اختر سردار چودھریتازہ ترینکالم

تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ

akhtarاس بات سے اختلاف ممکن نہیں ہے کہ تعلیم (علم وتربیت)کسی بھی ملک کے لیے ترقی کی کنجی ہوتی ہے ۔اس کا تعلق شرع خواندگی سے تو ہے ہی اس سے بھی ہے کہ تعلیم کس زبان میں دی جا رہی ہے، نصاب کیا ہے،طریقہ امتحان یعنی سسٹم یانظام تعلیم کیسا ہے سے بھی تعلق ہے۔ سب سے بڑھ کر اس سے ہے کہ حکومت اور عوام کی ترجیحات میں تعلیم کی کتنی اہمیت ہے ۔
خواندگی کا عالمی دن Day "World Literacy ” ہر سال 8 ستمبر کو دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں منایا جاتا ہے ۔اس کو منانے کا اعلان یونیسکونے نومبر 1965 ء میں کیا تھا اور پھر یہ دن پہلی مرتبہ 1966ء میں منایا گیا ۔مقصد میں خواندگی کی اہمیت ،اس کے فوائد ،اقدامات کا جائزہ لینا وغیرہ شامل ہے۔بنیادی حقوق کا قانون ہر بچے کو تعلیم حاصل کرنے کا حق دیتا ہے اور یہ حکومت کی ذمہ داری بلکہ فرض ہے کہ وہ یہ حق مفت فراہم کرے۔ افسوس کہ پاکستان کا عام آدمی آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے ۔
مثلا تعلیم صحت،انصاف وغیرہ آج پاکستان کو بنے 68سال سے زائد ہو چکے ہیں کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمارا نظام تعلیم کیا ہو ،زبان کون سی ہو،ابھی تک طے نہیں ہو سکا اور اس سے زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ وئی بھی رہنما اس میں مخلص نہیں ہے کیونکہ اس کی جہدوجہد اس کے لیے نہیں ہے ۔مسلسل نظام تعلیم جیسے حساس معاملے میں تجربات کیے جا رہے ہیں اور یہ تجربات ہر صوبے میں الگ الگ ہیں ،نصاب الگ الگ ہیں ،زبان الگ الگ ہے ،اس سے ایک قوم کیسے بن سکتی ہے ۔اس سے تو صرف نفرتیں ہی جنم لے سکتی ہیں ۔ترقی معکوس کا سفر ہی ہو سکتا ہے جو کہ جاری ہے ۔نئے تجربات میں پریپ سے انگریزی زبان ،پرائمری سے جنسی تعلیم ،مخلوط نظام تعلیم ،مخلوط اساتذہ ،ہر سکول کا اپنا نصاب ،وغیرہ شامل ہیں۔ایسا نظام تعلیم ہے جو دین بیزار، ملحد اور خود غرض بلکہ خود پرست نسل پیدا کر رہا ہے تعلیم کو منصوبہ بندی کے ساتھ ختم کیا جا رہا ہے ۔
کیا اسلام کا قلعہ کہلانے والی اسلامی جمہوریہ کا یہ فرض نہیں بنتا کہ وہ وطن عزیز میں بھی اسلام احکام و شریعت کا نافذ کرے۔ پاکستان میں ہر دور حکومت میں، خواہ وہ جمہوری دور ہو یا آمریت کا دور، تعلیم کو عام کرنے کے لیے، تعلیمی پالیسیاں بنائی جاتی رہیں، ہم ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کرپائے ہیں کہ ذریعہ تعلیم انگریزی ہو، یا اردو، یا علاقائی زبانیں؟ ملک کی ترقی تب ممکن ہے جب ملک میں شرع خواندگی میں اضافہ ہو جو کہ ملک میں ایک زبان وہ بھی قومی زبان اردو ،ایک نصاب جو مذہب ،ماحول،حالات ،ضرورت ،کے مطابق ہو جس میں موجودہ عہد کے علوم بھی ہوں اور وہ بھی جو ہمیں اپنی راویت سے جوڑے رکھیں ۔پورے ملک میں یکساں نظام تعلیم ہو ۔اور سب سے پہلے غربت کے خاتمے کے لیے حکومت کو اقدامات کرنے چاہیے تاکہ شرح خواندگی بڑھ سکے ۔بے شک کہ حکومت پاکستان خواندگی کی شرح بڑھانے اور تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔اس کے نتائج اس لیے حاصل نہیں ہو رہے کہ اصل اسباب کو دور نہیں کیا جا رہا۔حکومت پنجاب نے پچھلے دنوں اپنی اعلیٰ کارکردگی کے اشتہارات تو خوب دکھائے ، لیکن خواندگی کا حال جو ہے اس میں کوئی فرق نہیں ڈال سکے وجہ اوپر لکھی جا چکی ہے۔ غربت ہے جس میں اضافہ ہو رہا ہے ملک کی نصف آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے ۔
