بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود۔۔؟؟؟

bashir ahmad mirگذشتہ ہفتے نیلم جہلم پراجیکٹ’’ ٹھوٹھہ مالسی ‘‘ دارالحکومت مظفرآباد میں مبینہ طور پر قران پاک کی بے حرمتی کے حوالے سے واقعہ سامنے آیا جس کے ردعمل میں مشتعل عوام نے مذہبی تقاضوں کی روشنی میں بھر پور احتجاج کیا ،اس دوران توڑ پھوڑ کی بھی اطلاعات ہیں ،بتایا جاتا ہے کہ اس جرم کا مرتکب چینی انجینئر مسٹر لی پنگ تھے ۔واقعہ کی تحقیقات کے لئے چودہ رکنی کمیٹی انسپکٹر جنرل آذادکشمیر کی سربراہی میں تشکیل کی گئی ہے جس میں وزراء حکومت سردار جاوید ایوب ،سید بازل نقوی ،اپوزیشن ممبراسمبلی بیرسٹر سید افتخار گیلانی ،علامہ شہاب الدین مدنی،علامہ کفایت حسین نقوی ،صاحبزادہ سلیم چشتی،علامہ وحید برکتی ،مولانا محمود الحسن ،سید ظہور الحسن گیلانی ،ایڈیٹر روز نامہ سیاست سردار ذوالفقار علی ،سینئر صحافی واحد اقبال بٹ ،ریاض خواجہ اور عباس گردیزی شامل ہیں ۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق کوارٹر کے تنازعہ پر’’ توں توں میں میں ‘‘ہوئی جس کے بعد چینی انجینئر نے متعلقہ ملازم کا کوارٹر خالی کرتے ہوئے جملہ سامان باہر پھنکا جس میں قران پاک بھی شامل تھا۔اپنی تذلیل اور بے دخلی کا انتقام چینی انجینئر سے نکالنے کے لئے عوامی جذبات کو ابھارنے کا طریقہ یہ نکالا گیا کہ فوری طور پر ’’قران کی بحرمتی‘‘ کا الزام لگا کر ایسا پیغام دیا گیا جس سے پراجیکٹ ناکام بھی ہوسکتا تھا لیکن انتظامیہ نے سنجیدہ پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے حالات کو کنٹرول کیا۔ابھی تفصیلی رپورٹ آنا باقی ہے جس سے پہلے کسی کو مجرم یا بے گناہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
بلاشبہ قران الحکیم ایسی مقدس کتاب ہے جس پر عمل کرنا ہمارا بنیادی فرض اور اس کی حرمت ہمارے دین کا اہم حصہ ہے ۔مگر غور طلب بات یہ ہے کہ ایسے واقعات جو توہین قران اور توہین رسالت سے تعلق رکھتے ہیں ان میں بیشتر ایسے پس منظر سے ظہور پذیر ہو رہے ہیں جن کی بنیاد خود ساختہ ،ذاتی عناد اور انتقام سے بھری پڑی ہے ۔دل کھول کر عرض خدمت ہے کہ ہم نام نہاد مسلمان ہیں ،قران پاک اللہ کا کلام اور راہ ہدایت کا سر چشمہ ہے ،کیا ہم بحیثیت مسلمان قران پاک کی حرمت کا احساس کرتے ہیں ۔۔؟؟ ہمارے قول و فعل میں تضادات ،ہماری صورت و سیرت قرانی تعلیمات کے برعکس ،احساس انسانیت ہمارے مزاج سے دور ،اخلاق و کردار سے ہمیں مسلمان کہلواتے ہوئے شرم آتی ہے ،یہ قابل غور اور توجہ طلب صورت حال جب ہو تو کسی غیر مسلم سے ہم اپنی حیثیت کو ڈنڈوں اور گالیوں سے تسلیم نہیں کر واسکتے ۔جب ہم غیر مسلموں کے ساتھ بیٹھ کر ہر وہ فعل کر رہے ہوں جو قران و سنت کے منافی ہو تو کیا کسی غیر مسلم سے یہ توقع رکھنا درست ہے کہ وہ ہماری معاشرت کو دیکھ کر ہمارے مذہبی تقدس کا خیال رکھے گا۔۔؟؟؟ علامہ اقبال نے ان حالات کی کیا خوب منظر کشی فرمائی ہے کہ
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود
ماضی قریب میں جوزف کالونی لاہور کے مکینوں کو بے دخل کر کے ان کی اراضی پر قبضہ کرنے کی غرض سے توہین رسالت کا الزام عائد کر کے جو غیر انسانی ،غیر اخلاقی اور اسلام سے باغی پن کا افسوس ناک مظاہرہ کیا گیا وہ انتہائی نچلے درجے اور حیوانیت سے متصف قرار دیا جا سکتا ہے ۔یہی نہیں گذشتہ برسوں کے دوران فیصل آباد میں بھی مسیحوں کی بستی کو نذر آتش کر کے لینڈ مافیا نے بڑی دلیری کے ساتھ قبضہ کر لیا تھا۔ بد قسمتی سے ہمارا مذہبی طبقہ بھی’’ جانے نہ جانے ‘‘ ایسے واقعات میں ان مافیاز کے عزائم کو تقویت کا باعث بنا۔
مذکورہ واقعہ بھی اسی سوچ کی کڑی نظر آتا ہے ۔اطلاعات کے مطابق پراجیکٹ کی حدود میں چینی دوست اپنے مذہب اور عقیدہ کے مطابق شراب نوشی کرتے ہیں جنہیں دیکھا دیکھی ہمارے گمراہ پن ورکرز میں ان محافل میں برابر کے شریک ہوتے ہیں ۔پر اجیکٹ پر کام کرنے والے مسلمان بھائیوں کو ذرا بھر احساس نہیں کہ ان کے افعال و کردار سے غیر مسلم کیا’’ پیغام‘‘ اخذ کر رہے ہیں نماز کاکہیں باقاعدہ اہتمام نہیں ،شکل و صورت بھی قران پاک کی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتی تو پھرکہنا کہ ہم قران پاک کی حرمت کے پاسبان ہیں ،کھلی اور واضح منافقت نہیں ۔۔؟؟کام چور ،بد نیت ،بد اخلاق ،لالچی ،خود ساختہ انا پرست اور ذاتی مفادات کے گرویدہ وصف رکھنے والے افراد اسلامی معاشرت میں کیسے محترم کہلا سکتے ہیں ۔؟؟؟
ہماری پست ذہنی سطح ،مادیت پرستانہ رجحانات اور منفی کردار اس قدر ہمارے معاشرے کو کھوکھلا کر رہا ہے جس کی اصلاح ضروری ہے ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جہاں چینی دوست نے حکم کی عدم تعمیلی پر کوارٹر خالی نہ کرنے کے ردعمل میں سارا سامان باہر پھنکا وہاں اسے کیا پتہ تھا کہ موصوف کے سامان میں کوئی ایسی کتاب بھی ہے جس کا تقدس لازم تھا۔۔؟؟ہماری مذہبی اپروچ کی یہ حالت ہے کہ ایک ہاتھ میں جام رکھ کر دوسرے ہاتھ میں قران پاک کے تقدس کی امید رکھتے ہیں !!! صد حیف ہے کہ ہم یہ نہیں سوچتے کہ ہمارے ایسے فعل سے اسلام کو ہم خود ہی بد نام کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔کیا ہم یہ نہیں جانتے کہ اللہ کے محبوب نے فرمایا کہ ’’ کسی کے خدا کو برا بھلا نہ کہو کیونکہ وہ تمہارے خداکو بھی کہہ سکتا ہے ‘‘۔جب ہم یہ نہیں جانتے کہ زبور و تورات ،گرنتھ و دیگر مذاہب کی مقدس کتب کا کیا احترام ہے تو ہم کیسے یہ طے کر لیں کہ غیر مسلم ہماری مقدس کتاب کی حرمت کا خیال رکھیں گے ۔۔۔؟؟؟ جب ہم ذاتی عداوت کو مذہب کا رنگ بھریں تو اسے کیا قران و سنت کی پیروی سے منسوب کرناہمارے مسلمان ہونے کی شرط اول قرار دیا جاسکتا ہے ۔؟ہر گز نہیں ۔۔۔کیونکہ ہمیں پہلے اپنی شناخت قائم کرنا پڑے گی ،ذاتی مفادات کو مذہب کے پردہ میں پروان چڑھانے والے قابل سزا ہیں ،جس کے لئے قانون سازی کی ضرورت ہے تاکہ ہر کوئی اپنی خواہش نفسی کا فتویٰ لگا نہ سکے ۔
یہ امر باعث اطمینان ہے کہ آئی جی پی آذادکشمیر نے عوامی نمائندوں ، علماء اور صحافیوں پر مشتعمل اس واقعہ کی تحقیقات کے لئے کمیٹی تشکیل کر دی ہے ۔مذکورہ کمیٹی میں علمی لحاظ سے قابل ذکر اور فہم و فراست کے حامل شخصیات یقیناًمعاملہ کی تہہ تک پہنچ پائیں گے ۔کمیٹی ممبران جہاں چینی انجینئر کی اس مذموم حرکت کا مشاہدہ کرینگے وہیں انہیں یہ بھی طے کرنا پڑے گا کہ آیا چینی انجینئر نے ایسا فعل جان بوجھ کر کیا ہے ۔؟یہ بھی فیصلہ کرنا پڑے گا کہ اگر اس واقعہ کا پس منظر ذاتی عداوت سے ہے تو مذکورہ ’’نام نہاد‘‘ مسلمان بھائی کو کیفر کردار کیا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں ۔یہ امر بھی لائق توجہ ہونا چاہئے کہ ہماری بد کرداری سے نیلم جہلم پراجیکٹ میں ہمسایہ ملک چین کی دلچسپی کم نہ ہونے پائے ۔چینی دوستوں پر یہ باور کیا جائے کہ وہ ہمارے مذہبی معاملات میں احترام کا عنصر قائم رکھیں تاکہ آئندہ کسی نا عاقبت اندیش کی ہرزہ سرائی سے وسیع تر قومی مفادات کے منصوبے کو نقصان نہ پہنچ سکے۔ایک طرف بھارت ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے جبکہ دوسری جانب ایسے واقعات کا رونما ہونا کسی بھی لحاظ سے ہماری قومی سلامتی کے لئے خطرے سے کم نہیں۔اس واقعہ کو دبائے جانے کی بجائے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا ہونا از بس ضروری ہے ۔یہ بھی خیال رکھا جائے کہ مذکورہ پراجیکٹ میں کام کی معاونت کرنے والے ریاستی باشندوں کی موزونیت اولین شرط ہونا چاہئے، جوذاتی مفادات کے سایہ میں اپنے مذموم عزائم نہ رکھتے ہوں ۔امید کی جاتی ہے کہ عوام بھی سچ سامنے آنے تک مشتعل ہونے کی کوشش نہ کرئے گی،کیونکہ یہ معاملہ کسی ایک شخص تک محدود نہیں بلکہ یہ پوری امت مسلمہ کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ہمیں بحیثیت مسلمان اپنی کرداری سازی پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے محض نام نہاد مسلمان بن کر مذہب کے ٹھیکیدار کہلوانے والے قطعی طور پر راہ راست کے دعویٰ دار کہلا نہیں سکتے ۔note

یہ بھی پڑھیں  پتوکی:پولیس کاچھاپہ، پابندی کے باوجود پتنگیں اور ڈور فروخت کرنے والا ملزم رنگے ہاتھوں گرفتار

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker