پوائنٹ اؤٹکالم

خواتین اور میڈیا

پاکستان کے سیاسی ، ثقافتی اور معاشی تنا ظر میںدیکھا جائے تو میڈیا اور اس سے وابستہ افراد نے ملک میں ترقی پسند اور لبرل سوچ کو زندو رکھنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے آمروں کی سخت ترین آمریت کے دوران بھی حق کی آواز کو مدہم نہیں ہونے دیا جس کا خمیازہ انھوں نے ذہنی ،جسمانی اور معاشی قربانیوں کی صورت میں ادا کیا۔اگرچہ بہت سے نیوز پیپر کے مالکان اور ان کے ملازمین چھڑتے سورج کے پوجاری ہیں لیکن ایسے افراد کی بھی کمی نہیں رہی جنھوں نے اپنے اصولوں پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا۔ لمبے عرصے تک یہاں الیکڑانک میڈیا میں حکومت کی اجارداری رہی جس سے صرف حکومت نواز خیالات کا ہی پھیلاو ہوا مگر جب سے ملک میں آزادانہ میڈیا کا آغاز ہوا تو چاروں طرف ہلچل مچ گئی کیونکہ میڈیا کے ذریعے ایسے ایشوز کو سامنے لایا گیا جن کے بارے میں بات کرنا بھی ناممکنات میں شامل تھا۔آزاد میڈیا سے نا صرف آزادی اظہار ممکن ہوا بلکہ لوگوں کو روزگار کے ذرائع بھی ملے، جو کہ بہت ہی حوصلہ افزا بات تھی خصوصامیڈیا میں خواتین مختلف پوزیشنز پر آئیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ جو Drawback رہا وہ یہ تھاکہ میڈیا اس آزادی کو ایک مثبت سمت کی جانب لے جانے میں ناکام رہا اور بھیڑ چال کا شکار ہو گیا۔
خواتین کے حوالے سے میڈیاکے کردار کو دیکھا جائے توصورتحال کچھ زیادہ خوش کن دیکھا ئی نہیں دیتی ۔ ٹیلی وثرن کے مختلف چینلز پر دیکھائے جانے والے ڈراموں میں خواتین کے کرداروں کو سازشی بتایا جاتا ہے ” عورت دشمن عورت "کی جیسے ڈائیلاگ پر کہانیاں بنائی جاتی ہیںبلکل اسی طرح پرنٹ میڈیا میں خواتین کے حوالے سے ہونے والی رپورٹنگ خصو صا ان کے خلاف ہونے والے جرائم کی خبریںاس طرح رپورٹ کی جاتی ہیں کہ لگتا ہے کہ خواتین اپنے خلاف ہونے والے جرائم کی ذمہ دار ہیں۔
آج پوری دنیامیں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیامعاشرے میں تبدیلی کیلئے ایک موثر ترین ذریعہ تصور کیاجاتا ہے مگر خواتین کے حوالے سے پوری دنیا میں میڈیا ایک مخصوص رویے کا اظہارکرتا ہے اور بالخصوص پاکستانی میڈیا کی صورت حال کا فی سنگین ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کے مشہورڈراموں میں ہمیشہ خواتین شادی کے لیے اچھے مرد اور پھرشادی کے بعد نیک اولاد کی خواہش اور جستجو میں مبتلا نظر آتی ہیں اور وہ خواتین جواپنا پروفیشنل مستقبل بنانے کی خواہش رکھتی ہیںان کو بری عورت کے طو ر پر پیش کیا جاتاہے۔ اسی طرح آج کل مختلف چینلزپر مارننگ شوکا خوب رواج ہے اور حال ہی میں ایک چینل پر مارننگ شو کی میزبان اپنی چندعمر رسیدہ ساتھی خواتین کے ساتھ کراچی کے مختلف پارکز میں بیٹھے ہوئے نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کے پیچھے بھاگتی ہوئی دیکھی گئی اور وہ ان کے پیچھے بھاگتے ہوئے ان سے سوال کر رہی تھی کی ان کے ماں باپ کو علم ہے کہ وہ اس وقت کہاں ہیں؟ اور وہ اپنے ماں باپ کو دھوکا نہ دیں وغیرہ۔
اس طرح کے پروگرام سے وہ معاشرے میں کیا اصلاح لانا چاہ رہی تھیں یہ تو وہ خود ہی بتا سکتی ہیں؟ اس پروگرام کے خلاف سول سوسائٹی نے شدید احتجاج کیا اور ایک مئوثر کمیونیکیشن کے ذریعے چینل کو مجبور کیاکہ وہ اس طرح کے پروگرامز کو بند کرے۔وہ پروگرام بند ہوگیاہے اور چینل نے اس پروگرام پر معذرت کرتے ہوئے میزبان کو ملازمت سے بھی نکال دیا ہے۔
اسی طرح پرنٹ میڈیا میں خواتین کے خلاف جرائم کی رپورٹنگ کے حوالے سے سنجیدہ لائحہ عمل نہیں اپنایا جاتا ۔ایک خاتون جو اپنی مرضی سے شادی کی خواہشمند ہے اس سے متعلق خبر اخبارات میں یوں شائع کی جاتی ہے کہ
"خوبرو دوشیزہ آشنا کے ساتھ فرار ”
اسی طرح قتل ہونے والی خاتون کی خبرکچھ اس طرح کی جاتی ہے
’’ماڈرن اور فیشن ایبل دوشیزہ قتل‘‘

یہ بھی پڑھیں  چولستان میں معصوم بچیوں کی موت اور بے ضمیر حکمران ۔

میڈیا میں خواتین کی اس طرح کی presentation اس تنگ ذ ہنی کا عکس ہے جو معاشرئے میں خواتین کے خلاف ناصرف روا رکھا جاتا ہے بلکہ زیرعمل ہے اس کی ایک اور اہم وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں مجموعی طور پر میڈیا کسی مشترکہ ضابطہ اخلاق کا پابند نہیں اور ایسے میںصنفی برابری یا صنفی امتیازات کے بارے میں سنجیدہ لائحہ عمل اختیار کرنا نا ممکن ہے۔
یہ تو با ت تھی میڈیا میں خواتین کے حوالے سے معاملات کو پیش کرنے کی اب اگر میڈیا میں عورت کی شمولیت کی بات کی جائے تو افسوس کے ساتھ کہناپڑتاہے کہ جتنی وسعت میڈیا اختیار کر چکا ہے اس حوالے سے اس میں technical اور پروفیشنل خواتین کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ فیصلہ سازی کی پوزیشن پر خواتین آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے تمام چھوٹے بڑے گروپس اس سلسلے میں یکساں نظر آتے ہیں۔دیگر شعبوںکی طرح میڈیا میں بھی خواتین کے لیے تربیت اور ترقی کے مواقعے نہ ہونے کے برابر ہیں۔
بحیثیت رپورٹر کام شروع کرنے والی خواتین اسی حیثیت سے پوری عمر گزار دیتی ہیں کئی خواتین رپورٹر زایسی ہیں جنہیں میں پچھلے 15 سالوں سے جانتی ہوں وہ آج بھی بحیثیت رپورٹر کا م کر رہی ہیں ان میں سے کوئی بھی ترقی کرکے چیف رپورٹر یا ایڈیٹر کے عہدے پر نہیں پہنچی۔ ایسی بات نہیں کہ ان میں قا بلیت نہیں بلکہ وجہ مواقعے کا نہ ملنا ہے۔ ان کے مقابلے میں کئی مرد رپورٹر ایسے ہیں جو آج مشہور کالم نگار یا چیف رپو ٹرر یا ایڈیٹر کے عہدے پر فرائض ادا کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  ایٹمی طاقتوں کے درمیان اختلافات کی بنیاد مسئلہ کشمیر

 خواتین کے خلاف دوسرا امتیازی رویہ یہ روا رکھا جاتا ہے کہ ا نھیں چند مخصوص مو ضوعات پر ہی رپورٹنگ کی ذمہ داری دی جاتی ہے۔اب اگر الیکٹرانک میڈیا کا جائزہ لیا جائے تو وہاں کچھ خواتین نیوز کاسٹراور چندٹاک شو کی میزبان خواتین نے شہرت حاصل کی پر ان کی وجہ شہرت سیاسی ایشوپر لڑائی جھگڑے سے بھرپورپروگرام ہیں ناکہ ان کے پروگراموں میں سنجیدہ اور سوشل ایشو پرموثرلائحہ عمل کا سامنے آنا ہے۔