پاکستان میں ناخواندگی اس سے کہیں زیادہ خوفناک ہے جتنی بتائی جاتی ہے ۔اول ایک بہت بڑی تعداد سکول میں داخلہ نہیں لیتے ،دوم اس سے زیادہ تعداد ان بچوں کی ہے جو اپنا تعلیمی سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتے یعنی ادھورا چھوڑ دیتے ہیں ۔ادھورا چھوڑنے کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سب سے اہم غربت ہے،اس وقت تک شرع خواندگی میں اضافہ ممکن نہیں جب تک ملک سے بے روزگاری و غربت کا خاتمہ نہیں کیا جاتا ۔
ہم اپنے ملک میں اس شخص کو بھی خواندہ سمجھتے ہیں جو محض اپنا نام پڑھنا لکھنا جانتاانگوٹھا چھاپ نہ ہو ۔بے شک وہ سکول میں پڑھا ہو یا نہ پڑھا ہو ۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اس وقت شرح خواندگی ستاون فیصد ہے ۔ مردوں میں یہ شرح انہتر جبکہ خواتین میں پینتالیس فیصد ہے ۔وزیراعظم نواز شریف نے گزشتہ سال خواندگی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ ملک میں خواندگی کی شرح چھپن فیصد سے بڑھا کر سو فیصد تک لے جائی جائے گی۔لیکن جیسی پالیسا ں ہیں اس سے تو ایسا ممکن نہیں ہے ۔
ایک رپورٹ کے مطابق پرائمری تعلیم سے محروم بچوں کی تعداد کے حوالے سے عالمی سطح پر نائیجیریا سرفہرست ہے جہاں 6کروڑ بچے اسکول جانے سے محروم ہیں۔ 5کروڑ 50لاکھ کے ساتھ پاکستان دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے جبکہ ایتھوپیا تیسرے، بھارت چوتھے اور فلپائن پانچویں نمبر پر ہے ۔جیسا کہ لکھا جا چکا ہے پاکستان میں ناخواندگی اس سے کہیں زیادہ ہے جتنی عام طور پر سرکاری سطح پر بتائی جاتی ہے ۔اس کی وجہ مردم شماری بھی ہے جو کہ کافی عرصہ سے نہیں ہوئی ۔اگر ملک میں ناخواندگی (یعنی جہالت)کے درست اعدادوشمار ہوں تو پاکستان پہلے نمبر پر ہوگا ۔جب ملک کی درست آبادی کا علم نہ ہو تو درست خواندگی کا کیسے ہو سکتا ہے ۔
پھر بھی یہ رپورٹ دل دہلا دینے کے لیے کافی ہے کہ مملکت خداداد پاکستان شرح خواندگی کے لحاظ سے 120 ممالک میں سے 113 ویں نمبر پر ہے ۔ہم وہ کون سے اقدامات کریں جن سے ہمارے ملک میں شرع خواندگی میں اضافہ ہو جائے ۔اس کا جواب بہت مختصر ہے ہمیں صرف اپنی ترجیحات میں تعلیم کو پہلا نمبر دینا ہوگا ۔ہم ملک میں تعلیمی ایمرجنسی کے ذریعے شرح خواندگی بڑھا سکتے ہیں ۔ جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے ان اسباب کا خاتمہ کرنا ہو گا جن کی وجہ سے والدین بچوں کو سکول میں داخل نہیں کروا سکتے یا وہ تعلیم کو جاری نہیں رکھ سکتے ان میں غربت سرفہرست ہے ۔ غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کے ساتھ یکساں نظام تعلیم، یکساں نصاب تعلیم ،اوریکساں ذریعہ تعلیم (قومی زبان )بنا کر ہم 100 فیصد خواندگی کا خواب پورا کر سکتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں  پی سی بی کا علیم ڈار کیلئے 10 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker