بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

وزراء سکینڈل کا ڈراپ سین کیسے ممکن ۔۔؟؟؟؟؟؟

bashir ahmad mirگذشتہ چند روز سے وزراء سیکنڈل کا چرچا ہو رہا ہے جس سے قارئین کو اپ ڈیٹس مل رہی ہیں۔گذشتہ روز آذادکشمیر کے مختلف شہروں میں ’’طالبہ ذیادتی ‘‘ کے خلاف طلباء تنظیموں اور سول سو سائیٹی نے احتجاجی مظاہرے کئے ،مظاہرین نے تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے مبینہ وزرا ء ا ور اعلیٰ شخصیات بارے سخت گیر موقف اختیار کرتے ہوئے انہیں کیفر کردار کرنے کی اپیل بھی کی۔اس ہی اثناء پہلی بار وزیر حکومت راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’تحقیقات میں اگر وہ مجرم قرار پائیں تو انہیں خورشید اسٹیڈیم مظفرآباد میں سر عام پھانسی پہ لٹکایا جائے انہوں نے مقامی اخبار جس نے سب سے پہلے اس خبر کو بریک کیا 50کروڑ روپے حرجانہ کا دعویٰ کرنے کا اعلان بھی کیا۔ان کا کہنا ہے کہ وہ 4اپریل کو لاڑکانہ بھٹو کی برسی میں شریک تھے جبکہ اس بارے انہیں کوئی علم نہیں۔
مذکورہ سکینڈل سامنے آنے کے بعد کسی بھی جانب سے کسی وزیر کا نام نہیں لیا گیا ،بلکہ وزراء اور ان کے اہم ساتھیوں کے حوالے سے سینہ بہ سینہ کہانیاں زیر بحث رہیں ،یہ انتہائی حساس معاملہ ہونے کی وجہ سے ہر ایک قلمکارنے انہتائی احتیاط کا مظاہرہ کیا،سیکنڈل نے اب افسانوی صورت اختیار کر لی ہے کیونکہ اس میں اصل مدعی کہیں نہیں نظر آ رہا ہے ۔بعض ذرائع کہہ رہے ہیں کہ یہ خالصتاً fake scandalہے،جس کا مقصد حکومت کو بد نام کرنا اور درپردہ سازش کا حصہ ہے جبکہ کچھ ذرائع یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ضرور کوئی کالا کالا ہے ۔بہر حال ابھی تک کسی وزیر کا نام باقاعدہ نامزد نہ ہونا بھی سکینڈل کو fakeسطح تک سمجھا جا رہا ہے ۔اب جبکہ پہلی بار راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے اپنی صفائی دیتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موصوف کا نام بھی اس فہرست میں گنا جا رہا ہو گا۔راجہ فیصل ممتاز راٹھور ریاست کے ممتاز سیاستدان ،سابق وزیر اعظم راجہ ممتاز حسین راٹھور کے فرزند ارجمند ہیں ان کے والد گرامی نے نظریاتی صف بندی کر کے خطہ میں سیاسی شعور کو پختہ کیا ،اس لحاظ سے ان پر کوئی غیر اخلاقی الزام یقیناًباعث تشویش تھا جس کی انہوں نے بر ملا تردید کر کے پارلیمانی تاریخ میں ایک نئی روایت کو قائم کیا۔اگر راجہ فیصل ممتاز راٹھور اپنے والد گرامی کی سیاسی حیثیت کو مد نظر رکھتے ہیں تو انہیں تحقیقاتی رپورٹ تک وزارت کا قلم دان چھوڑنے کا اعلان کرنے سے ان کی سیاسی شہرت دوبالا ہو سکتی ہے ۔اس انہونے فیصلہ سے ان کا سیاسی قد میں حیرت انگیز اضافہ بھی ہو سکتا ہے بہر حال وزارت چھوڑنا یا نہ چھوڑنا ان کا اختیار ہے لیکن حالات جس سمت چل پڑے ہیں ان کا تقاضا ہے کہ سچ اور جھوٹ کو سامنے لایا جانا از بس ضروری ہے ۔
آذادکشمیر تحریک آذادی کا بیس کیمپ ہے ،پارلیمانی جمہوریت مستحکم اور مثالی ہے ۔سیاسی شعور میں بھی کافی آبیاری ہو رہی ہے ،اس سیاسی منظر میں ایسا غیر اخلاقی فعل سامنے آنا یقیناًباعث ندامت اور لائق توجہ سمجھا جارہاہے ۔اب ہر شہری کی زبان پر پارلیمنٹریرینزبارے طرح طرح کے سوال جنم لے رہے ہیں ،لوگ بر سر عام کہہ رہے ہیں کہ ہمارے نمائندوں کا اگر یہ حال ہے تو یہ پوری قوم کی بد قسمتی کہی جا سکتی ہے۔کئی لوگ اسلام آباد میں گیسٹ ہاؤسز میں اہم شخصیات کی رنگین محفلوں کا بھی ذکر کرتے ہیں ،ان سب غیر اخلاقی کہانیوں سے پارلیمان پر دھبہ پڑ رہا ہے ،پی پی پی جو عوام کی نمائندہ جماعت کا درجہ رکھتی ہے اور اس کے کارکن سیاسی کردار سازی میں کھبی کبھی نمایاں مقام رکھتے تھے اب ان کے نمائندوں نے اسے چرا گاہ بنا رکھا ہے ۔جس سے پی پی پی روز بروز عوام میں اپنی ساکھ کھو رہی ہے ۔