شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / یوم دفاع ……یوم وفا

یوم دفاع ……یوم وفا

ایک ماں ہمارے نازاٹھاتی اور ہمیں لوریاں سناتی ہے جبکہ دوسری ماں کی آغوش میں ہم ابدی نیندسوجاتے ہیں۔حساس انسان اپنی ماں اوردھرتی ماں دونوں سے والہانہ عشق اوران پررشک کرتاہے ۔ہمارے ملک کانظریہ اورجغرافیہ خاص اہمیت کاحامل جبکہ اس کی بنیادوں میں شہیدوں کامقدس لہوشامل ہے۔مدینہ منورہ کے بعد کلمہ طیبہ کے نام پرمعرض وجودمیں آنیوالی دنیا کی دوسری اسلامی فلاحی ریاست بلاشبہ اللہ تعالیٰ کازندہ معجزہ ہے اورقدرت کامعجزہ کوئی حقیر انسان نہیں مٹاسکتا۔انسان کی زندگی تقدیراورتدبیر کی تصویر ہے،انسان کاکنویں میں گرناتقدیر جبکہ گہرائی سے باہرنکلنا تدبیر ہے۔ انسانوں کی تقدیر کے فیصلے کرنیوالے سچے معبود نے قیام پاکستان کے حق میں حکم صادرفرمادیاتھامگراس کے باوجودتدبیر کی ضرورت تھی جوبھرپوراندازسے کی گئی ۔دنیا کے نقشہ پر پاکستان کامعرض وجودمیں آناہمارے بڑوں کے صادق جذبوں اور کٹھن جدوجہد کاثمر ہے۔قیام پاکستان کیلئے ہمارے باپ دادانے توانائیاں اور قربانیاں دیں اوراستحکام پاکستان کیلئے ہم اپنی جوانیاں اورقربانیاں دے رہے ہیں جبکہ ہمارے بچے مادروطن کے دوام کیلئے شہادت کے جام نوش کریں گے کیونکہ آزادی بیش قیمت نعمت ہے اور کوئی غاصب کسی مغلوب کو یہ نعمت پلیٹ میں رکھ کرپیش نہیں کرتا۔قیام پاکستان کے بعدہونیوالی تاریخی ہجرت کے دوران بھی پاک فوج نے مستحسن کرداراداکیا ۔آزادی کیلئے سراٹھانے اورکٹانے والے اس سے زیادہ دیرتک محروم نہیں رہتے ۔تحریک پاکستان درحقیقت سایہ ذوالجلال اور عزم واستقلال کی ایک دھڑکتی داستان ہے۔خالق اورمخلوق سے قرب کاراستہ کرب اورقربانی سے ہوکرگزرتا ہے۔جوفوجی جوان مادروطن کی آن اورہم وطنوں کی جان بچانے کیلئے اپنی زندگیاں قربان کرتے رہے وہ یقیناہمارے قلوب کے قریب تر ہیں اوران سے روحانی قرب ہماراقیمتی اثاثہ ہے ۔پاکستانیت کی رگ رگ میں اسلامیت اور روحانیت ہے ۔ہمارا ملک ہمارے نزدیک مادروطن کی حیثیت رکھتا ہے اورجانثاربیٹوں کے ہوتے ہوئے ان کی ماں پرآنچ نہیں آسکتی۔مادروطن پرجان نچھاورکر تے ہوئے جام شہادت نوش کرنامحض بے نظیرسعادت نہیں بلکہ مقبول عبادت بھی ہے ۔ہماری سرزمین پرامن کے پھول کھلتے ہیں مگرہمارادشمن امن کے پھول مسلتااورہمارے خلاف زہراگلتا ہے۔6ستمبر1965ء میں بھارت نے طاقت کے زعم میں پاکستان کی سا لمیت پر شب خون ماراتوہمارے جانبازاورشوق شہادت سے سرشار فوجی جوان دفاع وطن کیلئے دشمن کی توپوں کے مقابل اپنافولادی سینہ تان کرڈٹ گئے جس کے نتیجہ میں دشمن کو سرزمین پاک کی طرف بڑھتے اپنے ناپاک قدم روکناپڑے اوروہ سترہ دن کی ناکام مہم جوئی کے بعد نامرادواپس پلٹ گیا ،یوں پاک فوج کی پرجوش قیادت نے بروقت دفاعی تدبر اورتدبیر سے دشمن کاتکبر ملیا میٹ کردیا۔ہمارے سرفروش اورکفن پوش فوجی آفیسرزاورجوان میدان جنگ میں دشمن کیخلاف پیشہ ورانہ مہارت سے تدبیر کر نے کے باوجودنعرہ تکبیر اللہ اکبرکی صدا بلندکرتے ہوئے نتیجہ اپنے معبودبرحق پرچھوڑدیتے ہیں جوکسی میدان اورامتحان میں ہمیں تنہا نہیں چھوڑتا۔پاکستان اورپاکستانیوں کیلئے نڈراورپیشہ ورفوج کادم غنیمت ہے ۔ پاک فوج نے 1965ء کے تاریخی معرکے میں قصور ،لاہور،سیالکوٹ اوربی آربی نہرسمیت ہرمحاذپربزدل دشمن پرکاری ضرب لگا تے اوراسے کراراجواب د یتے ہوئے اس کی کمرتوڑ دی۔پاک فوج کی بروقت اوردرست دفاعی مزاحمت کے سبب دشمن کے ارادے اورفوجی پیادے خاک میں مل گئے ۔6ستمبر1965ء کی مہم جوئی میں بھارت کوبدترین رسوائی اورپسپائی کاسامنا کرناپڑا، پاک فوج کے زبردست دفاع کے نتیجہ میں بھارتی آفیسرز جان بچانے کیلئے فوجی گاڑیاں اوراپنااسلحہ چھوڑکر بھاگ کھڑے ہوئے ،بھارتی سورماؤں کی چھوڑی ہوئی ایک جیپ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔1965ء میں بھارت نے پاکستان کے ساتھ جوجنگ” چھیڑی ”تھی وہ بدترین ہزیمت اورشکست کے بعد اس کی” چھیڑ ”بن گئی ۔ دشمن ملک بھارت میں ہرسال ستمبر کامہینہ” ستمگر ”کے طورپرمنایاجاتا ہے۔1965ء میں پاکستان کے ہاتھوں بھارت کوجوزخم لگاوہ آج بھی تازہ ہے۔6ستمبر1965ء کی بدترین شکست کے بعد بھارت مسلسل مکاریاں اورتیاریاں کررہاہے مگر جنگ کے میدان میں پاکستان کامردانہ وار مقابلہ کرنا اس کے بس کی بات نہیں۔
کھتری بھارت ہمارافطری مگربزدل دشمن ہے،اس نے سوچا پاکستان ایک کمزوراورناتواں ملک ہے اورپاک فوج کی خاص مزاحمت کے بغیر وہ ہم پرغالب آ جائے گامگرایساہوانہ آئندہ ہوگا۔دشمن ہونابھی ایک نعمت ہے مگردعا کریں کسی کادشمن کم ظرف نہ ہو ،بھارتی ہندوبتوں اوربندروں سمیت مختلف جانوروں کے بھگت ہیں شایداسلئے انہیں انسانیت کا درس یادنہیں رہا۔بھارت میں جوں جوں انسان تعدادمیں بڑھ رہے ہیں توں توں وہاں انسانیت ناپید بلکہ نابودہوتی چلی جا رہی ہے ۔بھارت نے سات دہائیوں میں جوخطیرسرمایہ پاکستان کوکمزورکرنے پرصرف کیا اگروہ پیسہ اپنے محروم طبقات کی بحالی وخوشحالی پرلگایاہوتا توآج کروڑوں بھارتی ہندوجانوروں سے بدترزندگی نہ گزاررہے ہوتے۔بھارتیوں کے مقابلے میں پاکستانیوں کامعیارزندگی بہت بلند ہے ۔1965ء میں بھارت نے پاکستان پر جوجنگ مسلط کی اس کاکوئی جواز نہیں تھا۔بھارت کسی سانڈ کی طرف پاکستان کاامن روندنے کیلئے آیاتھامگراسے گیدڑ کی طرح میدان چھوڑکربھاگناپڑا۔ چونڈہ بھارتی ٹینکوں اور اہلکاروں کیلئے موت کاپھندا بن گیا۔ پاک فوج کے جوانوں نے ہرمحاذ پرخودسے کئی گنابڑے دشمن کے سورماؤں کودھول چٹائی اوربھارت کے اندرکئی میل دورتک ان کاتعاقب کیا۔1965ء میں بھی دونوں ملکوں کی فوجی طاقت کاآپس میں کوئی موازنہ نہیں تھااوراب بھی توازن نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ایٹمی بھارت ایٹمی پاکستان کیخلاف جارحیت کی جسارت نہیں کرسکتاکیونکہ پاکستان کی جوہری صلاحیت دشمن کے ایٹمی ہتھیاروں سے بہت بہترہے ۔ 1965ء میں بھارتی فوج نے اپنے حساب سے جنگ کا منصوبہ تیار کیاتھا اوروہ وہاں سے یقینی کامیابی کا سوچ کرچلے تھے،لاہورجمخانہ میں استراحت اور ضیافت کاپروگرام بھی تھامگران کاہرایک خواب ان کیلئے عذاب بن گیا ۔ بھارتی سینا کے میجر جنرل نرنجن پرشاد ٹینکوں اور توپوں کے ساتھ شہرلاہور پرترنگالہرانے کی نیت سے روانہ ہو اتھا مگرمیجرعزیزبھٹی نے اس” نرنجن” کا”منجن ”بنادیا ۔ پاکستانیوں کے ہردلعزیزمیجر عزیزبھٹی نے بی آر بی نہر کامحاذسنبھال لیااوران کی دفاعی تدبیر کے نتیجہ میں دشمن کی تقدیراس سے روٹھ گئی اوراسے بھاری نقصان برداشت کرناپڑا۔ ہمارے محبوب میجرعزیزبھٹی اپنے مدمقابل بھارتی میجر جنرل کی قیادت میں دشمن کومسلسل کئی روزتک روکے رہے اور انہوں نے12ستمبرکو بڑی آن بان اورشان سے شہادت کاجام نوش کیا ۔
دشمن ملک بھارت آج بھی اپنے زعم اور اپنی فوج کے بڑے” حجم” سے پاکستانیوں کے” عزم” کامقابلہ نہیں کرسکتا۔میدان جنگ میں ہارجیت کافیصلہ جہازوں، ٹینکوں یاتوپوں نہیں جنون اور جذبوں سے ہوتا ہے۔ جنون پاک فوج کے نڈر جوانوں کی رگ رگ میں خون بن کردوڑتا ہے۔پاک فوج کے جرنیل اور جوان دشمن کی سرزمین کواس کیلئے جہنم بنانے کے خواہاں نہیں ،وہ تواپنی پاک سرزمین کوجنت بنانے کیلئے سرگرم ہیں لیکن اگردشمن نے 1965ء کی طرح دوبارہ جارحیت کی جسارت کی تواس کی سرزمین کواس کیلئے جہنم بنادیاجائے گا۔ہمارے فوجی جوان سلطان محمودغزنوی ؒ اورمحمدبن قاسم ؒ کے نقش قدم پرچلتے ہوئے بھارت کے ہرایک سومنات کوپاش پاش کردیں گے۔
جنرل” قمر”جاویدباجوہ نے جس روزدنیا کی بہترین پاک فوج کی کمانڈ سنبھالی،انہوں نے اسی دن اندرونی وبیرونی دشمنوں کیخلاف” کمر” کس لی تھی ۔ایک دشمن ہمارے ملک پردشمن کی طرح وارکرتا ہے جبکہ ہمارے محافظ وطن کادفاع کرتے ہوئے اس پرجوابی وارکرتے ہیں مگر کچھ نقاب پوش دشمن ہمارے اندرسے ملکی سا لمیت پر ضرب لگاتے ہیں تاہم ان کی شناخت ان کے بیانات اوراقدامات سے باآسانی کی جاسکتی ہے۔جوشرپسنداپنے ملک کے دفاعی اداروں کیخلاف زہراگلتا ہووہ آپ کے اعلانیہ دشمن سے زیادہ بدتراورناقابل رحم ہے۔اندرونی وبیرونی دشمنوں کے وجودپر”قمر” کی کاری ضرب ان کی پاکستانیت اوراعلیٰ پیشہ ورانہ کارکردگی کامظہر ہے۔پاکستان کی بری فوج ،بحریہ ،فضائیہ اوررینجرز کے سربراہان سے ہماری سکیورٹی فورسزکے ہرایک فرض شناس جوان تک سبھی دشمنان وطن کودھول چٹانے کیلئے سربکف اورکمربستہ ہیں ۔افواج پاکستان کے ”قمر”کی روشنی سے دہشت اوروحشت کااندھیراچھٹ گیا اورامن کاسورج طلوع ہواہے۔جنرل قمرجاویدباجوہ کوباتیں بنانے یاڈینگ مارنے کاشوق نہیں کیونکہ ان کاکام بولتا جبکہ دشمن ملک کے ایوانوں میں ان کانام گونجتاہے۔ جنرل قمرجاویدباجوہ نے نجوت سنگھ سدھوکوعزت دی توالٹابھارت میں صف ماتم بچھ گئی اوروہاں آج بھی سوگ منایاجارہا ہے ۔ پاک فوج کے پروفیشنل ،زیرک اورنڈرسپہ سالارجنرل قمرجاویدباجوہ بجاطورپر اپنے منصب سے انصاف کررہے ہیں ،پاکستان سمیت دنیا بھرمیں ان کی کمٹمنٹ اورکام کوقدرکی نگاہ سے دیکھاجاتا ہے۔جنرل قمرجاویدباجوہ کی قیادت میں شرپسندعناصر کیخلاف آپریشن اورپائیدارامن کیلئے ان کی دوررس اصلاحات سے پاک فوج کاوقاراورمورال دن بدن بلندہورہاہے۔باوفااورباصفا جنرل قمرجاویدباجوہ کی شخصیت کے اوصاف حمیدہ دیکھتے ہوئے پاکستانیوں کی پاک فوج سے محبت اورعقیدت مزیدبڑھ گئی ہے۔پچھلے دنوں جی ایچ کیو میں وزیراعظم عمران خان اور پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمرجاویدباجوہ کو قومی معاملات پرمتفق اوراصلاح احوال کیلئے مستعد دیکھناپاکستانیوں کیلئے تازہ ہواکاجھونکا ہے۔ٍ
ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل آصف غفور اوران کے ٹیم ممبرزلاہورمیں بریگیڈئیر مظہر ،کوئٹہ میں بریگیڈئیرمحمد ندیم انور جبکہ راولپنڈی میں کرنل شفیق اپنے ملک اورادارے کیلئے انتہائی اہم محاذ بااحسن اندازسے سنبھالے ہوئے ہیں،آئی ایس پی آر کے نغموں سمیت ان کی پاکستانیت سے بھرپور تخلیقات اورتقریبات کوبہت سراہاجاتا ہے،یوم دفاع کے سلسلہ میں پاک فوج کے زیراہتمام جی ایچ کیومیں ہونیوالی پروقاراورشاندار تقریب پاکستانیوں کومدتوں تک یادرہے گی ۔ آئی ایس پی آر کے انتھک اورزیرک ڈی جی میجرجنرل آصف غفوراپنے شعبہ کو جدیدتقاضوں سے ہم آہنگ کر رہے ہیں۔جو بکاؤمٹھی بھرنادان افواج پاکستان کیخلاف زہراگل رہے تھے ،آئی ایس پی آر نے ان کازہربے اثرکردیا۔پاکستان کے لوگ آج بھی پاک فوج کی پشت پرکھڑے ہیں،وہ اپنے شہیدوں ،غازیوں اورڈھول سپاہیو ں کی قربانیوں سے چشم پوشی نہیں کرسکتے۔ ”ہمیں پیارہے پاکستان سے” محض کوئی عارضی مہم نہیں بلکہ جذبات سے بھرپوراس جملے کومحسوس کرنے اوربارباردہرانے کی ضرورت ہے ۔یوم دفاع درحقیقت یوم وفا ہے ،جوفوجی آفیسراورجوان مادروطن سے وفاکاحق اداکرتے ہوئے حق رحمت سے جاملے اس وطن اورہم وطنوں نے ان شہیدوں سے وفانبھائی ہے۔پاکستان کے یوم آزادی کی طرح یوم دفاع بھی ایک بڑاتاریخی دن اورہم سے تجدیدعہدکامتقاضی ہے۔ پاکستان اورافواج پاکستان کی شایان شان کچھ لکھنا آسان نہیں۔ راقم کاایمان ہے پاک فوج سے بے پایاں محبت کے بغیر پاکستان سے عشق کادعویٰ صادق نہیں ہوسکتا۔میں اپنی محبوب پاک فوج کے بدخواہ کو پاکستان کاخیرخواہ نہیں مانتا۔ ۔ہم اپنے محبوب جانبازوں کی وفاؤں کے مقروض ہیں ،امن اوردفاع وطن کیلئے ان کے مقدس مشن کوجاری رکھنااب ہمارافرض ہے۔ہم اپنی جوانیاں مادروطن پرنچھاورکرتے ہوئے اس کی بے پایاں محبت کاقرض ضروراداکریں گے۔

یہ بھی پڑھیں  اولاد کی تربیت میں ماوں کا اہم کردار