تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

وزراء کی برطرفی مگر ملازمین کا مستقبل کیا ہوگا؟

zafar ali shah logoکرپشن اورغیرقانونی بھرتیوں کے الزامات کو بنیاد بناتے ہوئے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی سفارش پرماہ نومبر کے وسط میں خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویزخٹک کے ہاتھوں قومی وطن پارٹی کے وزراء بخت بیدار خان جو کہ وزیرمحنت وافرادی قوت تھے اور وزیر جنگلات ابرار حسین کی برطرفی تو عمل میں لائی گئی جس پر قومی وطن پارٹی نے سخت ردعمل دیااور نہ صرف مخلوط حکومت سے اتحاد ختم کرتے ہوئے اپنا راستہ الگ کرنے اور فوری طور پر اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کا اعلان کیابلکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور ان کی جماعت کے بعض صوبائی وزراء پربھی کرپشن کے الزامات لگائے۔اب تک دونوں جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتی رہی ہیں اور الزام در الزام کا یہ سلسلہ بدستورجاری ہے۔تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ قومی وطن پارٹی کے برطرف وزراء کی کرپشن کے ان کے پاس ٹھوس شواہد ہیں۔دوسری جانب برطرف وزراء خودپر لگے کرپشن کے تمام الزامات کوبے بنیاد قرار دیتے ہوئے زور دے رہے ہیں کہ اگر ان پرلگے الزامات میں صداقت ہے اور تحریک انصاف واقعی شواہد رکھتی ہے تو سامنے لائیں بصورت دیگر وہ انصاف کے لئے عدالت سے رجوع کرنے پر مجبورہوں گے ان کا مؤقف یہ ہے کہ اپنے وزراء کی کرپشن پر پردہ ڈالنے کے لئے تحریک انصاف نے ساراگند قومی وطن پارٹی سے تعلق رکھتے وزراء پر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔قطع نظراس کے کہ قومی وطن پارٹی کے وزراء کرپشن میں ملوث رہے کہ نہیں اور یہ بھی کہ کیا تحریک انصاف ان پر لگائے گئے الزامات کے ثبوت بھی میڈیا اور قوم کے سامنے لائے گی یاالزامات محض الزامات ہی رہیں گے ۔بہرحال زمینی حقائق یہ ہیں کہ قومی وطن پارٹی کے وزراء برطرف اور ان کی جماعت حکومتی اتحاد سے باہر ہوچکی ہے ایسے میں ان برطرف وزراء کے دور میں ان کے بھرتی کرائے گئے ملازمین اور منظورکرائے گئے عوامی منصوبوں کا مستقبل کیا ہوگا یہ ایک اہم سوال ہے کیونکہ ان کے دور میں بھرتی کرائے گئے ملازمین کی برطرفی اور بحالی کے حوالے سے آئے روز نت نئے اطلاعات اور افواہوں سمیت بعض سرکاری احکامات پر مبنی غیریقینی اور مبہم صورتحال کے پیش نظر متعلقہ ملازمین میں سخت تشویش اور بے چینی کی فضاء قائم ہے۔واضح رہے کہ برطرف صوبائی وزیر بخت بیدارخان نے کے دور میں نہ صرف ان کے محکمے میں سینکڑوں ملازمین کی بھرتی اور تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی بلکہ انہوں نے ورکرز ویلفئر بورڈ کے زیرانتظام کئی تعلیمی اداروں کے قیام کی منظوری کو بھی عملی جامہ پہنایاتھا جس میں پڑھے لکھے مردوزن نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع مہیاہوگئے تھے۔اگرچہ آسامیوں پر بھرتی کے معاملے میں میرٹ کی خلاف ورزی کے امکانات کو بہرصورت رد نہیں کیاجاسکتا لیکن ان کی وزارت میں پڑھے لکھے بے روزگاروں کو روزگار ملاتھاجس پر سالوں سے مایوسی کی دلدل میں پھنسے اور مشکلات کے بھنورمیں گرے عوام نے قدرے اطمینان اور سکھ کا سانس لیاتھا انکار اس حقیقت بھی نہیں کیا جاسکتا اور جو لوگ بھرتی ہوئے ہیں وہ کوئی خلائی مخلوق نہیں بلکہ اسی معاشرے سے تعلق رکھتے پاکستانی شہری ہیں۔عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوکر پارلیمنٹ اور وزارتوں تک رسائی حاصل کرنے والے کتنے شدید دباؤکے زیراثرہوتے ہیں اس کی مثالیں ہمارے روائتی نظام میں بدرجہ اتم موجود ہیں اور بخت بیدارخان اس روائتی سیاسی عمل اور منتخب حکومتی نظام کے اندروزارتی قملدان کے حامل پہلے وزیر تھے نہ ہی اخری ثابت ہوں گے۔بہرحال ذکرہورہاتھا بھرتیوں،تعیناتیوں اور برطرفی کے خدشات کا تو بخت بیدارخان کی وزارت سے برطرفی اور اتحاد ختم کرکے قومی وطن پارٹی کا حکومتی مدار سے نکلنے کے بعدورکرز ویلفئربورڈکے زیرانتظام چکدرہ میں قائم کئے گئے ورکنگ فوکس گرائمرسکول میں عرصہ تین ماہ تک ڈیوٹی دینے والے مجموعی طور پر74 ملازمین کو ان کی ملازمت سے برطرف کیاگیا۔ برطرفی کے شکار مردوزن عملہ میں 44اساتذہ،کمپیوٹر انسٹرکٹرزاور جونیئر کلرک شامل ہیں ۔ جبکہ کئی روزتک متعلقہ سکول کے خاتمے اور اسے کسی اور علاقے کو منتقل کروائے جانے کی افواہیں بھی گردش کرتی رہیں ۔اگر چہ موصولہ تازہ ترین اطلاعات یہ ہیں کہ نہ صرف سکول مذکورہ کا وجود تاحال قائم ہے بلکہ برطرف ملازمین کی بحالی بھی عمل میں لائی گئی ہے جو کہ متعلقہ ملازمین کے لئے فوری طورپر باعث اطمینان امر ضرور ہے تاہم خطرہ ابھی ٹلا نہیں ،خدشہ اب بھی پایاجاتا ہے اورمنڈلاتے خطرات وخدشات کے سائے میں ان ملازمین کو اب بھی اپنامستقبل مخدوش نظرآتاہے جب تک کہ خیبرپختونخواکی حکومت اور تحریک انصاف کی قیادت اس حوالے سے واضح یقین دھانی نہیں کراتے۔البتہ سیاسی امور کے ماہرین کی جانب سے اٹھایاجانے والاسوال یہ بھی اہم ہے کہ برطرف وزیر بخت بیدارخان پر مالی بدعنوانی کا الزام نہیں بلکہ ان پر الزام ہے غیرقانونی بھرتیوں کا ایسے میں اگر بھرتی کئے گئے ملازمین بحال رکھے جاتے ہیں تو پھر بخت بیدار کی برطرفی کا جواز کیا رہے گا۔ اور اِن الزامات کا کیا ہوگا جو نہ صرف بخت بیدار کی سیاسی ساکھ کو بُری طرح متاثرکرنے کا سبب بنے ہیں بلکہ ان سے ان کی پارٹی کا دامن بھی داغدار ہواہے ۔۔ یاتو تحریک انصاف ٹھوس ثبوت سامنے لاکر پردہ چاک کریں یا پھر قومی وطن پارٹی کے ورکرزاورقیادت سمیت پوری قوم سے معافی مانگیں۔کہیں ایسا نہ ہو کہ معصوم عوام ہی سیاسی جماعتوں کے آپس کے اختلافات،تناز

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button