جب جماعت میں نظریات کے بجائے مفادات کا قبضہ ہو جائے اور نظریاتی کارکنوں کے بجائے سائیبرین ،مفاداتی ،حادثاتی اور خوشامد پسند گماشتے لیڈروں کا حصار بن جائیں تو پھر ایسے واقعات کا رونما ہونا عجب بات نہیں ،بلاشبہ وزیر اعظم چوہدری عبد المجید نظریاتی کارکن سے اعلیٰ منصب پر بر اجماں ہوئے ہیں مگر سیاسی اور اخلاقی معیار کو جانچا جائے تو پی پی پی آذادکشمیر بے ہنگم ہجوم اور وارداتیوں نے گھیر رکھا ہے۔جس کا مستقبل میں ٹہراؤ مشکل نظر آتا دکھائی دے رہاہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پی پی پی میں نظریاتی کارکنوں کی کمی نہیں مگر صف بندی اور نظم و ضبط کا فقدان پارٹی کے لئے سوالیہ نشان بن چکا ہے اس صورت حال میں ایسے سیکنڈل کا سامنے آنا لمحہ فکریہ اور حکومت کے لئے بڑی آزمائش ہے ۔اب اس سکینڈل کی تحقیقات یا پارٹی کو تباہ کرنے کے دو راستہ رہ گے ہیں۔جن میں سے کوئی ایک منتخب کرنا پڑے گا۔ورنہ اس آتش گیر ہنگامے میں سب کا ایک ہی صف میں بھسم ہونے کا اندیشہ موجود ہے۔
راجہ فیصل ممتاز راٹھور لائق تحسین ہیں کہ انہوں نے از خود سامنے آ کر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ،انہوں نے جمہوری روایات کی حقیقی پاسبانی کی ،ان کے اس اقدام سے جو گھٹن موجود تھی اس میں دراڑ پیدا ہو چکی ہے ،بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ ان کے مذکورہ اقدام سے پارٹی کی گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا مل سکتاہے اب ضروری ہے کہ دوسرے مبینہ ملوث وزراء بھی عوام کے سامنے آکر کھلے عام اس افسانوی سکینڈل کو منطقی انجام دیں ۔بلکہ تحقیقاتی رپورٹ آنے تک مذکورہ وزراء اخلاقی جرات پیدا کر کے اپنی وزارتوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیں یہی ان کی سیاسی زندگی کی بقاء کے لئے موزوں فیصلہ ہو گا اور پارٹی کی ساکھ بھی بحال ہو سکے گی ورنہ جیسی صورت حال ہے اس میں بحرانی سطح بڑھنے سے جن خدشات و خطرات کو محسوس کیا جارہا ہے اس سے پورا سیاسی نظام درہم بر ہم ہو سکتا ہے ۔ یہ بھی علم میں آیا ہے کہ ملوث کردار اپنی صفائی انفرادی طور پر پوری ایمانداری سے دے رہے ہیں اب راجہ فیصل ممتاز راٹھور کے سامنے آنے کے بعد درپردہ کرداروں کو سورج کے آگے انگلی نہیں رکھنی چاہئے انہیں بھی منظر عام آ کر وضاحت کر دینی چاہئے۔ جہاں تک اس سکینڈل کے پیدا کردہ کر داروں کا تعلق ہے انہیں بھی شامل تفتیش کیا جانا ضروری ہے ۔بلا وجہ الزام تراشی کا ما حول پیدا کرنے والوں کو ہر گز معاف نہ کیا جائے ۔ الزام تراشوں کے لئے بھی سخت آزمائش ہے کہ وہ حقائق عوام کے سامنے لائیں ،اگر ایسا سکینڈل کسی یورپی ممالک میں ہوتا تو اب تک دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو چکا ہوتا مگر ہم جس ماحول میں ہیں ،ہماری سرشت میں ہی نہیں کہ ہم ذلیل و رسواء ہونے کو ترجیج تو دے دیں گے مگر اخلاقی قدروں کا لحاظ نہیں کریں گے ۔اب یہ گیند وزیر اعظم کے کورٹ میں ہے کہ وہ کس طرح چوکا چھکا مار کر اپنی ٹیم کو فاتح قرار دے سکتے ہیں ۔یہ بات بھی سمجھنے کے لائق ہے کہ جس ٹیم کے کھلاڑی نا لائق اور اپنے مراتب و فرائض سے غافل ہوں انہیں باہر نکال کر بہتر کھلاڑی میدان میں لائے
جائیں۔بہر کیف سنجیدہ روی ،حقیقت پسندی اور جرات مندی سے اس نازک معاملہ کا ڈراپ سین عوام دیکھنا چاہتے ہیں۔جرم و سزا کا جب تک تعین نہیں ہوتا تب تک ہمارے اقدار محفوظ نہیں رہ سکتے ،لہذا معاملہ کو گول مول کرنے کے بجائے اس کی تہہ تک پہنچنا از بس ضروری ہے ۔امید کی جاتی ہے کہ طاقت و اقتدار کے نشے کو ایک طرف رکھ کر اس اہم کیس کی شفاف ،غیر جانبدار اور نا قابل تردید تحقیقات کا فوری عمل شروع کر کے پائے جانے والے خدشات اور سینہ گزٹ کا تدارک کیا جائے ۔note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button