اکثر چینلز پر خواتین نیوز کاسٹرتو ہیں پر خواتین نیوز ڈائریکڑ نہیں ہیں۔پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیاکے مختلف شعبوں میں خواتین کی نمائیندگی تشویش ناک حد تک کم ہے خصوصا اگر ٹیکنیکل شعبے کی طرف د یکھا جائے تو آپ کو کیمرہ آپر یٹر خواتین نظر نہیں آئیں گی اس صورتحال میں میڈیامیں خواتین کی شرم ناک تصویر کشی کی وجہ با خوبی سمجھ میں آتی ہے۔
یہاں یہ کہنا کہ میڈیا بہت ترقی کر رہا ہے سچ ضرور ہے لیکن پورا سچ نہیں۔پاکستان میں میڈیا ہمیشہ آمروں اور حکمرانوں کے زیر دست رہا ہے۔پابندیوں اور سنسرشپ کے باوجود ہمارے سامنے بہت سی مثالیں ہیں جس میں میڈیا نے انسانی اور خواتین کے حقوق کے استحصال پر آواز بلند کی اور اس ہمت اور حوصلے کی قیمت بھی ادا کی۔یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ میڈیا ایک پاورفل ٹول ہے اور پاکستان میں آزاد میڈیا کی تاریخ زیادہ پرانی نہیںہے۔تاہم اتنا وقت گزر چکا ہے کہ میڈیا اپنا تنقیدی جائزہ لے اور اپنی کوتاہیوں اور خامیوں کو یہ کہہ کر رد نہ کرئے کہ آزاد میڈیا کو آئے ابھی کتنے دن ہوئے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں  مرشد ہی مرشد

ان مسائل کے حل کے لیے لازمی ہے کہ میڈیا سے وابستہ بارسوخ افراد اور حکومت ان ایشوز کو سنجیدگی سے لیں اور سب سے پہلے متفقہ طور پر میڈیا کو مشترکہ ضابطہ اخلاق کا پابند بنایا جائے ۔ حالات میں بہتری کے لیے میڈیا کے ہر شعبے میںخواتین کو مواقعے دینے کے لیے لائحہ عمل مرتب کرناہوگا ۔میڈیا کے تمام شعبوں میں کام کرنے والے مر د اور خواتین کی صنفی آگاہی کے لیے تربیتی پروگراموں کا انعقاد کرنا ہوگا۔ کیونکہ میڈیا ریاست کا چوتھااہم ترین ستون ہے اورسیاسی ،سماجی اور معاشی تمام پہلوئوں پر معلومات فراہم کرنے کا اہم ذریعہ ہے لہذا حکومت ،میڈیا،اور سول سوسائٹی مل کرموثر اقدام کریں جس سے صنفی آگاہی اور برابری کو زندگی کے ہر شعبے میں فروغ دیا جاسکے اور فیصلہ سازی چاہے وہ حکومتی سطح پر ہو ، سیاسی جماعتوں یا میڈیامیں ہر جگہ خواتین کی مناسب نمائندگی مثبت تبدیلی کا پیغام ہوگی ۔میڈیا میں خواتین ہی عورتوں کے جذبات اور خیالات کی صحیح ترجمانی کر سکتی ہیں اس کی زندہ مثال فلمساز شرمین عبید ہیں انھوںنے عورتوں پر تیزاب پھینکے جانے کے واقعات پر دستاویزی فلم بنائی اورپاکستان کے لیے پہلا آسکر ایوارڈ جیتا۔

اس کے ساتھ ہم سماجی تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ میڈیا جو کہ مثبت تبدیلی کا سرچشمہ ہو سکتا ہے کے کردار کوپائیدار بنانے کے لیے بھرپور مہم کا آغازکریں اگر ہم صرفEmailکے ذریعے کی جانے والی کمپین سے ایک چینل کاپروگرام بند کروا سکتے ہیںتو خواتین کے حوالے سے رویے میں تبدیلی ایک مشکل لیکن ﴿ achievable﴾ اچیو ایبل ٹارگٹ ہے خواتین کا عالمی دن اس مہم کے آغاز کا بہترین وقت ہے اور اس دن کی مناسبت سے ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ خواتین سے متعلق امتیازی وریوں کے خاتمے کیلئے ہماری جدوجہد تیز سے تیز تر ہوتی رہے گی۔

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker