تازہ ترینکالممقصود انجم کمبوہ

یہ ہیں غریب ملک کے سیاستدان

جب سیاستدان حکمرانی کی سیج سے اتر کر اپوزیشن کے تختہ دار پر لٹکتے ہیں تو ان کو کئی بلائیں آفتیں اور امراض گھیر لیتی ہیں۔ان کے جسم میں سوئیاں چبھنے لگتی ہیں۔ان کی زبان دراز ہو کر باہر آنے لگتی ہے ۔انہیں اپنے دوست بھی پرائے محسوس ہونے لگتے ہیں ۔اصل جمہوریت جعلی جمہوریت لگتی ہے۔منتخب حکمرانوں کو آمروں کی صفوں میں کھڑا دیکھا جانے لگتا ہے۔اپنے شیش محل بھی جیل خانے لگتے ہیں۔کل کے باغی غدار وطن اور تخریب کار محب وطن دوست کے روپ میں نظر آنے لگتے ہیں۔متاثرہ غریبوں کی جھونپڑیوں میں جا کر ہمدردیاں بانٹنے کی جستجو زور پکڑ لیتی ہے ۔حاکموں کی اٹھتی انگلی بھی توپ کا گولہ اور مزائل محسوس ہوتی ہے۔پھر بابائے جمہوریت کے جھنڈے تلے کھڑے ہو کر حاکموں کے خلاف حلف اٹھائے جاتے ہیں۔
لانگ مارچ ،ٹرین مارچ،احتجاجی ریلیاں اور جلوس کی نمائندگی کرنا فخر لگتا ہے۔مزدور اور کسان کے ہمدرد بن کے دھرنے دینے کو جی متلاتا ہے حکومت کے اچھے اور نیک کام بھی زہریلے لگتے ہیں۔حکمرانوں کی دفعہ 144تن بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔آگ اور پانی کو ساتھ ملانے کی جدوجہد کا عزم کیا جاتا ہے ۔عوام ساتھ نہ دیں تو فوج کے دروازے کو دستک دی جانے لگتی ہے۔جب یہ دروازے نہ کھلنے پائے تو امریکی صدر کے دفتر میں شکایات کے انبار لگ جاتے ہیں۔جہاں معاملہ گڑ بڑ نظر آئے تو یورپی یونین سے رجوع کیا جاتا ہے۔وہ بھی آنکھ پھیر لے تو دولت مشترکہ کے دفتر کی کنڈی کھڑکائے جانے لگتی ہے۔وہاں بھی لفٹ نہ ملے تع آئی ایم ایف والوں سے ترقیاں امداد اور قرضے رکوانے کی سر توڑ کوششیں ہونے لگتی ہیں۔جب ہر طرف سے ناکامی منہ چومنے لگے تو عاملوں اور اولیائ کرام کے درباروں پر راتوں کے اندھیروں میں سسکیاں لے لے کر منتیں مانی جاتی ہیں۔
جب معاملہ حد سے بڑھنے لگے تو ملک بدری قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ کار باقی نہیں رہتا اور وہاں بھی حکمرانی کے خواب جان نہیں چھوڑتے ۔لیکچروں کے بہانے ،انٹرویو کی آڑ میں وطن دشمنی خوب کمانے کو جی چاہنے لگتا ہے۔
یہ ہیں غریب ملک کے جاگیردار اور سرمایہ دار سیاستدان جو بھولے بھالے عوام کے ساتھ کھیلنے کا گر جانتے ہیں ۔اور انہی کے ہاتھوں ملک کی تباہی و بربادی کے سامان پیدا کیے جاتے ہیں ۔یہ چونکہ چوٹی کے سیاستدان ہیں ۔وی آئی پی ہیں اس لیے ہر ملک ان کو پر تعیش ٹھکانے مہیا کرتا ہے اور مکمل آزادی فراہم کرتا ہے تاکہ وہ اپنے ملک کے خلاف جی بھر کر ہر زہ سرائی کریں۔یہی سیاستدان بڑی قوتوں کے آلہ کار بن کر بعد ازاں ملکی مفادات کو زک پہنچانے سے دریغ نہیں کرتے اور دنیا کے گوشے گوشے میں اپنی مظلومیت کا رونا روتے ہیں اورر یوں اپنے ملک کو پوری دنیا میں بد نام کرتے ہیں
سنہری موقع ملتے ہی ملک میں آن ٹپکتے ہیں اور پھر منتخب ہوکر حکمرانی کی سیج پر براجمان ہو جاتے ہیں پھر یہی آمر مطلق ہوتے ہیں۔جمہوریت کے قاتل کہلاتے ہیں اور عوام کو خسارے کے بجٹ کے زہریلے ٹیکے لگا کر ان کی رگوں میں زہر گھولتے ہیں اور عوام کو صبر اور برداشت کا سبق دیتے ہیں ۔یہ ہیں بدقسمت ملک و قوم کے خوش قسمت سیاستدان جن کے سہارے یہ ملک 63سالوں سے رواں دواں ہے اور عوام بے بسی سے ان کو ہر حال میں برداشت کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔اللہ کرے میرا وطن ان آفتوں اور بلائوں سے محفوظ رہے جن کے باعث ملک و قوم کی سالمیت ہر وقت دائو پر لگی رہتی ہے اور یہ ہر طرح سے محفوظ رہ کر گل چھڑے اڑاتے ہیں۔اللہ ہماری دعا قبول کرے ۔آمین!

یہ بھی پڑھیں  عید کا شرعی فیصلہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کریگی: وفاقی وزیرمذہبی امور

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker