اعجاز راناتازہ ترینکالم

12 جون ۔ محنت کش بچوں کا عالمی دن

rana aijazپاکستان سمیت دنیا بھر میں 12 جون کا دن محنت کش بچوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ اس دن سرکاری و سماجی تنظیموں کی طرف سے مختلف تقریبات کااہتمام کیاجاتا ہے تا کہ محنت کش بچوں کے مسائل کو ذمہ داران تک موثر طریقے سے پہنچایا جا سکے اور بچوں سے جبری مشقت کے مسئلے کا سدباب کیا جاسکے۔ بچے کسی بھی قوم کا روشن مستقبل اور اثاثہ ہوتے ہیں ، ان کی بہترین تربیت و نگہداشت پر جس قدر زیادہ توجہ دی جائے ، قوموں کی ترقی کے امکانات اس قدر زیادہ ہوتے ہیں ۔ بچوں کے مستقبل کے حوالے سے ہمارے ملک میں ایک بڑا المیہ بچوں سے مشقت کا رواج ہے۔ معاشی بدحالی، سہولیات سے محرومی، استحصال، بے روزگاری، غربت اور وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم جیسے مسائل کے باعث بچوں کو زیور تعلیم سے دور رکھ کر ان سے جبری مشقت لی جارہی ہے ، جبکہ بچوں کی جبری مشقت کو ہمارے ہاں معیوب بھی نہیں سمجھا جاتا ، جابجا معصوم پھول جیسے بچے بوٹ پالش کے کام سے لے کر ہوٹلوں،چائے خانوں، ورکشاپوں، مارکیٹوں،چھوٹی فیکٹریوں ، موٹر گاڑیوں کی کنڈیکٹری، خشت بھٹوں،سی این جی اور پٹرول پمپوں پر گاڑیوں کے شیشے صاف کرنے سمیت دیگر بہت سی جگہوں پر مشقت کرتے نظر آتے ہیں۔ پاکستان میں غربت ،بے روزگاری، مہنگائی نے غریب بچوں کو اسکولوں سے اتنا دور کر دیا ہے کہ ان کے لئے تعلیم ایک خواب بن کر رہ گئی ہے، ،تعلیم سے دوری میں حکومتوں کی نااہلی اپنی جگہ لیکن پرائیویٹ سیکٹر کے تعلیمی اداروں نے جہاں معیاری تعلیم کو فروغ دیا وہاں تعلیم کو اس قدر مہنگا کر دیا کہ اوسط درجے کی آمدن والے لوگ بھی اپنی اولادوں کو معیاری تعلیم دلوانے سے قاصر ہیں، ایسے میں غریب مفلوک الحال خاندان اپنے پیٹ کی آگ بجھائیں یا تعلیم کے بھاری بھرکم اخراجات برداشت کریں ، یہی وجہ ہے کہ غریب بچے ہر طرح کی قابلیت کے باوجود پیچھے رہ جاتے ہیں، اور ان کے والدین وسائل کی کمی کے سبب ان کو تعلیم نہیں دلوا پاتے۔ محنت کش بچے کوئی پیدائشی محنت کش بچے نہیں ہوتے، ان کی شکلیں بھی ایسی ہی ہوتی ہیں جیسی بڑے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلبہ کی ہوتی ہیں لیکن صرف وسائل نہ ہونے کی وجہ سے وہ معاشرے میں ’’چھوٹے‘‘ بن کر رہ جاتے ہیں ۔ ایک سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دو کروڑ سے زائد بچے معمولی معاوضے پر مشقت و مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔جبکہ آئین پاکستان کاآرٹیکل گیارہ اس بات کی ضمانت فراہم کرتا ہے کہ انہیں کارخانوں، کانوں اور دیگر پرخطر ملازمتوں پر نہیں رکھا جائے گا۔ گو ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ 1991 اور ایمپلائمنٹ آف چلڈرن رولز 1995 جیسے ایکٹس بچوں کے حالات کار کو ضابطہ اخلاق میں لاتے ہیں ۔ لیکن ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ چائلڈ لیبر قوانین تو بنے ہیں لیکن آج تک کسی کو بھی ان قوانین کی خلاف ورزی کے حوالے سے سزا نہیں سنائی گئی اور عملاً صورت حال سب کے سامنے ہے۔ امیر لوگوں کے گھروں میں کام کرنے والے بچوں کے حالات کار سب سے برے ہیں جن پر شدید تشدد کے واقعات آئے روز منظر عام پر آتے رہتے ہیں،اس کے علاوہ بیشتر کاروباری مقامات اور ورکشاپش میں محنت کش بچوں پر معمولی معمولی بات پر پر تشدد واقعات معمول بن چکا ہے، دیہات میں اینٹوں کے بھٹوں اور کھیتوں جبکہ شہروں میں سڑکوں اور ورکشاپوں اور چھوٹے کارخانوں میں پابندی کے باوجود معصوم بچوں سے مشقت لی جاتی ہے اس طرح ان ننے ہاتھوں میں قلم کی جگہ اوزاروں نے لے لی ہے۔ ہماری حکومتوں کا حال یہ ہے کہ عشروں سے محنت مزدوری کرنے والے ان بچوں کی درست تعداد معلوم کرنے کے لیے کوئی سروے ہی نہیں کروایا گیا۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ہر سال 12 جون کو محنت کش بچوں کا عالمی دن تو منایا جاتا ہے مگر دن منانے کے ساتھ ساتھ ان پھول جیسے بچوں سے مشقت کے خاتمے کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ محکمہ چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو حکام کا کہنا ہے کہ والدین خود کمسن بچوں کو سڑکوں، بازاروں اور فیکٹریوں میں مزدوری کرنے کے لئے بھیج دیتے ہیں، جہاں حفظان صحت کے اصولوں سے آشنا نہ ہونے اور فیکٹریوں ، کارخانوں کے شور و دھوئیں، گندے پانی کے فضلات کی وجہ سے مزدوری کرنے والے 70 فیصد سے زائد بچے ہپاٹائٹس اے، بی اور سی جیسے وائرس اور دیگر مہلک بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ معصوم بچے جب حالات سے مجبور ہوکرہنسنے کھیلنے کے دنوں میں کام کرنے کے لئے نکل کھڑے ہوتے ہیں تویقیناًاس معاشرے کیلئے ایک المیہ وجود پارہاہوتاہے، پاکستان میں موجودمعاشی بدحالی، سہولیات سے محرومی، استحصال، بے روزگاری، غربت اور وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم نے جگہ جگہ اس المیے کوجنم دے رکھا ہے جو بڑھتے بڑھتے ناسور بنتاچلاجارہاہے۔ امیر کے امیرتر اور غریب کے غریب تر ہونے پرقابو نہ پائے جانے کی وجہ سے اب لوگ اس کے سوا کوئی راہ نہیں پاتے کہ وہ بچوں کوابتدا سے ہی کام پرلگادیں تاکہ ان کے گھروں کاچولہا جلتا رہے اور ضروریات زندگی پوری ہوتی رہیں، چاہے ایسا کرنے سے قیمتی زندگیاں داؤ پر لگی رہیں۔ بلاشبہ مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے بہت سے غریب خاندانوں کواپنے بچے محنت و مشقت پر لگانا ان کی مجبوری بن چکا ہے لیکن یہ بھی جائز نہیں ایسے موقع پر معاشرہ کوئی کردار ہی ادا نہ کرے ، معاشرے کا فرض بنتا ہے کہ بچوں سے محنت و مشقت لینے کے بجائے ان کی تعلیم ،صحت اور خوراک کیلئے ان کے والدین کو مناسب سپورٹ کیا جائے ۔غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر مزدوری کرنے والے بچوں کو مفت تعلیم ،علاج معالجہ اور کفالت فراہم کی جائے، اور ان کے والدین کو ترغیب دی جائے، اورپابند کیا جائے کہ وہ بچوں سے مشقت نہ لیں گے۔بچوں سے جبری مشقت کے خاتمے کیلئے صرف حکومتی سطح کئے گئے اقدامات کو ہی کافی نہ سمجھا جائے بلکہ بچوں سے جبری مشقت کے خاتمہ کیلئے معاشرے کے ہر فرد کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کر تے ہوئے موثر ترین کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ متاثرہ بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا جاسکے ، اور یہ اچھے شہری بن کر ہمارے آنے والے کل کے لئے مثبت کردار ادا کرسکیں۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!