احمد رضا میاںتازہ ترینکالم

یہ سب کیا ہے۔۔۔؟؟؟

میں ہاسپٹل میں داخل ہوا تو حیران رہ گیا اور تھوڑا سا پریشان بھی کہ خدا خیر کرے۔اس قدر ویرانی اور پریشانی کسی بڑے ہسپتال میں میں نے زندگی میں پہلی بار دیکھی تھی۔ کوئی مریض کوئی ڈاکٹر اور کوئی نرس مجھے نظر نہیں آ رہی تھی۔ہر طرف سناٹا ہی سناٹا تھا ہر طرف خاموشی ہی خاموشی تھی۔ کوئی پرندہ تک بھی پر نہیں مار رہا تھا۔اس سے پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہوا تھا یہاں ڈاکٹر نرسیں اور مریضوں کا ہر وقت رش رہتا تھا۔لیکن آج۔۔۔ انہیں سوچوں میں میں آگے بڑھا اور ہاسپٹل کے آوٹ ڈور میں داخل ہو گیا ۔وہاں بھی ویرانی تھی وہاں بھی سناٹا تھا۔کسی قسم کی کوئی چہل پہل نہ تھی۔ ۔۔ میں آگے بڑھا سامنے وارڈ تھی بہت بڑی وارڈ۔ میں اس وارڈ میں داخل ہو گیا اور کیا دیکھتا ہوں کہ مریضوں کی ایک بڑی تعداد بے سدھ حالت میں پڑی ہے۔ میں وارڈ کے اندر داخل ہوا اور ایک مریض کے بیڈ کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا۔میں نے ڈرتے ڈرتے اس کے منہ سے کپڑا اٹھا یا ۔ مریض زندہ تھا لیکن شائد وہ اپنی آخری سانسیں گن رہا تھا۔ میں نے اس کا نام پوچھا ۔ اس کے لب ہلے مگر اس کی آواز میرے کانون تک نہ پہنچ پائی۔ میں نے اپنا کان اس کے منہ کے قریب لیجا کر دوبارہ پوچھا۔۔۔میرے کانوں میں جو آواز پڑی وہ تھی۔۔ ریلوے۔۔ میرا نام ریلوے ہے اس نے کہا۔۔۔ریلوے ؟؟؟ میںنے حیران ہو کر پوچھا کہ تمہیں کیا ہوا ؟ تم تو اچھے خاصے تندرست تھے۔۔۔ نہیں بھائی جان میں اندر سے بالکل کھوکھلا ہو چکا ہوں۔اس حکومت نے تو آکر میرے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ لیا ہے۔اب تو میں اپنی زندگی کی آخری گھڑی کا انتظار کر رہا ہوں۔ وہ بڑی مشکل سے بول رہا تھا۔۔۔اسی اثنا میں ایک نرس تیزی سے آئی جس کے ہاتھ میں ایک بڑی سی خالی سرنگ تھی اس نے وہ سرنگ ریلوے کے بازو میں پیوست کی اور اسے خون سے بھر کر تیزی باہر نکل گئی۔۔۔دیکھ لیا تم نے ر وز یہی کچھ ہوتا ہے میرے ساتھ۔۔۔اس نے لرزتے ہوئے لبوں سے مجھے کہا۔میں اگلے مریض کی طرف بڑھا اس کے منہ سے کپڑا ہٹایا جو کہ لمبی لمبی سانسیں لے رہا تھا ۔اس نے مجھے اپنا نام پی۔آئی۔ اے۔ بتایا۔۔۔میرا حال بھی میرے ساتھ والے مریض جیسا ہے۔ میری طرف بھی کسی کی توجہ نہیں ہے میں مر رہا ہوں لیکن مجھے بچانے کی کسی کو بھی توفیق نہیں ہے۔یہ دیکھو میرے ہاتھ پائوں ایک ایک کر کے کاٹے جا چکے ہیں۔اس نے مجھے کٹے ہوئے ہاتھ اور پائوں دکائے جسے دیکھ کر میں اور بھی رنجیدہ ہو گیا ۔۔۔اس سے اگلا بیڈ پاکستان سٹیل مل کا تھا۔ اس کی داستان بھی کچھ ان دو مریضوں سے مختلف نہ تھی۔اس کی سانسیں آکیسجن کے سلنڈر سے رواں رکھی ہوئی تھیں۔اس کی غم زدہ کہانی نے میری آنکھیں نم کر دیں اور میں بوجھل قدموں سے آگے بڑھتا گیا اورایک ایک کر کے مریضوں کی داستانیں سُنتا گیا۔۔۔
انصاف، قانون، انڈسٹری، معیشت، توانائی۔۔۔ سب کے سب ایک ہی رونا رو رہے تھے۔کہ ہماری زندگیاں ختم کی جارہی ہیں۔ ہمیں قتل کیا جا رہا ہے۔ ہمیں بچانے والا کوئی بھی نہیں ہے۔۔۔ ہمارے مسیحا ہی ہمارے دشمن ہیں۔۔۔اب مجھ میں اتنی ہمت اور برداشت نہیں تھی کہ میں باقی مریضوں کے پاس جاکر ان کا حال پوچھ سکوں۔میں اس وارڈ سے باہر نکل گیا اور کھلی ہوا میں کچھ دیر اپنی سانسیں بحال کرنے کے لیئے کھڑا رہا۔۔ پھر میری نظر ایک وی آئی پی وارڈ کی طرف پڑی جہاں ڈاکٹروں اور نرسوں کا کافی رش تھا میں جلدی سے اس وارڈ کی طرف بڑھا اور قریب جا کر دیکھا تو میری حیرت سے آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیںکیوںکہ اس مریض کی حد سے زیادودیکھ بھال کی جا رہی تھی۔ کوئی اس کے لیئے خون کی بوتلیں لا رہا ہے تو کوئی طاقت کے انجکشن۔ کوئی ڈاکٹر اس کے دل کا معائنہ کر رہا ہے تو کوئی نرس اس کا ٹمپریچر چیک کر رہی ہے۔غرض کہ جس کسی کو بھی جتنا موقع ملتا ہے وہ اس کی اتنی ہی خدمت کر رہا ہے۔اتنی ٹھاٹھ باٹھ اور ناز نخرے والا مریض میں نے پہلی بار دیکھا تھا۔اب مجھ سے رہا نہ گیا اور میں ڈاکٹروں اور نرسوں کی بھیڑ کو چیرتا ہوا بڑھا اور اس مریض کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا ۔مریض کا ہشاش بشاش چہرہ چمکتی ہوئی آنکھیں اور ہونٹوں پر تبسم دیکھ کر ایک لمحے کے لیئے بھی نہیں لگتا تھا کہ یہ کوئی مریض ہے۔میں نے مریض کو اپنی طرف متوجہ کیا اور پوچھا کہ آخر تم کون ہواتنے خوش نصیب جس کی اتنی آئو بھگت ہو رہی ہے۔۔۔۔ اُس نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور بڑے پیار سے بولا مجھے جمہوریت کہتے ہیں۔اور یہ سب کے سب میرے حامی ہیں مجھے ایک لمحہ بھی تکلیف میں نہیں دیکھنا چاہتے اس لیئے میری اتنی خاطر تواضع کر رہے ہیں۔کیا تمہیں کوئی اعتراض۔۔۔۔؟؟؟؟
میں اس کی باتیں سن کر شرمندہ ہو گیا اور خاموشی سے باہر نکل آیا۔۔۔ اور انسانوں کو ڈھونڈنے لگ گیا۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker