تازہ ترینسائنس و آئی ٹی

خلا سے وہیل کی گنتی

سائنس دانوں نے ایک نئے طریقے کا مظاہرہ کیا ہے جس کی مدد سے خلا سے وہیل مچھلیوں کو گنا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں انتہائی ہائی ریزولوشن کی سیٹلائٹ تصاویر کے ساتھ تصاویر پر عمل کرنے والا سافٹ ویئر استعمال کیا جائے جو ان عظیم الجثہ ممالیہ جانوروں کو سمندر کی سطح پر پہچان سکے گا۔ ایک جریدے جرنل پلوس ون میں شائع شدہ ایک تحقیق کے مطابق ارجنٹائن کے ساحل پر موجود سدرن رائٹ وہیل کی گنتی کی گئی۔ اس خودکار نظام سے 90 فیصد ایسی جانوروں کی گنتی کی گئی جنہیں عام طریقے سے بھی گنا گیا تھا۔ اس نظام سے امید کی جا رہی ہے کہ ان ممالیہ جانوروں کی آبادی کی کل تعداد کے تعین کے لیے بہتر طریقے وضع کیے جا سکیں گے اور اس نظام سے اخراجات میں بھی نمایاں کمی کی جا سکتی ہے مگر ابھی اس کا استعمال بہت کم ہے۔ جیسے جیسے اس کی ریزولوشن بڑھے گی ان تصاویر کا تجزیہ بہتر ہو گا اور مزید جانداروں کا جائزہ لیا جا سکے گا۔ اس ٹیکنالوجی میں بنیادی حصہ ہائی ریزولوشن ٹیکنالوجی سیٹلائٹ کا ہے۔ برٹش اینٹارکٹک سروے کے پیٹر فریٹویل کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے ہم وہیل مچھلیوں کی گنتی کر سکیں گے۔ اس مقصد کے لیے فریٹویل کے ساتھیوں نے ’ڈیجیٹل گلوبز ورلڈ ویو 2 پلیٹ فارم‘ استعمال کیا۔ یہ اس وقت دنیا کا طاقتور ترین تجارتی طور پر استعمال ہونے والا پلیٹ فارم ہے، تاہم یہ صرف سطح پر نظر آنے والے جانوروں ہی کو دکھا سکتا ہے۔ جس علاقے میں اس ٹیم نے اپنا تجربہ کیا وہ دنیا بھر میں سدرن رائٹ وہیل کے بچے دینے کا سب سے بڑا علاقہ ہے۔ اگرچہ یہ بہت بڑے جانور ہیں مگر یہ ان مصنوعی سیارے سے لی گئی تصاویر میں چند پکسلز کی شکل میں نظر آتے ہیں۔ جس جگہ کا خلائی جائزہ لیا جا رہا ہے اس میں 55 وہیلیں، 23 ممکنہ وہیلیں اور 13 سطح کے نیچے رہنے والے جاندار پائے گئے۔ یونیورسٹی آف یوٹا کے پروفیسر وکی رونٹری نے، جو اوشین الائنس کے سدرن رائٹ وہیل پروگرام کے ڈائریکٹر ہیں، ان وہیل مچھلیوں کا جائزہ لیتے ہوئے کئی برس گزارے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ نیا طریقہ ان کے لیے بہت مددگار ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ’اس کا دوسرا رخ یہ ہے کہ سمندری حیات پر تحقیق کرنے والے اور وہیلوں کا جائزہ لینے والے کئی محقق چھوٹے طیارے اڑاتے ہوئے ہلاک ہو چکے ہیں۔ میری سب سے بڑی خواہش ہے کہ ہم ان چھوٹے طیاروں کے چکر سے نکلیں جو وہیلوں کے اردگرد منڈلاتے ہیں اور دور سے یہ کام کریں۔ مواصلاتی سیاروں کی مدد سے لیا گیا ڈیٹا بہت زبردست ہو گا۔‘ تاہم فریٹویل خبردار کرتے ہیں کہ اس تکنیک میں چند محدود کرنے والے عوامل بھی ہیں جیسا کہ سمندر میں طوفان اور گدلا پانی جس سے تلاش میں خلل آ سکتا ہے۔ سدرن رائٹ کے انتخاب پر ان کا کہنا تھا کہ یہ اس تحقیق کے لیے استعمال کیا جانے کے لیے درست جانور ہے، کیونکہ بیسویں صدی میں اس جانور کو خاتمے کی جانب دھکیل دیا گیا تھا۔ یہ سست اور کم گہرے پانی میں تیرنے والا جانور ہے۔ ان کی تعداد میں بہتری ہوئی ہے مگر جب تک ان کی درست تعداد معلوم نہیں ہو گی، تب تک ان کے صحیح حالات کے بارے میں اندازہ نہیں ہو پائے گا۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button