تازہ ترینکالممقصود انجم کمبوہ

یورپ سے تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے

اس وقت وفاقی جمہوریہ جرمنی میں صنعت و حرفت اور نقل و حمل کا ایک جدید ترین بنیادی ڈھانچہ موجود ہے اور ساتھ ہی وہاں فیکٹریوں اور کارخانوں کی پیداواری صلاحیت کو جدید طریقے سے بڑھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں،اگر یہ عمل بدستور جاری رہا تو وفاقی جمہوریہ جرمنی کی مشرقی ریاستیں بھی جلد ہی بین الاقوامی سطح پر میدان معیشت میں صف اول میں شامل ہو جائیں گی۔
جرمن عوام جنہوں نے زندگی کے ہر شعبے میں نہایت احسن طریقے سے تربیت حاصل کر رکھی ہے اپنی استعداد کی بنیاد پر بین الاقوامی تجارت میں ایک نیا معاشی کرشمہ دکھانے کے منتظر ہیں۔جرمن اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ سر زمین جرمن سرمایہ کاری کے لحاظ سے نہایت موزوںاور دلکش خصوصیات کی حامل ہے۔ملک کا اندرونی سیاسی استحکام،قابل اعتماد نظام عدل و انصاف، نہایت مستعد اور قابل انتظامیہ،اعلیٰ تربیت یافتہ افرادی قوت اور جدید بنیادی صنعتی ڈھانچہ ،چند ایسے عوامل ہیں جو سرمایہ کاروں کے لیے یقیناً پرکشش ہو سکتے ہیں۔جرمن برآمدات اعدا د وشمار کے اعتبار سے ملک کی مجموعی معیشت کی ایک نہایت صحت مند تصویر پیش کرتی ہے۔
1990ئ میں وفاقی جمہوریہ جرمنی سے مجموعی طور پر 400ملین ڈالر مالیت کی مصنوعات برآمد کی گئیں جو نہ صرف ایک ریکارڈ ہے بلکہ گزشتہ سال جرمنی برآمدات کے میدان مین امریکہ ،جاپان اور فرانس جیسے ممالک سے بھی آگے نکل گیا ہے۔گزشتہ چالیس برسوں کے دوران جرمن برآمدات 8بلین مارک سے بڑھ کر 656بلین مارک تک جا پہنچیں ۔اس دوران ملک کی مجموعی سالانہ آمدنی میں برآمدات کی شرح 9فیصد سے بڑھ کر 27فیصد ہو گئی اگر اس میں بیرون ملک جرمن ماہرین کی خدمات کو بھی شامل کیا جائے تو یہ شرح 36فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔اس عرصہ میں جرمنی کے مقابلے میں امریکہ اور جاپان کی مجموعی سالانہ آمدنی میں برآمدات سے حاصل شدہ رقوم کی شرح بالترتیب8فیصد اور 15فیصد رہی۔تاہم اس دوران جرمنی میں کام کی نئی آسامیوں کا زیادہ تر انحصار برآمدات پر رہا۔اس وقت وفاقی جمہوریہ جرمنی مین تقریباً 28ملین افراد مختلف صنعتی شعبوں میں مصروف کار ہیں ۔ان میں 6ملین افراد کا تعلق برآمدات پر انحصار کر نے والی صنعتوں سے ہے۔وفاقی جمہوریہ جرمنی میں گزشتہ بیس سالوں کے دوران مجموعی سالانہ تجارت میں صنعتی برآمدات کی شرح 40فیصد تک پہنچ کر تقریباً دوگنا ہو گئی۔جرمن مصنوعات کا تقریباًنصف سے زیادہ حصہ یورپی اقتصادی منڈی کے رکن ممالک کو تقریباً 1/5حصہ دے کر یورپی ملکوں کو درآمد کیا جاتا ہے۔کینیڈا اور امریکہ کو برآمد کردہ جرمن مصنوعات کی شرح تقریباً 8فیصد ہے جبکہ دوسری دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو بھیجی جانے والی جرمن برآمدات کی شرح بھی 8فیصد ہے۔آسٹریلیا ،جاپان ،نیوزی لینڈ کے علاوہ مشرقی ریاستوں کی درآمد کردہ جرمن مصنوعات کی شرح چار فیصد ہے ۔جرمن مصنوعات میں ترقی اور گرم بازاری سے تیسری دنیا کے ترقی پزیر ممالک کو خاص طور پر فائدہ پہنچا ہے۔1989ئ کے دوران جرمنی میں درآمد کردہ ترقی پزیر ممالک کی برآمدات کی شرح میں 14فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی طور پر ان کی اضافی تجارت کی مالیت 550بلین مارک رہی ۔تاہم خام مال کی فراہمی میں جنوبی امریکی اور افریقی ممالک سب سے آگے رہے ۔ایشیائ کے ترقی پزیر ملکوں میں برآمدات کے بنیادی ڈھانچے میںمسلسل تبدیلی کا کا رجحان رہا ۔جرمنی ایک مرکزی بینک کی رپورٹ میں وفاقی جمہوریہ جرمنی اور تیسری دنیا کے مابین باہمی تجارت میں جرمن برآمدات میں کمی کی وجہ سے اندرون ملک غیر ملکی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی طلب بیان کیا گیا ہے ۔اس رجحان کے باعث اب تیسری دنیا کے ممالک سے وفاقی جمہوریہ جرمنی کو بھیجی جانے والی اپنی درآمدات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث جرمن برآمدات میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے۔پاکستان نے گزشتہ کئی برسوں سے جرمن کی مدد اور تعاون سے یورپی ملکوں میں اپنی درآمدات میں کافی اضافہ کیا اس کے علاوہ جرمنی میں پاکستان کی بہت سی مصنوعات کی کھپت میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔1991ئ میں جرمنی ،امریکہ کے بعد پاکستان دوسرا سب سے بڑا اور اہم کاروباری ساتھی بن گیا۔1991ئ میں جرمنی کے لیے پاکستانی برآمدات میں 23.2فیصد اضافہ ہوا 1990ئ میں پاکستان نے جرمنی کو928مارک ملین کا سامان برآمد کیا تھا ۔اتحاد کے بعد جرمن منڈی اور وسیع ہوگئی ۔جرمنی کے لیے پاکستانی برآمدات میں 60فیصد سے زیادہ حصہ سوتی اور ریشمی ملبوسات ٹیکسٹائل کی مصنوعات ،ہوزری کی دیگر مصنوعات کا ہے ۔پاکستان جرمنی کو جو چیزیں برآمد کرتا ہے ان میں دوسرا نمبر چمڑے کے ملبوسات ،جوتوں اور چمڑے کی دیگر اشیائ کا ہے ۔یورپین ممالک پاکستانی دستکاریوں میں کافی دلچسپی رکھتے ہیں
قالین ،چمڑے کی جیکٹیں اور دیگر اشیائ بہت پسند کرتے ہیں ۔لہٰذا ملک میں چمڑے،قالین بافی کی صنعت کو فروغ دیکر برآمدات میں اضافہ کر کے کثیر زرمبادلہ حاصل کر سکتے ہیں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker