انور عباس انورتازہ ترینکالم

تبدیلی کی آرزو ؟

anwar abasعمران خان ہمارے غیر متنازعہ ہیرو ہیں۔ انیس بانوے میں کرکٹ کاورلڈ کپ پاکستان کے نام ہونا انکی بہترین قائدانہ صلاحیتوں کا مظہر تھا۔ پاکستان میں کینسر ہسپتال کی تعمیر بھی انکی عظیم ملکی خدمت میں شمار ہوتی ہے ۔انکی انہیں عوامی اور ملکی خدمات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ۔پاکستان کی اسٹبلشمنٹ نے پاکستان کے خاندانی اور مورثی سیاستدانوں کے گھسے پٹے بوسیدہ چہروں کی جگہ نئے چہرے لانے کا منصوبہ تشکیل دیا۔۔۔اور اس مقصد کے لیے اسٹبلشمنٹ کی نظر انتخاب کپتان عمران خاں اور عبدالستار ایدھی پر جا کر ٹھری۔لیکن جناب عبدالستار ایدھی نے اسٹبلشمنٹ کے منصوبے کا حصہ بننے سے انکار کر دیا اور لندن پہنچ کر اسٹبلشمنٹ کے منصوبے کا بھانڈہ پھوڑ دیا۔پھر کچھ عرصہ خاموش رہنے اور حالات کے مثبت اور سود مند ہونے کا انتظار کیا گیا۔جب حالات سازگار ہوئے تو اور اس نے پاکستان کے عوام کی قیادت کے لیے انہیں(عمران خاں کو) سیاست کے میدان میں لانے کا فیصلہ کیا۔۔۔ماضی کی طرح عمران کے لیے بھی ’’ پر کشش اور عوام کے دل موہ لینے والے نعرے ’’بھی اسٹبلشمنٹ نے منتخب کیے۔سب سے مقبول ہونے والے نعرے ’’ We want change ’’ کو نوجوان نسل کے دل و دماغ کو متاثر کیا۔اور وہ عمران خان کے گرد منڈلانے لگے۔اس امید کے ساتھ کہ اب ہمیں اور ہماری اس قوم کو جاگیرداروں اور سامراج کے گماشتہ خاندانوں کے گرد منڈلاتی مورثی سیاست سے نجات مل جائیگی۔لاہور اور کراچی کے فقید المثال عوامی جلسوں نے نوجوان نسل کے اس یقین کی شہادت دیدی۔اسکے بعد تحریک انصاف میں انہیں خاندانوں کے چشم و چراغ شہد کی مکھیوں کی طرح شمولیت اتیار کرنے لگے۔جس کے نتیجے میں عمران خان کو امید کی آخری کرن سمجھنے والے نظریاتی اور مخلص کارکن ایک سائیڈ پر کیے جانے لگے۔اوران کی جگہ فصلہ بیٹروں نے سنبھال لی۔اور اپنے سرمائے کے بل بوتے پر اپنے ساتھ آنے والے ورکروں کے ’’ میلے’’ سجانے لگے۔تحریک انصاف میں عہدیداروں کے الیکشن کروانے کی روایت عمران خاں کی سوچ اور اسکے ویژن کی عکاسی کرتے ہیں۔ایسا ہونا بھی چاہئے ۔۔۔اور ایسا ہر سیاسی جماعت میں ہونا ضروری ہے۔انیس سو ستاسی کے لگ بھگ پیپلز پارٹی میں بھی الیکشن ہوئے تھے لیکن وہ تحریک انصاف کی طرح نہیں تھے۔ تحریک انصاف کے پارٹی الیکشن نے پارٹی کو مختلف دھڑوں میں تقسیم کر دیا ہے۔کیونکہ یہ الیکشن صاف اور شفاف نہیں تھے ان الیکشنوں نے قومی انتخابات کی یاد تازہ کردی ہے۔جیسے ان انتخابات میں ’’تگڑے امیدوار’’ اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لیے جو ہربہ جائز سمجھتے ہیں وہ اختیار کرتے ہیں۔ویسے ہی تحریک انصاف کے سرمایہ دار اور غیر نظریاتی بھاری بھر کم امیدواروں نے اپنی جیت کو موت و حیات کا مسلہ بنایا اور اسی بنیاد پر اپنی اور اپنے دھڑوں کی جیت کو یقینی بنانے کے لیے ہر حربہ اختیار کیا۔ ووٹ خریدنے کے لیے کارکنوں میں موٹر سائیکلیں تقسیم کی گئیں۔الیکشن سے چند روز قبل ووٹروں کے شناختی کارڈ قبضے میں لے لیے گئے۔نوجوان وکروں کے ووٹوں کے لیے ان کے ’’ بڑے بزرگوں کے ’’ میلے’’ لے کر گے۔جس نظریاتی کارکن بہت اپ سیٹ ہوئے کیونکہ وہ تو نظریات کی سیاست کرنے کے لیے تحریک انصاف میں آئے تھے اگر انہوں نے ایسی ہی سیاست کرنی ہوتی تو پھر وہ مسلم لیگیوں اور پیپلز پارٹی کے شریفوں اور زرداروں کے خلاف علم بغاوت کیونکر کرتے۔تحصیل اور ضلعی عہدے داروں کا انتخابات میں حصہ لینے کے خواہشمند راہنماؤں نے اپنے اپنے دھڑوں کے لوگوں کوووٹر بنوایا۔ جس کا نتیجہ الیکشن کے دن پنجاب بھر کے پولنگ اسٹیشنوں پر لڑائی مار کٹائی کی صورت میں سب عالم نے دیکھا۔ پولنگ اسٹیشنوں پر جو کچھ ہوا میڈیا میں اسکا عشرے عشیر بھی نہیں آیا۔الیکشن کے نتائج سرمایہ داروں اور فصلی بیٹروں کی جیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ یہ الیکشن تحریک انصاف کی ’’ تبدیلی کی سیاست کے تابوت’’ میں آخری کیل ثابت ہوں گے۔اور تحریک انصاف کے اتحادکو سبوتاز کرنے کا باعث بنیں گے۔جب کہ کچھ عناصر کی رائے اسکے برعکس ہے۔یہ عناصر تحریک انصاف کے پارٹیانتخابات کو اپنی تمام تر کمزوریوں،خامیوں کے باوجود ایک اچھی ،جمہوری اور ایک مثبت مشق قرار دیتے ہیں۔اور یہ مثبت اور جمہوری مشق عمران خاں کو پاکستان کے سیاسی ،جمہوری اور انتخابی کلچر کو سمجھنے میں مدد دیگی۔اور انکے علم اور تجربات میں ایک مفید معلوماتکا اضافہ ثابت ہوں گی۔تحریک انصاف کے پارٹی انتخابات کے دوران رونما ہونے والے لڑائی جھگڑے ،دھینگا مشتی اور ووٹروں کی خریدو فروخت اور ہراساں کرنے،بیلٹ بکسو ں کو اٹھا کر لے جانے کے واقعات ملکی انتخابات کے نتائج کو قبول کرنے کے سلسلے م،یں عمران خاں کی بہت راہنمائی کریں گے۔یہ واقعات جناب عمران خاں کی جانب سے عام انتخابات کے نتائج پر سوالات اٹھانے میں خاصی مشکلات پیدا کریں گے۔کیونکہ پاکستان کے عام انتخابات اور بلدیاتی انتخابات میں جو کچھ ماضی میں ہوتا آیا ہے اور آئندہ بھی انتخابات میں لازمی طور پر ہوتا رہے گا۔کیونکہ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ عمران خاں صاحب ! جب آپ اپنی چھوٹی سی پارٹی کے چھوٹے پیمانے پر ہونے والے انتخابات کو ان برائیوں سے محفوظ نہیں رکھ پائے۔تو اتنے بڑے وسیع پیمانے پرہونے والے ملکی عام انتخابات کو برسوں سے موجود خامیوں ،کمزوریوں سمیت دیگر برائیوں سے کیسے کلی طور پر محفوظ رکھا جا سکتا ہے؟۔آج کے اس جدید سا ئنسی دور میں بھی امریکہ ،برطانیہ سمیت دیگر تہذیب یا فتہ ممالک بھی اپنے انتخابات کو دھاندلی اور دھونس جیسے الزامات سے آلودہ ہونے سے نہیں بچا پائے۔حتی کہ الیکٹرانک انتخابی مشینیں بھی گڑ بڑ کا ارتکاب کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ لیکن سو باتوں کی ایک بات فی الووقت تو عمران خان سب جماعتوں پر بازی لے گے ہیں۔کیونکہ کسی سیاسی جماعت میں اس طرح کے الیکشن کرانے کی روایت موجود نہ ہے اور نہ آئندہ اسکی توقع اور امید رکھی جا سکتی ہے۔اس کے اسباب بہت سارے ہیں لیکن ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت اپنے لیے خطرے کی گھنٹی بجانے والیانتخابات برداشت کرنے کا حوصلہ ہی نہیں رکھتے۔اگرنبی کریمﷺ کی حدیث کی روشنی میں دیکھا جائے تو تحریک انصاف میں پیدا ہونے والے دھڑے باعث رحمت ہوں گے۔ تحریک انصاف کے پارٹی انتخابات کے انعقاد سے ایک بات بڑی حد تک واضع ہو گئی ہے کہ عمران خاں جو کہتا ہے اسے ہر صورت پورا کرنے کی صلاحیتیں بھی رکھتا ہے۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button