تازہ ترینضیغم وارکالم

مسٹر رفیع یہ سب کی سو چ ہو سکتی کیا؟؟

کہتے ہیں کچھ کر نے پر آ ئیں، خا ص طو ر پر اپنے وطن، اپنی دھر تی ماں کے لیے، تو، جہاں پر، جیسے بھی، کر سکتے ہیں، بات نیت کی، بات حب الو طنی کی، ایک مثا ل ملی، قا رئین کے سا منے، سا تھ ایک لا ئن،،،،
گر ہو جذبہ تو کر ہی گز رتے ہیں رخ بد ل بد ل کر
اس میں کو ئی شک نہیں کہ، ہم پا کستانی، اس جذ بے سے سر شا ر ہو تے ہیں کہ ہم کسی بھی صو رت میں اپنے وطن کے لیے کچھ کر سکیں، سا تھ کچھ گلے، شکو ے بھی ملتے ہیں، گلے شکو ے یہ ہیں کہ، ہم کے پا س با قی لو گوں کی طر ح سو ر س نہیں، وہ سیٹ، وہ لیو ل نہیں، لہذا ہم مثبت کر نا چا ہیں بھی تو نہیں کر سکتے، ہما ری کچھ دن پہلے ایک صا حب سے با ت ہو ئی، ان کو کا فی ٹا ئم ہو چکا ہے یو رپ رہتے ہو ئے، وہ اٹلی کے شہر میلان میں رہتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ میر ی کو شش اور خو اہش ہے کہ ایک لا کھ یو رو ہر ما ہ پا کستان جا ئیں۔ ہم نے کہا آ پ بز نس کر تے ہیں، جو اب ملا نہیں، ہم نے کہا کہ پھر یہ ایک لا کھ یو رو کیسے، وہ بھی ہر ما ہ پا کستان جا ئیں گے، کہنے لگے، میں ایک فر م میں اچھی جا ب کر تا ہو ں، اور میر ے پا س ایسے اختیا رات میں کہ میں کچھ لو گوں کو اس کمپنی میں جا ب دلوا سکوں، میں نے کہا اوکے، پھر وہ صا حب بو لے کی تیس لو گو ں سے زیا دہ کو وہاں جا ب دلو چکا ہوں، اور میرا ٹا رگٹ ہے کہ سو بند ہ کم از کم پا کستا نی وہاں جا ب کر ئے، اس طر ح اگر ایک بند ہ کم از کم ایک ہزا ر یو رو پا کستان پیسے سنڈ کر تا ہے تو سو کے حسا ب سے ایک ما ہ میں ایک لا کھ یو رو جا ئے گا، مطلب ایک سال میں صر ف ایک جگہ سے با رہ لا کھ یو رو زرمبا دلہ کی صو رت میں پا کستا ن جا ئے گا، ہم ان کی اس سو چ کو سن حیران نہیں ہو ئے، کیو نکہ وہ جس جذبے سے بتا رہے تھے، اور سا تھ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ تیس لو گ انٹر کر وا چکے ہیں توان کی سو چ اور نیت پر شک نہیں ہو سکتا تھا، کہا جنا ب یہ تو بہت ز بر دست فا ر مولا بنا یا ہو ا آ پ نے، تو کہنے لگے، سو بند ہ ا چھی جا ب کر ئے گا تو اس کا مطلب پا کستان میں سو خا ندا نوں کی زند گیا ں بہتر ہو ں گئیں، اور سو خا ندان کا مطلب، چا ر پا نچ سو افراد، دیا ر غیر میں جو بھی کا م کے لیے آ تا وہ اپنے گھر، خا ندان، پڑ وسی، غر یب ،سب کی سو چ رکھتا ہے، جب ان کے حا لا ت ٹھیک ہو تے ہیں تو یہ دوسر ے لو گوں کی بھی دل کھو ل کر مد د کر تے ہیں، یہ سو چ بہت ہی اچھی، اور خو شی کی با ت کہ اس پر عمل بھی ہو رہا ہے، یو رپ بھر میں ہما رے پا کستانی جا ب کر تے ہیں، ان میں سے کچھ تو اچھی پو زیشن پر ہو تے ہیں جیسے محمد رفیع صا حب اٹلی میں، ان جیسی اگر سب کی سو چ ہو، اور وہ اپنے پا کستاینوں کے لیے حب الو طنی کے جذ بے سے مد د کر یں، یو رپ کی طر ف بہت سے لو گ کا غذ ی کا روا ئی کے بغیر جا تے ہیں تو ان کو پھر ان مما لک میں جا ب، کا م کا ج ڈ ھو نڈ ے میں مشکل کا سا منا ہو تا ہے، ان صا حب کی سو چ کما ل کی، بلکے بہت ہی کما ل کی، ان کی باتوں سے لگا کہ وہ پا کستان کے لیے کچھ کر نا چا ہتے ہیں، پھر جو ان کے پا س اختیا رات ان کا کمال استعمال کر رہے ہیں، وہ چا ہتے تو پیسے لے کر بھی کسی کو جا ب دلو ا ء سکتے ہیں، ایسا دھند ہ صر ف یو رپ کے مما لک میں نہیں، بلکے ہما رے پا کستان میں بھی ہے، کہ کسی کے پا س کو ئی اختیا رات تو وہ پیسے لے کر آ گے جا ب دلوا تا ہے، میں اکثر کہتا ہوں کے ہما رے پا س جو ہے کم از کم اس کو تو استعمال کر یں، صر ف اس سو چ میں نہیں ہو نا چا ہیے کہ جب زیا دہ سو رس ہو ں گے، جب زیا دہ طا قت ہو گی تو ہی بڑ ا کا م کر یں گے، کسی بھی بڑ ے کام کر نے کے لیے چھو ٹے چھو ٹے اقدا م بھی ایک دن بڑ ی کا میا بی کی طر ف لے کر جا سکتے ہیں، ہما ری خو اہش ہے کہ دیا ر غیر میں ہر پا کستان کی سو چ اس نو جوان جیسی ہو، میں نے ان صا حب سے کہا کہ مسٹر رفیع کیاسب کی سو چ آ پ جیسی تو ان کا کہنا تھا کہ سب کا پتہ نہیں مگر جب ہم اچھا کر نے کا سو چتے ہیں تو قدرت رستے کھو لتی جا تی ہے اور ہم کو اور زیا دی نوا زتی جا تی ہے، یہ بھی ہو سکتا تھا کہ میں با قی لو گوں کی طر ح در در کی ٹھو کر یں کھا تا، اور جا ب کی تلا ش کر تا ، مگر قدر ت نے مجھے اس آ زما ئش سے بچا کر رکھا اور سا تھ اتنا نوازہ کے میں اپنے با قی پا کستا نی بھا ئیوں کو جو یہاں بے رو زگا ر ہیں ان کوجا ب دلوا کر مد د کر سکوں، انسا ن ہی انسان کو لنک ہو تا ہے، مگر اس وقت سن کر افسو س ہو تا ہے جب پتہ چلتا ہے کہ اپنے پا کستانی اپنے بھا ئیوں کے سا تھ فرا ڈ کر تے ہیں، اور یو رپ میں ایسے بہت سے واقعا ت سنے کو ملے ہیں، ایسا نہیں ہو نا چا ہیے، یو رپ میں پا کستانی اسپین کے شہر اپنے پا کستانیوں کو کیسے لو ٹتے ہیں اس کہانی کو اگلی تحر یر میں شا مل کر یں گے، اے کا ش تما م پا کستا نیوں کی سو چ محمد رفیع صا حب جیسی سو چ کی طر ح ہو، ایک ملک کے ایک شہر سے با رہ لا کھ یو رو پا کستان جا ئیں، ایک سو خا ندا ن کے افراد کی زند گیاں بہتر ہو ں، ایسے یو رپ بھر کہ چند شہروں میں مسڑ رفیع جیسے لو گ ہوں تو یہ با رہ لا کھ کی بجا ئے کئی با رہ لا کھ ہو جا ئیں،
کہتے ہیں کچھ کر نے پر آ ئیں، خا ص طو ر پر اپنے وطن، اپنی دھر تی ماں کے لیے، تو، جہاں پر، جیسے بھی، کر سکتے ہیں، بات نیت کی، بات حب الو طنی کی، ایک مثا ل ملی، قا رئین کے سا منے، سا تھ ایک لا ئن،،،،
گر ہو جذبہ تو کر ہی گز رتے ہیں رخ بد ل بد ل کر

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker