تازہ ترینکالم

وزارت امور کشمیر و کونسل کی ’’ پورب سے پچھم‘‘ تک کرپشن

atharکرپشن ،اقرباء پروری اور سیاسی سازشوں کے حوالے سے بدنام وفاقی وزیر امور کشمیر میاں منظور وٹو کے بعد مسلم لیگ(ن) کے چودھری برجیس طاہرنے وزارت امور کشمیر اور آزاد جموں و کشمیر کونسل کا انتظام سنبھالا ہے۔64سالہ چودھری برجیس طاہر کا تعلق شاہکوٹ سانگلہ ہل سے ہے اور وہ پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں۔گزشتہ اسمبلی میں بھی ممبر قومی اسمبلی رہے اور اب چوتھی مرتبہ اسمبلی میںآئے ہیں۔پیپلز پارٹی کی حال ہی میں ختم ہونے والی حکومت میں چودھری برجیس طاہر چار پالیمانی سٹینڈنگ کمیٹیوں اور ایک سب کمیٹی میں شامل رہے،آئی ٹی کمیٹی کے چیئر مین،ممبر ہاؤسنگ اینڈ ورکس کمیٹی،ممبر پیٹرولیم اینڈ نیچرل ریسورسز،ممبر نیشنل اسمبلی بزنس ایڈوائیزری کمیٹی اور ایل پی جی کے بارے میں سب کمیٹی کے کنویئر رہے۔1998-99ء میں چودھری برجیس طاہر پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی طرف سے ہیلی کاپٹر ز کی خریداری کے سکینڈل میں تحقیق کار مقرر کئے گئے۔
فاقی وزیر امور کشمیر و انچارج کشمیر کونسل چودھری برجیس طاہرنے آزاد کشمیر کے صدر سردار یعقوب سے ملاقات میں بتایا کہ پاکستان میں 22ارب سے زائد مالیت کی کشمیر پراپرٹی موجود ہے جس کی آمدنی صرف چار کروڑ روپے ہے۔اس حوالے سے عدالتوں میں زیر التوا مقدمات پر کسی نے توجہ نہیں دی۔متاثرین منگلا ڈیم کے تمام مسائل حل کرنے کے لئے مزید250ارب روپے درکار ہوں گے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارت امور کشمیر کے وسائل کم اور مسائل کے پہاڑ ہیں۔وزیر اعظم آزاد کشمیر نے بھی اسی دن وفاقی وزیر امور کشمیر سے ملاقات کی۔آزاد کشمیر کے صدر اور وزیر اعظم کی مجبوری ہے کہ وہ وزیر امور کشمیر سے ’’خیر خواہی‘‘ چاہتے رہیں۔لیکن آزاد کشمیر کے صدر اور وزیر اعظم کے سابق وفاقی وزیر امور کشمیر میاں منظور وٹو سے پیپلز پارٹی کی بنیاد پر جو قریبی تعلقات رہے،اس طرح کی صورتحال اب ممکن نہیں۔سابق وزیر امور کشمیر میاں منظور وٹو نے تو آزاد کشمیر کو سیاسی طور پر فتح کرنے کے لئے پوری بساط بچھائی،آزاد کشمیر میں مسلم کانفرنس کو توڑنے کے لئے آزاد کشمیر کی صدارت دینے کا جھانسہ دیا گیاکیونکہ مسلم کانفرنس کے ہوتے ہوئے آزاد کشمیر میں پیپلزپارٹی کا کوئی مستقبل نہیں تھا۔ آزاد کشمیر کا الیکشن جیتنے کے لیئے مرضی کا الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا،پیپلزپارٹی کے حق میں انتظامی سطح پر بھی انتظامات کئے گئے اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی بڑی رقم استعمال کی گئی۔المختصر یہ کہ آزاد کشمیر کے الیکشن سے پہلے ہی آزاد کشمیر کے امور فریال تالپور اور میاں منظور وٹو نے سنبھال لئے تھے۔حکومتی عہدوں کے لئے پیسے کا بھر پور استعمال ہوااورآزاد کشمیر کی حکومت و سیاست کی بدنامی کی شرح میں بہت زیادہ اضافہ کر دیاگیا۔سابق وزیر امور کشمیر میاں منظور وٹو نے آزاد کشمیر کے آئین میں ترامیم کا جھانسہ دیتے ہوئے آزاد کشمیر کے سیاست دانوں کی’’اٹھک بیٹھک‘‘ بھی کرائی، آزاد کشمیر کی موجودہ پیپلز پارٹی حکومت پیپلز پارٹی کی سابق وفاقی حکومت سے کشمیری عوام کے لئے کچھ حاصل تو نہ کر سکی لیکن ان کی فرمائشیں پوری کرنے میں لگی رہی۔
