تازہ ترینتجمل محمود جنجوعہکالم

یہ قوم ،کسی مسیحا کی منتظر

بلاشبہ جمہوریت کو دنیائے جدید میں پسندیدہ ترین نظامِ حکومت خیال کیا جاتا ہے اور یہ بات واقعی درست ہے کسی بھی ملک کی ترقی جمہوری دور میں ہی ممکن ہے اور جمہوری عمل کی کامیابی کا راز جمہوریت کے تسلسل میں پِنہاں ہے۔
صاحبِ عقل بندے کو یہ پڑھتے ہی فوراً خیال آئے گا کہ جمہوریّت کی علمبردار موجودہ حکومت نے پاکستان کو جِس طرح کرپشن، لوڈشیڈنگ اور دہشتگردی کی دلدل میں دحکیلا ہے کیا یہی جمہوریّت کا حُسن ہے؟؟؟
تو جناب ذرا عقل کے گھوڑے دوڑائیے اور موازنہ کیجیئے کہ ترقی یافتہ ممالک میں جیسے جمہوری عمل چل رہا ہے اور جیسے اُدھر عوام کی حکمرانی ہے، کیا اِسی طرح اَرضِ پاک میں بھی جمہوریت رواں دواں ہے، کیا اِسی طرح اِدھر بھی عوام کی حکمرانی ہے؟؟؟
نہیں، ہر گِز نہیں۔۔۔
ارضِ وطن کا سب سے بڑا اَلمیہ یہ ہے کہ یہاں ذاتی مفاد پرقومی مفاد کو قربان کر دیا جاتا ہے۔ جبکہ جمہوریت کی حمایت میں جِن ممالک کی مثالیں دی جاتی ہیں وہاں عوام کے شعور اور بالا دستی کا یہ عالم ہے کہ اگر وزیر اعظم اپنے بچوں کو پڑھنے کے لئے بیرونِ ملک بھیجتا ہے تو عوام سراپاءِ احتجاج بن جاتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ یاساری عوام کے بچوں کو پڑھنے کے لئے باہر بھیجا جائے کیونکہ وزیرِ اعظم بھی عوام میں سے ہی ہے۔ دوسری صورت یہ رکھی جاتی ہے کہ وزیراعظم کے بچوں کو بھی واپس بلائے اور وہ بھی عام لوگوں کے بچوں کے ساتھ سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کریں۔ تو عوام کی بالادستی کا ثبوت ملاحظہ ہو کہ وزیر اعظم اپنے بچوں کو ناصرف وطن واپس بلاتا ہے بلکہ عام سکولوں میں تعلیم دلواتا ہے۔
اب ذرا اپنے ملک کے حکمرانوں کی شاہانہ طرزِ زندگی پر بھی اِک نظر ڈالئیے، کیا عوامی حکومت کے نمائندوں کو ایسا ہی طرزِزندگی اپنانا چاہیے؟ کیا اُن ممالک میں بھی اِسی طرح گورنر ہاؤس اور وزیرِ اعلیٰ ہاؤس 6,6 سو کینال پر محیط ہیں؟ کیا اِسی طرح وزیروں ، مشیروں کے دوروں پر کروڑوں، اربوں ڈالر خرچ کئے جاتے ہیں؟ کیا لوڈشیڈنگ، کرپشن، بیروزگاری، غربت و افلاس کایہی عالم ہے؟ قطعاً نہیں۔
برطانیہ سے موازنہ تو دور کی بات اگر ہم اپنے ہمسایہ ملک ایران کی تاریخ پر نظر ڈالیں توپتہ چلتا ہے کہ اب بھی ایرانی صدر 40 سالہ پُرانے مکان میں رہ رہا ہے۔جو کہ محض 3 مرلے کا ہے۔ ایرانی عوام کی قوتِ خرید دنیا بھر میں سترہویں(17th) نمبر پر ہے۔ اور ایرانی معیشت دنیا کی بیسویں بڑی معیشت ہے۔اور ایرانی انقلاب کے بعد ایران کے پہلے صدر اپنی کتاب how to speak) (میں لکھا ہے کہ انقلاب کے بعد ایک مغربی صحافی نے آیت اللہ خمینی سے سوال کیا کہ نہ آپکے پاس انجینئرز ہیں اور نہ معیشت دان، آپ کِس طرح سروائیو (survive) کریں گے؟تو آیت اللہ خمینی نے جواب دیا کہ ہمارے اِنقلاب کا مقصد ہی اپنے عوام کو یہ بتانا ہے کہ (how to die) مرنا کیسے ہے؟ واہ کیا سوچ تھی۔ ہمارا اور اُن عظیم قوموں کا کیا موازنہ؟؟؟۔۔۔۔
28 فروری 2008 ؁ء کے دن جب پاکستان پیپلز پارٹی برسرِ اقتدار آئی تو یہ توقع کی جا رہی تھی کہ آمرانہ دور کی تمام خرافات دور کر کے عوام کو ترقی کی راہ پرگامزن کر دیا گیا جائے گا مگر جس طرح عوام کی امیدوں کا بھرکس نکالا گیاوہ قابلِ صد افسوس ہے۔ عوام کُش پالیسیوں نے عوام کو مایوسیوں کی جن اندھیری وادیوں میں دھکیل دیا ہے اُن سے نکلنے میں شاید اک مدت چاہئے ہو گی۔ موجودہ حکومت کے ان 5 سالوں میں مہنگائی، بیروزگاری،کرپشن، لوڈشیڈنگ میں جس قدر اضافہ ہوا ہے، اِس سے پہلے شاید نہ ہوا ہو گا۔ عوام کے نام پہ جس قدر غیر ملکی قرضہ لیا گیا اگر اس کا 10% بھی عوام پر خرچ کیا گیا ہوتا تو صورتِ حال بہت مختلف ہوتی۔ ہاں البتہ بجلی اور گیس کے نئے کنکشن، سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پی پی پی کے اچھے اقدامات ہیں تاہم ان میں بھی بدعنوانی اور اقرباء پروری کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) جواس وقت پنجاب میں برسرِاقتدار ہے اور جواگلے الیکشن میں حکمران جماعت کی سب سے بڑی حریف خیال کی جا رہی ہے،کے تعلیمی میدان میں انقلابی اقدامات عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت بنانے کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ ان میں ایچی سن کے معیار کے دانش سکول، ہونہار طلباء کے لئے ماہانہ لاکھوں روپے کے وظائف، نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کیلئے تعلیمی دورے اور لیپ ٹاپ قابلِ ذکر ہیں۔ تعلیمی شعبے کے علاوہ بے روزگار نوجوانوں کیلئے ٹیکسی اسکیم اور چھوٹے کاشتکاروں کے لئے بلا سود قرضوں کا اِجراء اور آسان اقساط پر ٹریکٹر اسکیم بھی قابلِ ستائش اقدامات ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ سیاسی مخالفین مسلم لیگ (ن) پر بھی مختلف نوعیت کے الزامات لگاتے آئے ہیں ، جن میں بیڈ گورننس اور سستی روٹی کے نام پر عوام کے کروڑوں روپے تندوروں میں جھونکے جانے جیسے الزامات شامل ہیں۔
بعض سروے رپورٹس میں پاکستان تحریکِ انصاف کو عوام میں سب سے مقبول ترین جماعت قرار دیا گیا ہے۔ شوکت خانم کو جس انداز سے عمران خان نے چلایا وہ واقعی اس کے اچھے منتظم ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کچھ عرصہ قبل جب ہر طرف عمران خان کا توتی بول رہا تھا تو لوگ عمران خان کو آیت اللہ خمینی سے تشبیہہ دینے لگ گئے تھے مگر جب عوام نے پُرانے چہروں کوہی تحریکِ انصاف کی باگ ڈور سنبھالتے دیکھا تو تحریکِ انصاف سے بھی لوگوں کا اعتماد اُٹھتا چلا گیا۔ تاہم اب بھی بہت سے لوگ عمران خان کو ہی مسیحا گردانتے ہیں۔ میں عمران کے بارے میں اِتنا ہی کہوں گا۔۔۔۔
؂ لگ جائے زمانے کی ہوا جانے اُسے کب
وہ شخص بھی اِنساں ہے، کچھ کہہ نہیں سکتے
یہ تھا تذکرہ پاکستان کی سیاست میں بڑے بڑے ناموں کا۔یہ سب خود کو قوم کا محسن تو کہلواتے ہیں مگر دیکھنا یہ ہے کہ کیا اِن میں سے کوئی ایسا ہے جو قوم کو ناامیدی کی اتھاہ گہرائیوں سے نکال کر امید کی کوئی کرن دِکھلائے ۔ جو واقعی راہنما کہلوانے کا حق رکھتا ہو۔اس قوم کو واقعی اب کسی مسیحا کی ضرورت ہے ۔دعا ہے اللہ پاک ہمیں جو بھی حکمرا ن عطا کرے وہ محبّ وطن ہو اور عوام کا خیر خواہ ہو۔۔۔ آمین

یہ بھی پڑھیں  رحیمیارخان: پی پی 289سےاظہارالحق کے کاغذات نامزدگی مسترد

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker