تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

یکساں نظام تعلیم کے دعوے اورنظرآتے حقائق

خیبرپختونخوامیں تحریک انصاف کی حکومت کاکوئی اور کارنامہ ہویانہ ہولیکن وزیراعلیٰ پرویزخٹک وعدوں اور دعووں کی روایات زندہ رکھے ہوئے ہیں اور اسی تسلسل کوبرقراررکھتے ہوئے ان کاکہناہے کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت صوبہ خیبرپختونخوامیں یکساں نظام تعلیم رائج کرکے ہی دم لے گی جس میں امیروں کے علاوہ غریب ،یتیم اوربے سہارابچے بھی اعلیٰ تعلیم کے زیورسے آراستہ ہوں گے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق ضلع نوشہرہ میں ایک ویلفیئر ٹرسٹ کے زیرنگرانی چلنے والے تعلیمی ادارہ میں غریب و نادارطلباء میں رمضان اورعید پیکیج کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کامزید کہنایہ تھاکہ وہ ایسا یکساں نظام تعلیم لارہے ہیں جس میں امیروغریب کے مابین فرق ختم ہوجائے گااور یہی ان کی جماعت تحریک انصاف کامنشور بھی ہے۔اگرچہ وزیراعلیٰ کے اس جذبہ،عزم اور ارادے سے کوئی اختلاف نہیں اور کتناہی اچھاہوگا اگر ایساہوجائے کیونکہ خیبرپختونخواکے عوام تعلیمی اصلاحات لانے اور موجودہ نظام تعلیم جوکہ مخصوص مقتدرقوتوں کی جانب سے لارڈمیکالے کے وضع کردہ نظام سے موسوم کیاجارہاہے کی تبدیلی کے لئے چھیاسٹھ سالوں سے کس قدربے چینی سے انتظارکررہے ہیں اس کااندازہ پچھلے عام انتخابات میں عوام کی جانب سے تحریک انصاف پر بھرپوراعتماد کرنے کے عمل سے بخوبی لگایاجاسکتاہے لیکن سوال یہ اٹھتاہے کہ ایساہوگا توکب ؟وزیراعلیٰ پرویزخٹک نے پچھلے سال صوبہ بھرمیں 35ہزارنئے طلباء وطالبات کو سکولوں میں داخل کرانے کی خصوصی مہم چلانے کے احکامات جاری کرتے ہوئے ہر ضلع میں محکمہ تعلیم کے حکام کوکم ازکم چارسے پانچ ہزار تک طلباء و طالبات پرائمری سکولوں میں داخل کرانے کی ہدایت کی تھی ۔اس خصوصی داخلہ مہم کوکامیاب بنانے کے لئے محکمہ تعلیم کے ضلعی حکام اوراساتذہ کافی دوڑدھوپ کرتے نظرآئے تھے ۔اگرچہ یہ ایک اچھی کوشش ضرورتھی لیکن اسے کامیاب کوشش اس لحاظ سے نہیں کہا جاسکتا کہ ایک تویہ خصوصی مہم تعلیمی سال کے درمیان میں چلائی گئی دوسری جانب حال یہ ہے کہ خیبرپختونخوامیں تعلیمی ادارے بالخصوص پرائمری سطح کے تعلیمی ادارے پہلے سے گھمبیر مسائل و مشکلات کی زد میں ہیں جن میں عمارتوں کی کمزور حالت ،کمروں اورتدریسی عملہ کی کمی اوربنیادی سہولیات کافقدان۔اس بناء پر یہ مہم زیادہ سودمند ثابت نہ ہوسکی کیونکہ کمروں کی کمی کے باعث ایک کمرے میں گنجائش سے زیادہ بچوں کو بٹھاناتوعام سی بات ہے تاہم یہاں ایسے بھی سکولز پائے جاتے ہیں جہاں ایک ہی کمرے میں دو الگ الگ جماعتوں کے طلباء کو بٹھایاجاتاہے اور اسی ایک ہی کمرہ جماعت میں بیک وقت دواساتذہ الگ الگ جماعتوں کے بچوں کوپڑھارہے ہوتے ہیں اگر چلائی جانے والی خصوصی داخلہ مہم کی بجائے سکولوں میں تعمیراتی کام کروایاجاتا،زیرتعلیم بچوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور تدریسی عملہ کی کمی جیسے مسائل کے حل پر توجہ دی جاتی تواس کے اِنتہائی بہتر نتائج برآمد ہوتے ۔میں نے پچھلے دنوں اپنے ایک کالم میں تعلیم کی زبوں حالی کاذکرکرتے ہوئے گورنمنٹ ہائرسیکندری سکول چکدرہ کے مسائل کا حوالہ دیاتھاکہ وہاں سہولیات ناپید ہونے کے باعث زیرتعلیم طلباء اور ان کے تدریسی عملہ کوگوں ناگوں مشکلات کا سامنا ہے لیکن بادی النظرمیں یہ درحقیقت ہر سکول کی کہانی ہے یہی وجہ ہے کہ سرکاری سطح پر معیارتعلیم روزبروز گرتاجارہاہے ۔بہرحال میںآتاہوں آج کے کالم کے اصل موضوع کی طرف جس میں ذکرہورہاتھا خیبرپختونخواکے وزیراعلیٰ پرویزخٹک کی جانب سے اس لب کشائی کا کہ ان کی صوبائی حکومت صوبہ بھر میں یکساں نظام تعلیم رائج کرکے ہی دم لے گی اور دوسری جانب عوامی سطح پر اٹھتا یہ اہم سوال کہ ایساہوگاتوکب ہوگاکیونکہ اگر دیکھاجائے تویکساں نظام تعلیم رائج کرنے کا اعلان وزیراعلیٰ نے پچھلے سال اپنی حکومت کے قیام کے فوری بعد کیاتھا اور پھرتواتر کے ساتھ ہرتقریب میں اِظہارخیال کرتے ہوئے یا میڈیاکے نمائندوں کے ساتھ گفتگومیں وہ بس یہی عزم دہراتے رہے ہیں اور ان کاکہنایہ بھی تھاکہ اس عمل کا آغاز اگلے نئے تعلیمی سال سے ہوگا لیکن باوجود اس کے کہ نیاتعلیمی سال شروع ہوئے ایک دوماہ توگزربھی گئے مگر یکساں نظام تعلیم رائج کرنے کے دور دور تک آثارنظرنہیں آرہے اور وزیراعلیٰ کااس حوالے سے اعلان اب تک محض اعلان کے سواء کچھ بھی ثابت نہیں ہوا۔صوبائی حکومت کی جانب سے سرکاری سکولوں میں طلباء وطالبات کومفت تعلیم دینے کابھی اعلان کیاگیاتھامگرنظرآتاحال یہ ہے کہ سرکاری سکولوں میں زیرتعلیم طلباء وطالبات سے سکولوں داخلہ فیس بھی لی جارہی ہے اور اگرچہ انہیں نصابی کتابیں تومفت دی جارہی ہیں لیکن نوٹ بکس سمیت ایک دو نصابی کتب ایسے ہیں جوطلباء اپنے پیسوں سے مارکیٹ سے خریدتے ہیں ۔یونیفارم بھی بچوں کو مفت نہیں دی جارہی ایسے میں مفت تعلیم کے دعوے کیا حیثیت رکھتے ہیں ۔یہاں قابل ذکربات یہ بھی ہے کہ صوبائی حکومت نے دعوے اور وعدے اور بھی ڈھیر سارے کئے تھے زندگی کے دیگرشعبوں میں جن بنائیں گے اور بسائیں گے نئے شہر،گرین خیبر پختونخوا،بیرونی سرمایہ کاری کا فروغ،عوام کی شکایات کا ازالہ،پولیس تھانہ اور پٹواری کلچر کی تبدیلی،صحت کے نظام کی بہتری،خودروزگارسکیم کااجراء اور زرعی اصلاحات لانا وغیرہ قابل ذکر تھے مگرزمینی حقائق تویہی بتاتے ہیں کہ تاحال ان وعدوں کونبھانے کی بھی کوئی خاطرخواہ جھلک نظرنہیں آئی اگرچہ ان تمام وعدوں کوپوراکرناضروری تھا اور ہے بھی لیکن اس حقیقت کوکسی صورت نظراندازکیاجاسکتاہے نہ اس سے انکا
رکرنا ممکن ہے کہ شعبہ تعلیم ہی تبدیلی کی واحد اِکائی ہے اور اس شعبے کو فعال ومنظم بنانے اور ملک وقوم کے مستقبل کے معماروں کو صحیح خطوط پر گامزن کرکے انہیں دورجدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ علوم سے استفادہ دلائے بغیرترقی وخوشحالی کے حصول کا خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔کہنے لکھنے اور بتانے کا مقصد یہ ہے کہ کسی شخص کا یہ کہنا کہ ہاں میں مانتا ہوں کہ میرے اوپر فلاں شخص کا اتناقرضہ ہے اور میں اسے آدائیگی کردونگامحض یہ کہنے سے قرضے کی آدائیگی نہیں ہوتی جب تک عملی طور پر قرضہ آدانہ کیاجائے سووزیراعلیٰ پرویزخٹک اور ان کی جماعت تحریک انصاف کے محض یہ کہنے سے کہ تبدیلی لارہے ہیں اور تبدیلی لاکر ہی دم لیں گے کبھی بھی کوئی تبدیلی نہیں آئے گی جب تک کہ عملی طورپر اس کا مظاہرہ نہ ہو۔ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعلیٰ اور ان کی جماعت اب مزید وعدوں کی بجائے پہلے سے کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کریں اور دیگر شعبوں میں بالعموم جبکہ شعبہ تعلیم میں بالخصوص انقلابی اقدامات کریں جوکہ وقت کااہم تقاضا بھی ہے اوریہ بھی ضروری ہے کہ ایساکرنے میں مزید وقت ضائع نہ ہوکیونکہ کہیں ایسانہ ہوکہ حکومتی مدت محض وعدوں اوردعووں میں گزرجائے اور عملی طورکچھ کرنے کے لئے وقت ہی نہ رہے۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker