تازہ ترینکالمنسیم الحق زیدی

”یہودی ایجنٹ ملالہ یوسف زئی“

ملالہ یوسف زئی نے اپنی کتاب میں جس طرح اور جو کچھ لکھا اس سے اس نے خود کو مکمل طور پر بے نقاب کردیا اور یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ ملالہ یہودیوں نصرانیوں کا رچایا ہوا ایک ڈرامہ تھا اور ایسا بے ہودہ اور لایعنی ڈرامہ جس کا نہ تو کوئی سر تھا اور نہ کوئی پیر۔امریکا یا امریکی سی آئی اے نے آج تک جتنے بھی ڈرامے جاری کئے،سب کے سب ناکام ہوئے،ناکام ہی نہیں بلکہ بدنام ہوئے 9/11کا ڈرامہ سب سے بڑا تھا جو بے نقاب ہوکربری طرح ناکام وبدنام ہوا۔اس طرح اسامہ بن لادن کے آپریشن کا ڈرامہ بھی نہ صرف بری طرح ناکام ہوا بلکہ بدنام بھی ہوا۔عراق پر امریکی حملے کا ڈرامہ بھی بالآخر ناکامی وبدنامی سے دوچار ہوا اسی طرح افغانستان پر امریکی حملے کی صورت میں یہ ڈرامہ بھی بے نقاب اور ناکام ہوا بلکہ پوری دنیا میں امریکی رسوائی کا باعث بنا۔اپنی ذلت وخفت مٹانے کے لیے اور دنیا کی توجہ وہاں سے ہٹانے کے لیے ملالہ کا ڈرامہ رچایا گیا۔حیرت کی بات ہے کہ وہ امریکا اور امریکی ایجنسی سی آئی اے جو خود کو دنیا کی طاقتور ترین قوت اور ایجنسی کہتی تھکتی نہیں، ایسے ایسے احمقانہ ڈرامے رچاتے ذرہ بابر بھی شرم وحیا محسوس نہیں کرتی۔مان لیا کہ امریکا اور اس کی سی آئی اے دنیا کی طاقتور ترین قوتیں ہیں مگر کامیاب اور نامور ڈرامے لکھنا اور انہیں آن ائیر کرنا طاقت کا نہیں عقل وشعور کا کام ہے مگر چونکہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے لہذا پاؤ ں نہ ہونے کے باعث ہر امریکی ڈرامہ بے نقاب ہوا۔ملالہ کا وہ انٹرویو میں نے خود چینل پر دیکھا جس میں وہ کہہ رہی ہے کہ ”ہمارے سکول کی وین جب روک لی گئی تو نقاب پوش طالبان نے اس کا دروازہ کھولا،ہم کافی لڑکیاں وین میں موجود تھیں ایک شخص نے پوچھا کہ تم میں ملالہ یوسف زئی کون ہے؟لڑکیوں نے میری طرف دیکھنا شروع کردیا۔وہ سمجھ گئے کہ میں ہی ملالہ ہوں اور پھر انہوں نے مجھے گولی مار دی جو میرے ماتھے میں لگی اور کان کے نچلے حصے سے نکل گئی“کیا واہیات اور بے ہودہ بات ہے۔پہلی بات تو یہ ہے ملالہ یوسف زئی اگر طالبان کا ٹارگٹ ہوتی تو وہ ملالہ یوسف زئی کی شکل وصورت سے اچھی طرح آگاہ ہوتے،وہ جانتے کہ ملالہ یوسف زئی کون ہے جسے نشانہ بنایا جانا ہے۔مگر طالبان تو اتنے اناڑی تھے کہ ملالہ کو قتل کرنے سے قبل جانتے تک نہ تھے کہ ملالہ یوسف زئی کون؟اور پھر موقع پر آکر پوچھ رہے ہیں تم میں ملالہ یوسف زئی کون ہے؟دوسری بات یہ کہ وہ طالبان جو نہایت تربیت یافتہ جنگجواور زبردست نشانہ باز ہیں،دومیل دور سے بھی دشمن کی کھوپڑی اڑادینے والے طالبان ایک گز کے فاصلے سے کھوپڑی کا صحیح نشانہ نہ باندھ سکے؟اوراتنی صفائی کے ساتھ ٹارگٹ کیا کہ ملالہ یوسف زئی کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے اور کہیں ہلاک ہی نہ ہوجائے؟یہ سب رچائے ہوئے ناکام اور بے ہودہ ڈرامے ہیں جن کی کوئی حیثیت وفوقیت نہیں۔امریکا شائد دنیا کو بالکل ہی جاہل اور بے عقل سمجھتا ہے یہ الگ بات کہ ہماری قوم کے کچھ لوگ جاہل اور بے عقل ہیں جو امریکا کی ہر بات کو نعوذباللہ حدیث سمجھتے ہیں اور یہ وہی لوگ ہیں جن کا دین،مذہب کے ساتھ کوئی تعلق نہیں یہی وجہ ہے کہ وہ ملالہ کو اپنے ماتھے کا جھومر اور قوم کی بہادر بیٹی قرار دے کر امریکیوں یا حقیقتاًاپنے آقاؤں کو خوش کرنے کی کوشش میں ہیں۔ملالہ نے اپنی کتاب میں جگہ جگہ دین اور داڑھی کا مذاق اڑایا۔پاک فوج اور آئی ایس آئی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔وہ لکھتی ہے کہ ”افغانستان پر حملے کے وقت مسجد کے مولوی اپنے خطبات میں روسیوں کی ملامت کیا کرتے،انہیں کافر کہتے،لوگوں کو جہاد کرنے پر اکساتے کہ بقول انکے بحیثیت ایک اچھے مسلمان یہ ان کا فرض تھا گویا جہاد کو ہمارے دین کا چھٹا رکن بنادیا گیا تھا“اس سے کیا چیز ثابت ہوتی ہے؟یہی کہ روسیوں کو کافر کہنا غلط اور ناجائز ہے،جہاد کی تربیت دینے کی بجائے اس نے ”جہادپر اکسایا“کا لفظ استعمال کیا۔اکسانا یقینا غلط معنوں میں آتا ہے لہذا جہاد اس کی نگاہ میں غلط ہے اور پھر جہاد کو طنزاً دین کا چھٹا رکن قرار دیا اس لیے کہ اسلام کے پانچ رکن ہیں اور اس نے یہ بات طنزاً لکھی کہ گویا جہاد کو دین کا چھٹا رکن بنادیا گیا۔پھر وہ گستاح رسولؐ سلمان رشدی کی حمایت میں لکھتی ہے کہ ”ان دنوں میرے والد کی دھواں دار بحث کا موضوع ایک ناول تھا۔اس ناول کو سلمان رشدی نے ”شیطانی آیات“کے نام سے لکھا تھا،یوں پوری دنیا کے مسلمانوں نے اسے شان رسالتؐمیں گستاخی قرار دیا۔مسلمان اس معاملے میں اتنے غصے میں تھے کہ اس کے علاوہ کوئی اور موغوع بحث تھا ہی نہیں۔پھر ہماری خفیہ ایجنسیوں سے تعلق رکھنے والے ایک ملانے اردو اخبارات میں مضامین لکھنے شروع کیے اور اپنے مضامین میں اس کتاب کو پیغمبر ؐ کی شان میں گستاخی قرار دیا اور مسلمانوں پر زور دیا کہ ان کا فرض ہے کہ اس کے خلاف احتجاج کریں۔
دیکھتے ہی دیکھتے پورے پاکستان میں ”ملا“باہر نکل آئے اور اس کتاب کی مذمت کرنے لگے۔سب سے پرتشدد واقعہ اسلام آباد میں پیش آیا جب امریکی پرچم نذرآتش اور امریکی سنٹر کے سامنے مظاہرے کیے گئے“کوئی عقل کا اندھا ہی ہوگا یا پھر اللہ کی طرف سے اس کے دل پر مہر ثبت کردی گئی ہوگی جسے یہ کھلم کھلا کا فرانہ باتیں بھی سمجھ میں نہیں آرہی ہوں گی۔وہ بہت واضح طور پر اس بات کا اقرار کررہی ہے کہ سلمان رشدی نے جو بھی لکھا (نعوذباللہ)صحیح لکھا مگر مسلمان ناحق اس کے پیچھے پڑگئے اور پاکستان کے اندر ملا ازم ہی ہے جو مسلمانوں کو دین اور جہاد پر اکساتا ہے اور اس دین اور وطینت کے پیچھے پاک فوج اور اس کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ہے جو یہ سب کچھ کروارہی ہے۔ملالہ کی نگاہ میں امریکی پرچم نذرآتش کرنا اور امریکی سنٹر کے سامنے مظاہرے کرنا پر تشدد واقعہ ہے مگر حضور ؐ کی شان میں گستاخی اس کی نگاہ میں نہیں بلکہ جائز ہے اسی لیے تواس نے لکھا کہ دیکھتے ہی دیکھتے پورے پاکستان میں ”ملا“باہر نکل آئے اور اس کتاب کی مذمت کرنے لگے۔”شیطانی آیات“کی مذمت کرنا بھی ملالہ کی طبیعت ناتواں پر گراں گذرا،اس کے خیال میں تو اس کتاب کی (نعوذباللہ)پذیرائی ہونی چاہیے تھی مگر مسلمانوں نے اس کی مذمت کرکے سلمان رشدی کی کاوش (گستاخی)کو نہ صرف ٹھیس پہنچائی بلکہ اس گراں قدر خدمات کو بھی قدر کی نگاہ سے نہ دیکھا۔وہ اپنی جدید یت اور روشن خیالی کا اظہار ان الفاظ میں کرتی ہے کہ ”ہماری خواتین کھلاڑیوں کو مختصر لباس کی بجائے ڈھیلی ڈھالی شلواریں پہنا دیں اور چند کھیلوں پرتو خواتین کے لیے پابندی ہی لگادی گئی“غالباًملالہ کا اشارہ کبڈی کی طرف ہے جس میں صرف جانگیا ہی پہنا جاتا ہے اور مختصر لباس سے مراد چھوٹی نیکر تنگ بنیان سے ہے جو یورپین یا امریکن کھلاڑی پہنتی ہیں۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دین کے ساتھ اس کی نفرت اور مغربی کلچر کے ساتھ اس کی الفت کس مقام پر ہے۔لیکن شروع سے لیکر آج تک اگر اس کا اپنا لباس دیکھا جائے تو اس کے سر سے کبھی دوپٹہ بھی سر کتے نہیں دیکھا گیا۔اسے دوہرا معیار یا پھر بدترین منافقت ہی کہا جاسکتا ہے۔حقیقت حال یہ ہے کہ ملالہ یوسف زئی اس اہل ہی نہیں کہ ملالہ یوسف زئی اس اہل ہی نہیں کہ وہ ایسی کتاب لکھ سکتی۔اسے تو یہ بھی معلوم نہ ہوگا کہ کتاب کے کس باب میں کیا ہے۔وہ تو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہوئی اور ہورہی ہے۔یہودیوں نصرانیوں کو ایک ایسی خاتون ایجنٹ کی ضرورت تھی جو مستقبل میں ان کے عزائم کو بروئے کار لا سکے اس لیے کہ پاکستان میں خاتون قیادت کو دوسروں کی نسبت کچھ زیادہ ہی اہمیت دی جاتی ہے۔لہذا سوچ سمجھ کر انہوں نے ملالہ کا انتخاب کیا اور پھر اسے دنیا بھر میں ایسی شہرت دی کہ شاید ہی اس کم سنی میں کسی کو میسر آئی ہو مگر اس شہرت اور تربیت کے پیچھے دشمنان ملک وملت اور دشمنان اسلام کے وہ کون سے خوفناک ارادے وعزائم ہیں،اہل وطن کو سنجیدگی کے ساتھ سوچنا ہوگا۔۔۔(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker