پاکستانتازہ ترین

پنجاب کے پانچ ڈویژنوں کے وکلاء اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپ

wuklaاسلام آباد(بیورو چیف)پنجاب کے پانچ ڈویژنوں کے وکلاء اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپ سے شاہراہ دستور میدان جنگ بن گئی ،جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب ان وکلاء نے جو اپنے ڈویژنوں میں ہائی کورٹس کے بینچ قائم کرنے کا مطالبہ کررہے تھے سپریم کورٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی ، جھڑپ میں پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا جبکہ مظاہرین نے پتھراؤ کیا جس سے اے سی سٹی ، ایک پولیس اہلکار اور کئی مظاہرین زخمی ہوگئے ۔ فیصل آباد ، گوجرانوالہ ، سرگودھا ، ڈیرہ غازی خان اور ساہیوال ڈویژنوں سے تعلق رکھنے والے وکلاء کی ایک بڑی تعداد منگل کو سپریم کورٹ کے سامنے شاہراہ دستور پر اکٹھی ہوگئی اور دھرنا دیا ۔ یہ لوگ چیف جسٹس اور انتظامیہ کیخلاف نعرے بازی کررہے اور وکلاء رہنماؤں نے ان سے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان ڈویژنوں میں اب تک ہائی کورٹس کے بینچ قائم نہیں کئے گئے ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کی بحالی کی تحریک میں ہم نے بھرپور کردار ادا کیا ہے لیکن اس کے بعد ہمارے مسائل حل نہیں ہوئے ہمیں طویل سفر کرکے دوسرے شہروں میں جا کر مقدمات کی پیروی کرنا پڑتی ہے جس سے وکلاء کو مشکلات جبکہ درخواست گزاروں کو اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں اس صورتحال میں بار بار اعلی عدلیہ اور انتظامیہ سے مطالبات کئے گئے کہ ان شہروں میں جہاں لاکھوں افراد بستے ہیں ہائی کورٹس کے بینچ قائم کئے جائیں مگر اب تک ہمارے مطالبات پر کسی نے دھیان نہیں دیا جس پر ہم آج سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا دینے پر مجبور ہوئے اور یہ دھرنا مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا ۔ دن بھر تقریروں کے بعد شام کے قریب ان وکلاء نے سپریم کورٹ کے اندر جانے کی کوشش کی جس پر پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا اس پر مظاہرین نے پتھراؤ جبکہ پولیس کی طرف سے انہیں منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا سہارا لیا گیا جس سے شاہراہ دستور میدان جنگ بن گئی ۔لاٹھی چارج سے متعدد وکلاء زخمی ہوگئے جبکہ مظاہرین کے پتھراؤ سے اے سی سٹی محمد علی ، ایک پولیس اہلکار اور متعدد لوگ زخمی ہوئے ۔ اس جھڑپ کے بعد پولیس کی مزید نفری طلب کرلی گئی جس نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اس جھڑپ سے سپریم کورٹ میں لگائے گئے واک تھرو گیٹ اور عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے ۔ واقعہ کی اطلاع ملنے پر ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کیپٹن الیاس موقع پر پہنچ گئے اور انہوں نے وکلاء رہنماؤں سے مذاکرات کی کوشش کی لیکن وکلاء نے کسی قسم کی بات چیت کرنے سے انکار کرتے ہوئے زور دیا کہ ان کا دھرنا مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا ۔ ان کا مطالبہ تھا کہ چیف جسٹس ان سے ملاقات کرکے ان کے مطالبات منظور کرنے کیلئے حکومت پر دباؤ ڈالیں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button