ایس ایم عرفان طا ہرتازہ ترینکالم

یا رب اس قوم کو تہذیب سکھا دے

خدا نے اس قوم کی حا لت کبھی نہیں بدلی                  جسے نہ ہو خیال آپ اپنی حا لت کے بدلنے کا
گذ شتہ دن جب حکو مت وقت نے محض عوامی جذ با ت اور احساسا ت وتخیلا ت کا لا وا ابھلتے دیکھا تو سیاسی مفادات کی خا طر یو م عشق رسول ﷺ کا علان کر دیا ۔ جس کے پس منظر میں حکمرانوں کے اپنے ذاتی اور سیا سی مفا دات کا رفرما تھے ورنہ امریکہ بہا در کے ترانے پڑھنے والے اور اس کی چا ہت اور خو شنودی کی خا طر اپنی زندگیا ں بسر کر نے والے اور دن رات اللہ کی ربو بیت اور وحدانیت کو بھلا کر عیا شی اور فحاشی کی زندگی بسر کرنے والے عشق مصطفیﷺ کا نام کیو نکر لیں گے جن کے سینے اور ذہن مغربی رنگینوں اور نجا ستو ں سے نا پاک اور دل غم معاش میں مردہ ہو گئے ہو ں وہ رسول خدا کی تعظیم اور تو قیر کیا جا نیں گے۔ الیکشن کا وقت قریب تھا اور موقع بھی تھا اور دستور بھی کے عشق نبی ﷺ کی حلاوت اور چا ہت میں ڈوبی عوام کی ہمدردیا ں اور امیدیں ساتھ رکھ لی جا ئیں ۔ حا لا نکہ اس میں کوئی بھی حقیقت اور وفا یا دیا نتداری کا عنصر دکھا ئی ہی نہیں دیتا ہے جو نما ز ، روزہ ، حج اور زکوٰۃ کو ما یو ب سمجھتے ہیں وہ کیسے چا ہیں گے عشق مصطفیﷺ کا دن منایا جا ئے بعض اوقا ت رب اپنے نافرما نو ں اور بر و ں سے بھی اچھے کام کرواد یتا ہے جس کی جھلک یو م عشق رسول کے اعلان میں دکھا ئی ضرر دی ہے ۔بقول شا عر
اغراض کے گہرے پر دو ں میں الفا ظ کے گہرے رنگو ں میں                 ہر شخص محبت کرتا ہے حا لانکہ محبت کچھ بھی نہیں
اس یو م عشق رسول ﷺ کے مو قع پر جو عوام کی طرف سے رویہ اور ردعمل دیکھنے کو آیا وہ شاید حسب توقع اور حسب حال یہی بنتا تھا اس کا بخوبی اندازہ تھا حکمرانوں اور انتظامیہ کو لیکن پھر بھی بے بسی اور بے حسی کا عالم دکھا ئی دیا ۔ سرکا ردو عالم ﷺ کی شان میں گستاخانہ مو وی بنا کر ٹیری جو نز ، سام با سل ، امریکن سی آئی اے اور مو ساد نے جو دہشتگردی اور انتہاپسندی کا مظا ہرہ کیا اور جو ان کے عزائم تھے اس میں وہ 80% کا میا ب رہے ۔ اپنے ملک میں رہتے ہو ئے جو احتجا ج اور پیغام دوسری دنیا تک پہنچا نے کا راستہ ہما ری اس قوم نے اپنایا وہ انتہا ئی شرمناک اور کر بناک رہا کوئی بھی اہل علم و دانش یا مہذ ب شخص اس کو پسند نہیں کر تا ہے ۔ سب سے پہلے تو بطور انسان اشرف المخلو قات کا ٹا ئٹل ہمیں اپنی خو بصورتی ، وجا ہت اور قد کا ٹھ کی بنا پر نہیں ملا بلکہ یہ تو علم و عمل کی دولت سے منصوب ہے ۔ مسلما ن ہو نے کے نا طے اپنے پیا رے نبی اکرم نو ر مجسم ﷺ سے محبت اور عقید ت اور احترام کا رشتہ تو ہم سے امن ، بر دباری اور صبر کا تقاضاکرتا ہے ۔ کوئی ان غیر مہذب اور انسانی روپ میں ملبوس حیوانیت کے کرداروں سے پو چھے کہ اپنے وطن مقدس کی املا ک چا ہے وہ نجی ہو ں یا قومی کو نقصان پہنچا کر گستاخا نے رسول کو کتنا نقصا ن پہنچا ہے؟ جو گا ڑیا ں جلا ئی گئی وہ کس کی تھی؟ جو پو لیس چو کیا ں نذر آتش کی گئی وہ کس نے بنائی تھیں ؟اور جن بینکو ں اور دوسری بلڈنگز کو نشانہ بنایا گیا اور تو ڑ پھو ڑ کی گئی اس سے کس کو زیا دہ نقصان پہنچا ہے؟ جو مسلمانو ں کی لا شیں اپنے گھروں کو پہنچیں ان کا جرم کیا تھا؟ اپنے ملک کا نظام درہم برہم کر کے کن نفلو ں کا ثوا ب حاصل کیاگیا ہے کیا ان احبا ب میں کسی میں اتنی جرات نہیں کہ بغیر کسی شورو غوغا اور تبا ہ و بربادی کے قصور وار کو سزا دی جا سکے اور ایسی حکمت عملی اپنائی جا ئے کہ جو سازش پو ری مسلم امہ کے خلا ف یہو د و نصا ریٰ نے تیا ر کی ہے اسی کی بھینٹ ان کے عزائم کوچڑھا کر نست و نا بو ت کر دیا جا ئے لیکن بڑی معذرت کے ساتھ گستا خانے رسول کو نقصان پہنچا نے کی بجا ئے فائدہ پہنچا یا گیا ہے اور اپنے کردار اور افکا ر کو مزید گندہ کر نے میں ہر ایک نے اپنا اپنا حصہ شامل کیا ہے ۔ اس ملک میں صرف ایک یا دو نہیں بلکہ بے شما ر بیرونی ایجنسیاں اس کا نظم و نسق اور اسکا امن و سکون تباہ کرنے کے لیے بر سر پیکا ر ہیں اور ایسے مواقع ان کو فراہم یہ قوم خود کرتی ہے اپنے آپے سے با ہر آکر ہمیں اپنا احتجاج ریکا رڈ کر انے کے ساتھ ساتھ تحفظ اور اپنی سا لمیت کا خیال بھی کر نا ہے ۔ کیو نکہ جو با ت دفاعی پو زیشن مد نظر رکھ کر آگے بڑھائی جا ئے اس میں نقصان کا خدشہ بہت کم ہو تا ہے ۔ اس وطن عزیز کو نقصان پہنچا نے والا اہل اللہ اور رسول اللہ کا غلام نہیں ہو سکتا ہے عشق نبی کا جام پینے والا مد ہو ش نہیں ہوتا اسکے تو چو دہ طبق روشن ہو جا تے ہیں اور وہ فہم و فراست اور حکمت و دانائی کا پیکر بن جا تا ہے محبت مصطفیﷺ کانام لیکر بہکنے والے اور اپنی اصلیت اور نفع نقصان کو بھول جا نے والے عاشق صادق نہیں ہو سکتے ہیں وہ گمراہ ، نا دان اور بے راہ روی کا شکا ر لو گ ہیں تشدد پسند اور انتہا پسند عا شق نہیں منا فق ہیں جو بیرونی قوتوں اور ملک دشمن عنا صر کے آلہ کا ر بن کر اپنے ہی دیس کو نقصان پہنچا نے کا با عث بنتے ہیں ۔ ہمیں پا کستان سے پیا ر ہی رسول اللہ ﷺ کی نسبت سے ہے اور حقیقی محبت زندگی میں وہی ہے جو آپ ﷺ سے وابستہ ہو اس کو نقصان پہنچا نے والا اس کی املاک اور خو بصورتی کو نقصا ن پہنچا نے والا ہم میں سے نہیں ہے ہم پا کستان کا نام عبا دت سمجھ کر لیتے ہیں اور ہما را پا کستان سے تعلق ایمان والا تعلق ہے ہم پا کستان سے اس لیے بھی پیا ر کرتے ہیں کہ یہ اس نظریہ کا عملی نمو نہ ہے جو نظریہ ہما رے محبو بﷺ نے طا ئف کے با زار میں پتھر کھا کے بھی پیش کیا تھا ۔ اسلیے خدارا یہ با ت ذہن نشیں رکھیں کے عشق رسول ﷺ تو حقیقت میں زندگی گزارنے کا طر یقہ اور اصول عطا کر تا ہے اور ایک قا عدے قا نون اور علم و حکمت کا درس دیتا ہے اس کا نام لیکر خلا ف شرعہ اور خلا ف فطرت کوئی بھی عمل جا ئز نہیں ۔ اپنی تہذیب ، اپنے مذہب اور اپنی اخلا قی قدروں کو ملحو ظ خا طر رکھتے ہو ئے ہر قدم اٹھا ئیں جس کے کر گزرنے کے بعد ملا مت نہ ہو، افسوس نہ ہو اور شر مندگی نہ اٹھا نا پڑے عشق مصطفیﷺ کا حق ادا تبھی ہو سکتا ہے جب ان کی سیرت و تعلیما ت کو اپنے اوپر پو ری طر ح سے لا گو کر دیا جا ئے نہ کے اپنے ملک کا نظام درہم برہم کر نے اور تبا ہی و بربادی اور قتل وغا رت بر پا کی جا ئے ۔
نقش ہیں جو دل پہ وہ تصویر پا کستان ہے                                   جذبہ الفت کی تعبیر پا کستان ہے
کون اب تسخیر کر سکتا ہے ارض عشق کو                 مصطفےٰ ﷺ کے نام کی جا گیر پا کستان ہے

یہ بھی پڑھیں  ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker