انور عباس انورتازہ ترینکالم

یمن اور سعودی عرب کے تنازعہ کی تاریخ طویل ہے

anwar-abas-logoفیصلے وہ جو حکمران لے چکے ہیں۔ سعودی عرب میں ( اطلاعات کے مطابق ) ہزاروں ’’ تربیت یافتہ جوان ‘‘ موجود ہیں جن کے متعلق کچھ حلقوں کا اصرار ہے کہ سعودی یمن تنازعہ سے قبل کے موجود ہیں اور کچھ کا خیال ہے کہ وہ پانچ پارچ کے بعد پاکستان سے سعودی عرب پہنچے ہیں۔جب کہ ’’جوانوں ‘‘ کے بڑوں کے مطابق پاکستان کے292 جوان معمول کی مشقوں میں حصہ لینے 19مارچ کو گئے ہیں جو ایک ماہ تک ہونے والی پاکستان اور سعودی عرب کی مشترکہ فوجی مشقوں میں حصہ لے رہے ہیں۔جب غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستانی افواج سعودی میں موجود ہے اور اسکی تعداد 8000ہزار تک بتا رہا ہے جب کہ ہمارے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف سعودی عرب میں موجود فوجیوں کی تعداد ایک ہزار تسلیم کرتے ہیں۔
یمن کے بحران پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور ہنوز اس سلگتے مسلے پر بحث جاری ہے اور قلمکار،دانشور،تجزیہ نگار اور نہ جانے کیسے کیسے ماہرین اپنی اپنی عقل و دانش کے جو ہر دکھاتے رہیں گے۔مجھے اپنی بات کہنے کے لیے مسلے کی ابتداء کب ،کیسے اور کہاں سے شروع ہوئی کوبنیاد نہیں بنانا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یمن کا معاملہ اب ہر ذی شعور کی سمجھ میں آ چکا ہے۔ اور عوام و خاص یہ بھی جانتے ہیں کہ اس سلگتے ایشو کو زیر بحث لانے والے غیر جانبدار رہ کر لکھنے کی بجائے جانبدار ہو کر اظہار خیال کر رہے ہیں اور جلتی پر تیل ڈالنے کا فریضہ سرانجام دینے میں مصروف ہیں۔
پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت نے فیصلہ بہت پہلے ہی کر لیا تھا کہ صورت حال کچھ بھی ہو ہم نے سعودی عرب کا ساتھ دینا ہے۔ یہ کوئی پانچ مارچ کے لگ بھگ کی بات ہے۔ جب وزیر اعظم پاکستان سینٹ کے اہم ترین انتخابات کو پس پشت ڈال کر سعودی عرب تشریف لے گئے تھے۔بنیادی معاملات اسی دورے میں طے پا گئے تھے ٹیلی فون کال تو محض ایک دکھاوا اور رسمی کارروائی تھی تاکہ ایک ہنگامی صورت حال پیدا کی جائے اور عوام کو مطمئن کیا جا سکے۔
اس وقت شور مچایا جا رہا ہے کہ سعودی عرب کی قومی خودمختاری کا بھرپور دفاع کیا جائے گا اور سعودی عرب کی جانب میلی آنکھ دیکھنے والوں سے پاکستان پوری قوت سے دو دو ہاتھ کریگا کیونکہ سعودی عرب ہمارا دوست ملک ہے۔ ہر آڑے اور کڑے وقت میں اس نے ہمارا ساتھ دیا ہے۔ اس شور میں ہمیں کوئی یہ بتانے پر آمادہ نہیں کہ اسلامی ممالک میں سے پاکستان کا دشمن کون سا ملک ہے اور سعودی عرب سے کسی کو کیا پرخاش ہے؟یمن اور سعودی عرب کے درمیان تنازعہ کی تاریخ بہت پرانی اور طویل ہے۔
ملک چھوٹا ہو یا بڑا اس کی قومی خود مختاری ایک جیسی ہوتی ہے۔ عراق نے ایران پر جنگ مسلط کی تو کسی نے اسے ’’او ئے توئے‘‘ نہیں کہا تھا بلکہ عراق کو ایران کے خلاف ہر قسم کی سپورٹ فراہم کی گئی۔عراق کے سابق آمر صدام حسین نے ایران کے بعد کویت پر چڑھائی کی تو پاکستان سمیت سب نے عراقی جارحیت کی مذمت اپنے قول و فعل سے کی۔عراق سے لیکر افغانستان تک کئی اسلامی ممالک میں بیرونی مداخلت کے تعاون سے بغاوتوں کا آغاز ہوا کسی نے مداخلت کاروں کے ہاتھ اور قدم نہیں روکے، بحرین جس نے ہمیں ڈیڑھ ارب ڈالر مفت میں دئیے وہاں ایک مدت سے بیداری کی لہر چل رہی ہے اور سعودی افواج جمہوری تھریک کو کچلنے میں مصروف کار ہیں لیکن سب کی زبانوں پر سعودی محبت کے تالے لگے ہیں۔ آخر ایسا امتیاز کیوں برتا جا رہا ہے؟
خود مختاری تو سب ایک جیسی ہوتی ہے کسی کو بھی کسی کی قومی خود مختاری کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے قران کا بھی یہی فیصلہ ہے کہ ’’جب دو مسلمان گروہ( ممالک) لڑ پڑیں تو ان میں صلع کروا دو اور اگر صلع نہ ہو تو پھر جو گروہ زیادتی کا مرتکب ہو سب ملکر اس کے خلاف لڑو‘‘ لیکن ہم نے کبھی زیادتی کرنے والے کے مقابل مظلوم کا ساتھ دینا پسند نہیں کیا۔ جسکے نتائج امت مسلمہ بھگت رہی ہے۔
پاکستان کی پارلیمان کا مشترکہ اجلاس جاری ہے پہلے دن کی کارروائی اس قدر شرمناک ہے کہ پوری دنیا میں ہمارا سر ندامت سے جھک گیا ہے۔ اجلاس تو حکومت نے یمن اور سعودی تنازعہ پر پاکستان کا کردار متعین کرنے کے لیے طلب کیا تھا اور حکومت نے پارلیمان کو بتانا تھا کہ مسلہ کیا ہے ،سعودی عرب نے ہم سے جو حمایت مانگی ہے اس کی صورت کیا ہے؟ سعودی عرب والے محسن ہم سے کیا تعاون چاہتے ہیں اور پھر پارلیمان عرق ریزی سے حکومت کے لیے تجاویز مرتب کرتی اور حکومت ان تجاویز کی روشنی میں یمن سعودی قضیے میں اپنا کردار متعین کرتی لیکن پہلے ہی روز اجلاس کو سباتاژکر کے دیا اور یہ فریضہ اس حکومتی نمائندہ نے سرانجام دیا جس نے حکومت کا کیس پارلیمان کے سامنے رکھنا تھا یعنی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اجلاس کو ایجنڈے کے مطابق چلانے کی بجائے اپنے جوش خطابت کی توپوں کا رخ عمران خاں اور اسکے دیگر ساتھیوں کی پارلیمنٹ میں واپسی پر کی طرف موڑ دیا۔
خواجہ آصف کے اس طرز عمل نے حکمرانوں کی سنجیدگی کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ لوگ ہم پر چھی چھی کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ جو حکمران آپس میں اتحاد و یگانگت پیدا نہیں کر سکتے وہ ایران ،سعودی عرب اور یمن کو کیا ’’ وعظ و نصیحت ‘‘ کر سکتے ہیں۔ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کی پہلے دن کی شرمناک کارروائی کا سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کواجہ آصف کی ساری تقریر کے دوران خاموش تماشائی بنے رہے انہوں نے خواجہ آصف کو خاموش کروانے میں کسی قسم کا کردار ادا کرنے کی زخمت گوارا نہیں کی۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ یمن سعودی مسلے پر سول اور ملٹری قیادت ایک پیج پر نہیں اگر ایسا ہے تو یہ نیک شگون نہیں آرمی چیف نے کہا ہے کہ یمن سعودی مسلے کے لیے حکمت عملی پارلیمان نے طے کرنی ہے پارلیمان جو طے کرے گی پاک فوج اس پر عمل پیرا ہو گی۔ شائد حکومت ایسا نہیں چوچ رہی اگر واقعی حکومت اور فوج یمن تنازعہ پر ایک پیج پر نہیں ہیں تو یہ بہت غلط ہے۔ دونوں کو ضرب عضب کی طرح اس تنازعہ میں بھی باہمی اتفاق واتحاد سے عہدہ براہ ہونا چاہئیے۔
پاکستان اور ترکی اس تنازعہ کے ھوالے سے ایک موقف رکھتے ہیں ، ایران اور ترکی کے صدور نے بھی یمن اور سعودی عرب کے مابین فوری جنگ بندی ہونے پر اتفاق کیا ہے ، پاکستان کے دورے پر آئے ایران وزیر خارجہ جواد ظریف اور وزیر اعظم کے مشیر سرتاج عزیز بھی اس بات پر منتفق ہیں کہ یمن اور سعودی عرب کوباہمی مذاکرات کے ذریعے مسلے کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ اس ساری صورت حال کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پاکستان ،ایران اور ترکی یمن سعودی عرب تنازعہ پرامن طریقے اور باہمی مذاکرات سے حل کریں ۔ مسلم امہ کے باہمی خلفشار سے رنجیدہ مسلمانوں کی خواہش ہے کہ پاکستان،ترکی اور ایران اس مسلے کے حل کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں اور توانائیاں بروے کار لائیں
مسلمان ممالک کو اس وقت ایسے رہنما کی ضرورت ہے جو انہیں پھر سے ایک پلیٹ فارم پر جمع کرسکے۔ آج ہر طرف یہی شور ہے کہ وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کو پانچ مارچ سے ہی اسلامی ممالک کے طوفانی دوروں پر نکل کھڑا ہونا چاہئے تھا لیکن انہوں نے اس سنہرے موقعہ سے فائدہ اٹھانے کا وقت ضائع کردیا۔
کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب نے یمن کے تین صوبوؓ کو پر قبضہ بھی جما رکھا ہے اور یہ تینوں صوبے شیعہ اکثریتی صوبے ہیں اور تیل کی دولت سے مالا مال بھی ۔۔۔یمن میں کرپٹ حکومت کے خلاف برسرپیکار حوثیوں کا یہ بھی عزم ہے کہ سعودی عرب ان کے تین صوبوں سے بھی دست برداری کا اعلان کرے اور عدن کی بدرگاہ سے گذرتے وقت اس کے بھی جہاز ٹیکس کی ادائیگی کیا کریں۔سعودی قیادت کو حوثیوں کے ان مطالبات پر بھی غور کرنا ہوگا ورنہ اس خطے میں پائیدار امن کا خواب خواب ہی رہے گا۔
ہماری پارلیمنٹ نے ابھی صرف قرارداد پاس کی ہے اور ’’ہمارے برادر اسلامی ممالک کی جانب سے ’’ پیار بھرے‘‘ پیغامات آنے لگ گئے ہیں ۔پہلا پیغام متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ کی جانب سے موصول ہوا ہے جس میں انہوں نے صاف الفاظ میں دھمکی دی ہے کہ ’’ پاکستان کو اس کی قیمت چکانا پڑے گی‘‘ اسی طرح عرب پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ ’’پاکستان یمن تنازع میں گیر جانبدار نہ رہے اور پاکستان کی پارلیمنٹ کی قرارداد عرب ممالک اور اسلامی دنیا کے موقف سے مطابقت نہیں رکھتی اور یہ پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش ہے‘‘ ہمارے برادر اسلامی ممالک کو ہم سے اتنی محبت ہے جس کا انہوں نے اظہار کردیا ہے۔ حالانکہ پاکستان کے سیاستدانوں اور بڑے سرمایہ کاروں کا بزنس اور پراپرٹی دبئی ہے ۔ دفتر خارجہ کی جانب سے فوری طور پر ردعمل نہ دیکر سمجھ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔
امید ہے کہ حکومت پاکستاناپنے اسلامی برادر ممالک کے ردعمل پر جذباتی ہونے کی بجائے پارلیمنٹ کی تجاویز کی روشنی میں اپنی حکمت عملی اختیار کریگی اور اس تنازعہ میں فریق کی حثیت سے شریک ہونے کی بجائے اپنے قائدانہ کردار سے اس مسلے کا دونوں فریقین کے لیے قابل قبول کوئی ایسا حل تلاش کریگی جس سے اس خطے میں پائیدار امن قائم ہو پائے۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button