تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

یوم آزادی یایوم انقلاب۔ ہوگاکیا

zafar ali shahقدرتی گرم موسم کی طرح ملک کا سیاسی ماحول بھی انتہائی گرم ہے اور سیاسی قائدین سمیت ان کی جماعتوں کے ورکرزبھی پوری شدت کے ساتھ عوامی اجتماعات اورمیڈیاپر شعلہ بیانی کرتے نظرآرہے ہیں۔تحریک انصاف کے ورکرزاورممبران اسمبلی آزادی مارچ میں بھرپور شرکت جبکہ چیئرمین عمران خان ہرلمحہ آزادی مارچ ہوکررہے گاکا اعادہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں اوردیکھاجائے تو ان کا ایسا کہناگویا نون لیگ کے وزراء ،ممبران اسمبلی اور عہدیداروں پر بم برسانے کے مترادف ہے کیونکہ وہاں سے بھی عمران خان اوران کی جماعت کے دیگرقائدین کے بیانات پرفوری ردعمل سامنے آتاہے اور بظاہر وہ یہ تاثردینے کی کوشش کرتے ہیں کہ آزادی مارچ کے اعلانات اور پی ٹی آئی کے قائدین کی دھمکیوں کاحکومت وقت پر کوئی اثرنہیں پڑنے والالیکن درحقیقت اس وقت وفاقی حکومت شدید دباؤکاشکارہے ۔اپنے دئے گئے ایک تازہ انٹرویومیں عمران خان نے کہاہے کہ تحریک انصاف نے اپنی تیاری مکمل کرلی ہے اور 14 اگست کو ایک فیصلہ کن جنگ کاآغازہوگا اگر حکومت نے انہیں نظربند کرنے کی کوشش کی تو یہ اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارنے کے مترادف ہوگاان کے مطابق نون لیگ کو صرف اپوزیشن میں جمہوریت نظرآتی ہے جبکہ نوازشریف پیپلزپارٹی کی حکومت میں خود بھی لانگ مارچ کر چکے ہیں اب ہمارے آزادی مارچ کو غیرجمہوری کیوں کہہ رہے ہیں ۔عمران خان نے کہاہے کہ حکومت سے مذاکرات کاوقت ختم ہو چکا ہے۔دوسری جانب کینیڈین شہریت کے حامل ڈاکٹر طاہرالقادری اور ان کی جماعت پاکستان عوامی تحریک کی حکومت مخالف سرگرمیاں بھی حکومت کی مشکلات میں مسلسل اضافے کا باعث بن رہی ہیں ۔اتوار کے روزانقلاب مارچ کے لئے پارٹی کے جنرل کونسل ا جلاس سے خطاب کر تے ہوئے طاہرالقادری نے کہاہے کہ لاہور میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ ڈیڑھ ماہ بعد بھی درج نہیں کرایاگیا۔ ان کے مطابق اگرسانحہ لاہور کی طرح کاواقعہ مغربی دنیامیں پیش آتاتوکیاہوتا۔ شریف برادران کو للکارتے ہوئے ڈاکٹر قادری نے کہاکہ اگرچاہتے تو جاتی امراکے محل کا اینٹ سے اینٹ بجادیتے مگر ہم نے امن اور پنجاب کو بداَمنی سے بچانے کی خاطر ایسا نہیں کیا۔انہوں نے دعویٰ کیاکہ سانحہ لاہورمیں وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کے ملوث ہونے کاثبوت موجود ہے جووہ وقت آنے پر پیش کریں گے۔انہوں نے کہاکہ دس اگست کو لاہور میںیوم شہداء منایاجائے گاجوکہ مکمل طورپر پرامن ہوگا اور اگر پنجاب حکومت نے یوم شہداء کے شرکاء کوشرکت سے روکنے کی کوشش کی تو پھر دمادم مست قلندرہوگااور یوم شہداء جاتی امرارائے ونڈاور ماڈل ٹاؤن میں منایاجائے گااور اگست ختم ہونے سے پہلے ہی حکومت ختم ہوجائے گی۔انہوں نے کہاان کے مطابق مغربی دنیاکوغلط فہمی ہے کہ پاکستان میں جمہوریت ہے حالانکہ یہاں آئین وقانون نام کی کوئی چیزنہیں۔ ان کا کہناتھاکہ مقدمہ لاہورکافیصلہ قصاص جبکہ مقدمہ اسلام آباد کا فیصلہ انقلاب ہوگا۔ڈاکٹرقادری کے خطاب پر فوری ردعمل دیتے ہوئے وفاقی وزیرمملکت عابدشیرعلی نے کہا کہ انقلاب کی سیاست آخری سانسیں لے رہی ہے۔پنجا ب کے سابق وزیرقانون راناثناء اللہ نے کہاکہ انقلاب مارچ کی جگہ یوم شہداء منانے تک محدود ہونے سے لگ رہاہے کہ اب علامہ کوحقائق کااحسا س وادراک ہوگیاہے۔ روائتی دھیمے لہجے میں اپنامؤقف پیش کرنے کے لئے مشہوروفاقی وزیراطلاعات سینیٹرپرویزرشیدتوشروع سے یہی کہتے آرہے ہیں کہ عمران خان اور قادری کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور بات چیت کا عمل آگے بڑھ رہاہے جس کا مقصد سیاسی مسائل کو جمہوری انداز میں حل کرناہے تاہم اتوارکے روز ڈاکٹر طاہرالقادری کی جذباتی تقریر جس میں انہوں نے براہ راست میاں برادران کوللکاراکے فوری بعد پرویزرشید کاقدرے سخت بیان سامنے آیاکہ طاہرالقادری ٹیکس چورٹولے کاسربراہ ہے چوہدریوں کوقدموں میں بٹھاکروہ کس آئین وقانون اور جمہوریت کی بات کرتے ہیں ان کے مطابق چوہدریوں کے کندھوں پر فسادکی سیاست کرنے والاکینیڈابھاگ رہاہے ۔ پیرکے روزایک اہم اجلاس وزیراعظم نوازشریف کی زیرصدارت ہواجس میں تمام معاملات کاجائزہ لیاگیاجبکہ دوسری جانب شاہ محمودقریشی کی صدارت میں تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کابھی اجلاس ہواہے اس حوالے سے موصولہ اطلاعات یہ ہیں کہ پی ٹی آئی کے ممبران قومی اسمبلی نے اپنے استعفے چیئرمین عمران خان کے حوالے کردئے ہیں اس سے قبل جب ہفتے کے روزاستعفوں کی بات چلی تھی توخیبرپختونخوا کے سابق وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی اور موجودہ وزیراطلاعات مشتاق احمد غنی نے اگرچہ یہ ضرور کہاتھاکہ عمران خان جب بھی کہیں گے پی ٹی آئی کے ممبران اجتماعی استعفے ان کے حوالہ کریں گے تاہم فوری طورپراستعفوں کا معاملہ انہوں نے افواہ اور میڈیاکاپروپیگنڈہ قرار دیاتھالیکن سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس معاملے پرفوری ردعمل ضرور سامنے آیاتھااس ضمن میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی،جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین اورسیکرٹری اطلاعات سردارحسین بابک نے کہاتھاکہ صوبے میں بیروزگاری، مہنگائی، بجلی کی لوڈشیڈنگ پرقابوپانے اور بدامنی کے خاتمے سے صوبے کے عوام سنگین مسائل کاسامناکررہے ہیں دوسری جانب عوامی مسائل کے حل میں بری طرح ناکام صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی کی جانب سے ان مسائل پر توجہ دینے کے برعکس آزادی مارچ کرنااور اسمبلیوں سے استعفو
ں کی خبریں جمہوریت کے خلاف گہری سازش ہے تاہم وہ جمہوریت کو کسی صورت ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے۔جماعت اسلامی کے مرکزی امیر سراج الحق نے بنوں میں آئی ڈی پیز کے اجتماع اور اگلے روز پشاور میں میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کی اسمبلی عوام کی امانت ہے وہ اسمبلی سے استعفے دینے اور خیبر پختون خوا اسمبلی توڑنے کی حمایت نہیں کریں گے البتہ اگر پی ٹی آئی حکومت سے الگ ہوناچاہتی ہے تو یہ اس کی مرضی ہے۔جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا ہے کہ دھرنون اور مارچ کے اعلانات کو اہمیت نہیں دینی چاہئے ہمیں تحریک انصاف کے دھرنے کی آڑ میں پوشیدہ ایجنڈ ہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق خان قومی معاملات چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتے جبکہ خیبرپختونخواحکومت گرانے کی ضرورت نہیں یہ اپنی موت آپ مرجا ئے گی۔اسی طرح قومی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف سید خورشیدشاہ کابھی کہنایہ تھاکہ وہ جمہوری حکومت کوکسی صورت گرنے نہیں دیں گے ۔سیاسی جماعتوں کے مؤقف اپنی جگہ تاہم تحریک انصاف کے آزادی مارچ،ڈاکٹرقادری کے انقلاب مارچ کے اعلانات اور حکومت کی نظرآتی سرگرمیوں کے بعد 14اگست کوکیاہوگایہ کہناقبل ازوقت جبکہ قوم اضطراب کاشکارہے۔

یہ بھی پڑھیں  سابق صدر زرداری کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker