شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / بین الاقوامی / کلبھوشن یادیو کیس: عالمی عدالت انصاف فیصلہ 17 جولائی کو سنائے گی

کلبھوشن یادیو کیس: عالمی عدالت انصاف فیصلہ 17 جولائی کو سنائے گی

دی ہیگ(ڈیسک نیوز) عالمی عدالت انصاف نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کیس کے فیصلے سے متعلق تاریخ کا اعلان کر دیا ہے۔عالمی عدالت انصاف کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ 17 جولائی کو مقامی وقت کے مطابق دن تین بجے کلبھوشن یادیو کیس کا فیصلہ سنایا جائے گا۔ پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق یہ فیصلہ شام سات بجے آئے گا۔یاد رہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو 3 مارچ 2018ء کو پاکستان ایران سرحدی علاقے سے گرفتار کیا گیا۔ یہ بھارتی جاسوس بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر اور را کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہا تھا۔اس کے بعد حکومت پاکستان نے بھارتی سفیر کو طلب کرکے بھارتی جاسوس کے غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخلے اور کراچی اور بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے پر باضابطہ احتجاج کیا۔ اس کے بعد کلبھوشن یادیو کے اعترافی بیان کی ویڈیو جاری کی گئی۔بعد ازاں اپریل 2018ء میں کلبھوشن یادیو کے خلاف دہشتگردی کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کروائی گئی، جس کے بعد فوجی عدالت نے بھارت جاسوس کو ملک میں دہشتگردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنا دی۔گزشتہ سال مئی میں بھارت نے اپنے جاسوس کلبھوشن سنگھ یادیو کی پھانسی رکوانے کے لیے عالمی عدالت انصاف میں درخواست دائر کر دی۔ 15 مئی کو بھارتی درخواست پر سماعت کا آغاز ہوا، اس کے بعد دونوں جانب کا موقف سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔ذرائع کے مطابق عالمی عدالت انصاف کی جانب سے خط لکھ کر پاکستان اور بھارت دونوں کو فیصلے کی تاریخ سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں قائم عالمی عدالت نے بھارت کی درخواست پر اٹھارہ سے اکیس فروری تک اس مقدمے کی سماعت کی تھی، جس کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا گیا تھا۔پاکستان پرامید ہے کہ فیصلے میں اس کی فتح ہو گی کیونکہ بھارت نے پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے چھ سوالات میں سے ایک کا بھی جواب نہیں دیا۔کلبھوشن یادیو کے پاس حسین مبارک پٹیل کے پاسپورٹ پر بھارت نے خاموشی اختیار کر لی۔بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو ریٹائرڈ افسر قرار دینے والا بھارت اس کی ریٹائرمنٹ کا ایک بھی ثبوت نہیں دے سکا۔بھارت نے الزام لگایا کہ کلبھوشن یادیو کو ایران سے اغوا کیا گیا، مگر اس کا ایک بھی ثبوت دینے میں ناکام رہا۔پاکستان کے اس سوال کا بھی جواب نہ دیا جا سکا کہ قونصلر رسائی کے 2008ء کے معاہدہ کا اطلاق نیشنل سیکورٹی کے معاملات کیسے ہو سکتا ہے؟ذرائع کے مطابق پاکستانی وفد عالمی عدالت کا فیصلہ سننے کیلئے جولائی کے تیسرے ہفتے میں دی ہیگ روانہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں  سچ تو یہی ہے
error: Content is Protected!!