لیکن میرا آج کا موضوع آزاد حصے کے ریاستی عوام کے حق حکمرانی پہ ’’دن دھاڑے ڈاکہ‘‘ کی واردات نہیں بلکہ وزارت امور کشمیر و آزاد جموں و کشمیر کونسل کی ’’ پورب سے پچھم ‘‘ تک محیط کرپشن کے ایک اور سکینڈل کو سامنے لانا ہے۔میں نے اپنی حالیہ کئی تحریروں میں وزارت امور کشمیر اور کشمیر کونسل کی کرپشن،اقرباء پروری اور زیادتی پر مبنی امور کی صورتحال سے متعلق عوام کو آ گاہ کرنے کی کوشش کی ہے اور اپنی ایک تحقیقی رپورٹ میں کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کی مکمل تفصیل دی ہے کہ کل جائیداد کتنی تھی،کتنی فروخت کر دی گئی اور اب کتنی باقی بچی ہے اور یہ بھی کہ یہ سابق آمر جنرل ایوب خان کے اب تک جاری ایک کالے قانون کا کرشمہ ہے کہ کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کشمیریوں کے حق میں استعمال ہونے کے بجائے لوٹ مار کا ذریعہ بنتے ہوئے مملکت کی بھی بدنامی کا باعث ہے۔
آئین میں مندرج موضوع کے حوالے سے کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کا انتظام کشمیر کونسل کے پاس ہونا چاہئے لیکن عملا اس کا انتظام وزارت امور کشمیر لاہور میں قائم ایڈمنسٹریٹیو آفس کے ذریعے چلا رہی ہے۔تقریبا تین عشرے قبل کشمیر کونسل اور وزارت امور کشمیر نے’’ کشمیری مہاجرین کے مفاد میں‘‘ایک منصوبہ بنایا جس سے کشمیری مہاجرین مقیم پاکستان کو کوئی فائدہ تو کیا ہونا تھا البتہ وزارت امور کشمیر اور کشمیر کونسل سے وابستہ کئی افراد ’خوب خوب‘مستفید ہوئے۔ وزارت امور کشمیر اور کشمیر کونسل کے اس منصوبے کے مطابق پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کے موضوع پورب میں کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کی ایک جائیداد میں ’’پورب کالونی‘‘ کے نام سے مہاجرین کی ایک آبادی قائم کرنے کا پروگرام بنایا گیا۔’’پورب کالونی سیکنڈل‘‘ کا آغاز یوں ہوا کہ مہاجرین کے لئے رہائشی کالونی بنانے کے نام پر کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کی آراضی وزارت امور کشمیر کی طرف سے کشمیر کونسل کو فروخت کی گئی اور اسی کی کچھ رقم سے راولپنڈی میں پونچھ ہاؤس کمپلیکس بناکر کرائے پہ چڑھایا گیا۔حالانکہ کشمیری مہاجرین کے لئے رہائشی پورب کالونی کی زمین کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کا حصہ ہے لہذا کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کی متعلقہ آراضی وزارت امور کشمیر کی طرف سے کشمیر کونسل کو فروخت کئے بغیر بھی مہاجرین کے لئے استعمال میں لائی جا سکتی تھی۔کشمیر کونسل نے1983ء میں کافی تعداد میں کشمیری مہاجرین کو ’’ پورب کالونی‘‘ میں پلاٹ الاٹ کئے جبکہ خود کشمیر کونسل کے مطابق اس وقت ’’پورب کالونی‘‘ کی آراضی کرائے پہ تھی اور وہاں فصلیں لگی ہوئی تھیں۔معتبراطلاع کے مطابق ’’ پورب کالونی ‘‘ پر ڈیڑھ ارب روپے خرچ ہوئے جبکہ زمین پہ کچھ بھی نہیں ہے۔وزارت امور کشمیر اور کشمیر کونسل کے’’اعلی دماغوں‘‘ نے مال بنانے کے چکر میں یہ بھی نہ سوچا کہ شہری علاقوں میں رہنے والے کشمیری مہاجرین دیہی علاقے میں کیسے سکونت پذیر ہو سکتے ہیں۔آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم سردار سکندر حیات خان کی وزارت عظمی کے دور میں اخبارات میں کشمیر کونسل کا ایک اشتہار شائع ہوا جس میں متعلقہ آراضی کا آدھا حصہ مہاجر کالونی اور آدھا حصہ فروخت کرنے کے لئے نیلامی کا اعلان کیا گیا۔اسی اشتہار کے دوسرے حصے میں کشمیر کونسل نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے مشاورتی خدمات کی پیشکشیں طلب کی تھیں۔اس پر وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار سکندر حیات نے سخت برہمی کا اظہار کیا تھا۔اس وقت وزیر اعظم آزاد کشمیر کی برہمی کی وجہ سے یہ معاملہ رک گیا ورنہ کشمیر کونسل نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے مشاورتی خدمات کے نام پر نامعلوم کس کس کو کس کس انداز میں نوازنے کا پروگرام بنا رکھا تھا۔کشمیر کونسل کی پھرتیاں ملاحظہ ہوں کہ پورب کالونی کے 1983ء کے الاٹیوں کو جون2005ء میں پلاٹ کا قبضہ دینے کی چٹیں بھی جاری کر دی گئیں جبکہ زمین پہ پورب مہاجر کالونی کا کوئی وجود ہی نہیں۔کشمیری مہاجرین تیس سال سے ہاتھوں میں الاٹمنٹ لیٹر ،قبضہ سلپ لئے پھر رہے ہیں لیکن ان کی کوئی شنوائی نہیں۔’’ پورب مہاجر کالونیُ ُ کے نام پرڈیڑھ ارب روپے کی ریاست کشمیر کی بڑی رقم کہاں اور کیسے خرچ کی گئی،کشمیری عوام یہ سوال کس سے پوچھیں؟
وفاقی وزیر چودھری برجیس اگر آزاد کشمیر حکومت سے بھی اس بارے میں تفصیلی بریفنگ حاصل کریں،آزاد کشمیر کے سیاستدانوں،ماہرین کو اس بارے میں سنیں تو انہیں معلوم ہو گا کہ وزارت امور کشمیر اور کونسل کے افسران اور وفاقی وزیر امور کشمیر کی اکثریت نے کس کس طرح ریاست کشمیر کے وسائل ،ریاستی عوام کے حق کو لوٹا ہے،اپنے لوگوں کو نوازا ہے،اپنے حلقے کے لوگوں کو کشمیر کونسل اور کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کے ایڈمنسٹریٹیو آفس میں بھرتی کیا ہے اور ایسی کون کون سے زیادتیاں کی ہیں کہ جس سے کشمیریوں کے پاکستان پر اعتماد کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔   note

یہ بھی پڑھیں  گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج بھائی پھیرو کی لیکچرارروڑ ایکسیڈنٹ میں ہلاک

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker