترام بھی کرتے تھے اور آپس میں بھائیوں کی طرح مل جل کر بھی رہتے تھے۔تفرقہ بازی کی بجائے پوری قوم یکجہتی کے رنگوں میں رنگی ہوئی تھی کیونکہ انھوں نے اپنے قائد سے محبتوں کا یہی سبق سیکھا تھا۔وقت آگے بڑھتا رہا اور قیامِ پاکستان والی قیادت دھیرے دھیرے ختم ہوتی چلی گئی تو ایثار اور قربانی کی حس بھی دیکھتے دیکھتے دم توڑتی چلی گئی اور یوں شدت پسندی اپنئے ہونے کا احساس دلانے لگی ۔۔
قائدِ اعظم محمدی جناح کے لبرل،ماڈرن اور جدید فکر کے نعرے کا عملی پیکر بن کر ذولفقار علی بھٹو افقِ سیاست پر نمو دار ہوئے تو عوام نے ان کا والہانہ استقبال کیا۔ان کی عوامی سیاست نے پاکستان میں یکجہتی کی نئی فضا کو جنم دیا تھاجس سے تھیا کریسی کے خواب دیکھنے والوں کو بری طرح سے مایوسی ہوئی تھی کیونکہ عوام نے انھیں مسترد کر کے ایک جدید سوچ کے حامل سیاستدان کو اپنے مینڈیٹ سے نوازا تھا۔ایک نیا معاشرہ تشکیل پذیر ہوا تھا جس میں مذہبی شدت پسندی کو بری طرح سے شکست ہوئی تھی اور لبرل سوچ کامیابی سے ہمکنار ہوئی تھی لیکن یہ سب کچھ ایک قلیل مدت کے لئے ثابت ہوا کیونکہ جنرل ضیالحق کے مارشل لا کے بعد قوم ذات برادریوں، قبیلوں اور تفرقوں میں تقسیم ہوتی چلی گئی اور پاکستان ایک ایسی شاہراہ پر چل نکلا جہاں پر دھشت گردی کی کاروائیوں نے اس کے خوبصورت چہرے کو لہو لہان کر کے رکھ دیا۔ ۱۹۷۹ ؁میں افغانستان میں روسی یلغارسے مجاہدین کا ایک نیا گروہ وجود میں آیا جس کی امریکہ،یورپ اور پوری امتِ مسلمہ نے دل کھول کر پشت پناہی کی اور انھیں مجاہدینِ اسلام کے نام سے پکارا۔روس کی شکست کے بعد امریکہ نے بھی افغانستان کی تعمیرِ نو سے ہاتھ کھینچ لیا تو مجاہدینِ اسلام حکومتی اختیا رات پر آپس میں دست و گریبان ہو گئے۔ان کی باہمی جنگ و جدل نے پاکستان کے امن کو متاثر کیا اور پاکستان میں دھشت گرد کاروائیوں کا آغاز ہوا۔ طالبان کے ظہور نے اس جنگ و جدل کو ختم کر کے ملک میں امن و امان قائم کیا جس سے پاکستان میں بھی دھشت گرد کاروائیوں میں کمی آگئی ۔نائن الیون کو القاعدہ نے ٹون ٹاور پر حملہ کر دیا جس سے پوری دنیا میں کہرام مچ گیا۔اس حملے کے ردِ عمل میں امریکہ نے افغانستان پر ہلہ بول دیا اور فغا نستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔طا لبان چھپتے چھپاتے پاکستانی سرحدی علا قوں میں داخل ہو گئے اور پاکستان میں اپنے مضبوط اڈے قائم کر کے امریکہ فوجوں کے خلاف بر سرِپیکار ہوگئے۔امریکہ کے خلاف اسی جنگ سے تحریکِ طالبان پاکستان کا ظہور ہوا جس نے پاکستان پر امریکی معاونت کا الزام لگا کر اس کے خلاف دھشت گرد کاروائیوں کا آغاز کر دیا۔لال مسجد اپریشن نے اسے مزید تقویت عطا کی ۔ان دھشت گرد کاروائیوں سے پاکستان میں آگ و خون کا ایک ایسا کھیل شروع ہوا جس نے پاکستان کے نظامِ حکومت کو درہم برہم کر کے رکھ دیا ۔امریکہ نے ۔تحریکِ طالبان کو دھشت گرد قرار دے کر ان کی پناہ گاہوں کو ڈرون حملوں کے ذ ریعے نشانہ بنانا شرع کیا جس سے جنگجو ؤں کے ساتھ ساتھ بے گناہ شہری بھی مارے جاتے رہے۔ ڈرون حملوں میں مارے جانے والے عام شہریوں کی تعداد ۶۷ ہے جبکہ دھشت گردون کی تعداد ۲۱۶۱ ہے ۔ ہر ڈرون حملے کے بعد پاکستان میں بم دھماکے اور دھشت گرد کاروائیاں شروع ہوجا تی ہیں۔اس طرح کی کاوروائیوں میں شہدا کی تعداد پچاس ہزار سے زیادہ ہے جو اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ دھشت گرد پاکستان اور اسلام کے اصلی دشمن ہیں۔۔
پاکستان کی ساری مذہبی جماعتیں تحریکِ طالبان کی درپردہ حمائت کرتی ہیں ۔ان کی اسی شہ کی وجہ سے تحریکِ طالبان نے اپنی کاروائیوں میں شدت پیدا کر کے پاکستان کو گورستان بنا رکھا ہے۔ بم دھماکوں اور خود کش حملوں نے ہزار ہا لوگوں کی جان لے لی ہے ۔تحریکِ طالبان کا رعب و دبدبہ ساری سیاسی جماعتوں پر ہے لہذا تحریکِ طالبان کے خلاف کسی کو بھی کچھ کہنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ جو کوئی ایسا کرنے کی ہمت کرتا ہے اس کی زبان ہمیشہ کیلئے بند کر دی جاتی ہے۔ تحریکِ طالبان جہاں چاہتی ہے حملہ کر دیتی ہے اور جسے چاہتی ہے موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے ۔ اس کے جبر اور بربریت کے سامنے کسی کو بھی سر اٹھا کر چلنے کی جرات نہیں ہے ۔ جنرل پرویز مشرف پر بھی کئی قاتلانہ حملے ہوئے لیکن وہ معجزانہ طور پربچتے رہے ۔جنرل پرویز مشرف اور تحریکِ طالبان کے درمیان ایک طویل جنگ چلی جس میں تحریکِ طالبان نے سوات قبضہ کر کے پاکستانی یکجہتی کو پارہ پارہ کردیا ۔ پی پی پی کے دورِ حکومت میں راہِ راست اپریشن کے بعد سوات پر پاکستانی پرچم لہرایا گیا لیکن تحریکِ طالبان پاکستان نے اپنی اس ناکامی کا بدلہ لینے کیلئے پورے پاکستان میں خود د کش حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا ۔تحریکِ طالبان کی کمر توڑنے اور ان کی طاقت کو نیست و نابود کرنے کیلئے حکومتِ پاکستان نے امریکہ کی اعانت سے ڈرون حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا جس کے نتیجے میں تحر یکِ طالبان کے کئی راہنما ہلاک ہوئے۔تحریکِ طالبان کوسب سے بڑا جھٹکا اس وقت لگا جب اس کے جوان سال قائد بیت اللہ مسعود ڈرون حملے میں مارے گئے۔ اسکی موت کے بعد جنگ میں مزید شدت آ گئی جس میں پاکستان کے ۰۰۰،۴۰ہزار سے زائد لوگوں نے قربانی دی،فوج کے جوانوں نے اپنی جوانیوں کا خراج دیا اور معصوم اور بے گناہ لوگوں نے اپنے پیاروں کے لاشے اٹھائے لیکن دھشت گرد کاروائیاں پھر بھی جاری ہو ساری ر ہیں۔تحریکِ طالبان کو بالکل رحم نہ آیا کہ وہ بارود کے ڈھیر سے اپنے گھر کے ہی بے گناہ انسانوں کو موت کی نیند سلا رہے ہیں۔ظلم حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے یہی حال تحریکِ طالبان کا بھی ہوا۔اس کے دوسرے قائد حکیم اللہ مسعود بھی ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے۔بڑی پرا نی کہاوت ہے کہ جو بندوق اٹھاتا ہے وہ اسی بندوق کی گولی سے مرتا ہے ۔حکیم اللہ مسعود نے جس راہ کا انتخاب کیا ہوا تھا اس کا انجام یہی ہونا تھا جو ہوا۔ہزاروں لوگوں کے خون سے ہولی کھیلنے والوں کا انجام اسی طرح کی موت ہی ہوتی ہے۔ حکیم ا للہ مسعود کی قیادت میں تحریکِ طالبان نے سفاکیت اور بربریت کی انتہا کر دی تھی اور بے گناہ شہریوں کیلئے جینا حرام کر رکھا تھا جس کی وجہ سے پاکستان کے آنگن میں موت ناچ رہی تھی او ر کسی بھی شہری کی بھی زندگی محفوظ نہیں تھی ۔ لیکن پاکستان میں حکیم اللہ مسعود کی ہلاکت پر حکومت اور مذہبی جماعتوں نے جسطر ح خواس باختہ ردِ عمل کا اظہار کیا ہے اس نے مجھے حیران کر کے رکھ دیا ہے ۔ ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے ڈرون حملے میں دھشت گرد وں کے سرغنہ کا نہیں بلکہ پاکستان کے بہت بڑے محسن،خیر خواہ،دوست۔ہمدرد اور غمگسار شخص کا قتل ہوا ہے جس کا سوگ منانا پوری قوم پر فرض ہے۔۔۔۔ (جاری ہے)۔۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button