پاکستان

لاہور:پانی کا مسئلہ اس وقت سنگین صورت اختیار کرچکاہے

لاہور ﴿نامہ نگار﴾ پانی کا مسئلہ اس وقت سنگین صورت اختیار کرچکاہے۔ مگر سابقہ اور موجودہ حکمرانوں نے اس سے چشم پوشی اختیار کررکھی ہے۔ انڈیا ہمارے دریائوں پر بند باندھ کر ہمارے ملک کو صحرا میں تبدیل کرنا چاہتاہے۔ اس وقت ملک کے اندر ڈیموں کا بننا انتہائی ضروری ہے۔ کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے تو پانی کا مسئلہ خود بخود حل ہو جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار پانی کے عالمی دن کے حوالے سے کسان بورڈ پاکستان کے زیر اہتمام ہمدرد ہال لاہور میں منعقدہ ایک سیمینار سے کیا ۔ سیمینار کی صدار کسان بورڈ پاکستان سرفراز احمد خان نے کی۔ ملک بھر سے آئے ہوئے بہت سے کسانوں نے اس میں شرکت کی اور کسان بورڈ کے عہدیداران کے علاوہ دیگر کسان تنظیموں کے رہنمائوں نے شرکت کی۔ تلاوت قرآن پاک کے بعد سٹیج سیکرٹری کے فرائض حاجی محمد رمضان، سیکرٹری اطلاعات کسان بورڈ نے ادا کئے۔
حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کسان بورڈ پاکستان کے نائب صدر اور آج کے مذاکرہ کے صدر سرفراز احمد خان نے کہاکہ حکمرانوں نے پانی کے مسئلے پر سنجیدگی سے غور وفکر نہ کیا تو آنے والے وقت میں کسان اور زراعت تباہ ہوجائے گی۔ سابق وفاقی وزیر زراعت، مہمان خصوصی سلطان علی چوہدری نے کہاکہ میں نے اپنے دور میں پانی کے مسئلے پر بہت جدوجہد کی ہے اور اب بھی کررہاہوں۔ اس سلسلے میں کسان بورڈ پاکستان کی کاوش کو خراج تحسین پیش کرتاہوں۔ جنہوں نے پانی کے عالمی دن کے حوالے سے سیمینار کا اہتمام کرکے تمام ماہرین کو اکٹھا کیا۔ حکومت کو بھی اس طرح تمام آبی ماہرین اور کسان تنظیموں کو اکٹھا کرکے ان کی رائے کے مطابق پانی کا مسئلہ حل کرنا چاہئے۔ سابق ایم این اے اور پاکستان کے معروف سکالر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے کہاکہ اگر کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے تو پانی کے تمام مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ ہمارے حکمران ہوش کے ناخن لیں اور انڈیا سے تجارت کرنے کی بجائے پہلے کشمیر اور پانی کا مسئلہ حل کریں۔ سابق وفاقی وزیر اور ماہر قانون دان جناب ایس ایم ظفر نے کہاکہ اس مسئلے کے حل کے لئے ہماری حکومت نے قانونی جدوجہد نہیں کی۔ اگر انڈس واٹر ٹریٹی کے معاہدے کو عالمی عدالت میں اٹھایا جائے تو پاکستان کے پانی کے مسئلے کا حل نکل سکتاہے۔ انڈس واٹر ٹریٹی کے سابق کمشنر سید جماعت علی شاہ نے کہاکہ مجھ پر غداری کے الزامات غلط ہیں۔ میں نے اپنے اٹھارہ سالہ دور میں اس معاہدے کے مطابق دن رات جدوجہد کی مگر افسوس کہ پاکستان کے پاس ایک بھی پانی کا لیگل ایکسپرٹ نہیں۔ اس معاہدے سندھ طاس کو قائم رکھتے ہوئے ہمیں؟ عالمی عدالتوں اور فورموں میں یہ مسئلہ اٹھانا چاہئے۔ اس مذاکرہ سے سیکرٹری کسان بورڈ حاجی محمد رمضان نے کہاکہ پوری قوم کو متحد ہوکر آبی مسائل کے حل کیلئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر قومی اسمبلی کا گھیرائو کرنا چاہئے۔ سیمینار سے مقررین چوہدری اختر ہارون میو، سابق ڈی جی واٹر مینجمنٹ مشتاق گل، سابقہ چئیر مین ارسا شفقت مسعود، پاکستان واٹر موومنٹ کے کنوینر سیف اللہ منصور، فیپ کے صدر ڈاکٹر طارق بچہ کے علاوہ دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ آخر میں سرفراز احمد خان نے آنے والے معزز مہمانان گرامی قدر کا شکریہ ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker