بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

یوم عشق مصطفےٰ کے تقاضے

عالم اسلام میںآقائے دو جہاں محمد مصطفےٰ رﷺ کی توہیں پر بنائی گئی فلم کے ردعمل میں پُرتشدد احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔امریکہ میں اسرائیلی شیاطین کے مکروہ عزائم یوٹوب کے ذریعے بے نقاب ہوتے ہی لیبیا،مصر،یمن ،پاکستان،افغانستان سمیت تمام مسلم ممالک میں شدید ردعمل شروع ہوا۔اسلام آباد ،کراچی ،حیدرآباد،کوئیٹہ ،ملتان،لاہور،فیصل آباد، پشاور،گلگت بلتستان،آذادکشمیر سمیت دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔اس دوران مظاہرین نے جذبات میں آکر بعض مقامات پر لاء اینڈ آڈر کا مسئلہ بھی پیدا کیا مگر مجموعی طور پر پُرامن مظاہرے جاری ہونا سنجیدہ پہلو کی علامت ہے۔گذشتہ روز اسلام آباد کے حساس ایریا تک مظاہرین کا داخل ہونا باعث تشویش امر تھا مگر امن قائم رکھنے والے اداروں کی دوراندیشی سے متوقع خطرہ ٹل گیا۔ وطن عزیزمیں آج ’’یوم عشق مصطفٰے ﷺ ‘‘ منائے جانے کا حکومتی فیصلہ انتہائی درست اور بر وقت کیا جانا لائق تحسین ہے ۔اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ماضی میں مذہبی جذبات ابھار کر ملک کو طویل مارشل لاء کی بنیاد رکھی گئی دراصل امریکہ ایک گولی سے ہمیشہ چار شکار کرنے کی سازش کرتا ہے۔اب بھی امریکی لعین ٹیری جونز نے گستاخانہ فلم بنائی اور اس کو ریلیز کرنے کے بعد یہ ملعونبقول امریکی ذرائع غائب ہو گیا ہے مگر یہ ممکن نہیں کہ امریکہ کے حساس اداروں کو اس کی نقل و حرکت کا علم نہ ہو۔امریکی منصوبہ بندوں نے اس خبیث کو اسلام دشمن پالیسی کے مطابق ایسا کام کرنے دیا ورنہ ایسی جرات رندانہ کوئی نہیں کر سکتا۔امریکہ کے منصوبہ ساز اسلام پسندوں کے جذبات سے کھیل کر مسلم ممالک میں مزید افراتفری پیدا کر کے اپنے پنجے گاڑنا چاہتا ہے۔
امت مسلمہ کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ،اس سے قبل بھی درجنوں بار مختلف انداز سے اسلام کے بارے ہتک آمیز حرکات کی جاتی رہیں ہیں۔کبھی قران الحکیم کی بے حرمتی ،کبھی قران الحکیم کو جلانے کے اقدام اور کھبی اللہ اور رسولﷺ کے بارے توہین آمیز ریمارکس ریکارڈ پر ہیں۔اتنا کچھ ہونے کے باوجود مسلم اُمہ نے صبر سے کام لیتے ہوئے مرتکب افراد تک کارروائی محدود رکھی تاکہ بین المذاہب تصادم پیدا نہ ہونے پائے مگر مسلمانوں کے اس عمل کو کچھ حلقوں میں کمزوری سمجھا گیا۔اب کی بار امریکہ کے ہوش اس وقت ٹھکانے آئے جب اس کے سفیر کی لیبیا میں درگت کی گئی اور وہ جہنم رسید ہوا۔
حیران کن بات تو یہ ہے کہ آج تک کسی مسلمان نے کسی بھی مذہب کے پیشواء یا کسی مذہب کی مْقدس کتاب کی توہین تو درکنار بلکہ ان کے مذہبی رسومات تک مداخلت نہیں کی۔عیسائی اور یہودی جانتے بھی ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ ،حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت داود ؑ کے بارے کوئی مسلمان توہین کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا جنہیں وہ بھی مانتے ہیں کیونکہ ان انبیاء کرام کا ذکر قران الحکیم میں ہے اور ان کی رسالت پر ایمان رکھنا ہر مسلمان کے لئے بنیادی شرط ہے۔یہاں تک کہ کسی ایک بھی رسول کے بارے شک تک کرنے سے مسلمان ایمان سے خارج ہوجاتا ہے۔
کمزور ہیں ہم لوگ مگر اتنا بتادیں
میراث ملی ، دار پہ انکار نہ کرنا
آذادیِ رائے کا ہمیں پاس ہے لیکن
تم ذاتِ محمدﷺ پہ کبھی وار نہ کرنا
ایسے شیطانی کام کرنے والے دراصل بڑے دہشت گرد ہیں جو دنیا کا امن تباہ کرنے کے لئے مختلف انداز سے بھیانک سازشیں کرنے سے باز نہیںآتے ہیں۔مسلمانوں نے دیگر مذاہب کے بارے بھی اخلاقی روایات برقرار رکھی ہیں ۔بھارت میں 30سے40کروڑ مسلم آباد ہیں آج تک کہیں بھی کسی مندر،گردوارے یا چرچ اور ان کی مقدس کتب کے بارے کبھی بھی توہین آمیز حرکت نہیں کی ۔پاکستان میں بھی اقلیتی مذاہب موجود ہیں ان کے مذہبی سرگرمیوں کو کبھی بھی نشانہ نہیں بنایا گیا۔یہ سب امریکہ اور اسرائیل کے اردگرد شاتم رسول ﷺ پیدا ہوتے رہے اور ان کا مقصد یہی رہا کہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کر کے قیام امن کی کوششوں کو سبوثاز کیا جائے۔
مسلم اُمہ کو چاہئے کہ وہ ان سب بد کرداروں کی حوالگی کے لئے امریکی حکام پر زور دیں تاکہ ان کا ٹرائل واشنگٹن کے بجائے اسلامی ممالک ،طرابلس،قائرہ،یمن ،کابل یا اسلام آباد میں کیا جائے ۔اس اقدام سے جو بین المذاہب نفرت پیدا کی گی ہے اور جس سے بڑا تصادم ممکن ہے اس سے بچا جا سکے۔جہاں تک لیبیا میں امریکی سفیر کی ہلاکت کا مسئلہ ہے اس ضمن میں امریکہ کو اس کے بقول قاتلوں کی حوالگی کا مطالبہ رد کر کے توہین رسالتﷺ کے مرتکب افراد کی حوالگی پر دباؤ بڑھایا جائے۔اس طرح آئندہ کوئی بھی ایسی جرات رندانہ کرنے کا مرتکب نہیں ہو گا۔اگر اس معاملہ کی سنگینی کا احساس نہ کیا گیا تو پھر امریکیوں کا چلنا پھرنا مشکل تر ہو جائے گا۔
ان شیاطین صفت عناصر کو سمجھ آجانی چاہئے کہ کوئی مسلمان حرمت رسولﷺ پر ذرا بھر بھی کسی مصلحت کا شکار نہیں ہو سکتا۔ایسی بے شمار مثالیں تاریخ میں موجود ہیں کہ حرمت رسولﷺ پر جان قربان کرنے والوں نے ذرا بھر رعایت نہیں کی ۔ماضی قریب میں راج گوپال کو ایک عام آدمی ’’غازی علم دین شہید‘‘ عامر چیمہ اور حال ہی میں سابق گورنر پنجاب سلمان تاثر کو ایک نچلے درجے کے پولیس ملازم ممتاز قادری نے جہنم رسید کر کے جان کی پرواہ تک نہیں کی ۔ایسے علم دین،عامر چیمہ اورممتاز قادری بے شمار ہیں جو چن چن کر توہین رسالت ﷺ کے مرتکب شیاطین کو واصلِ جہنم کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔لہذا دنیا کو باخبر رہنا چاہئے کہ کسی مذہب کے رہبر و رہنما کے بارے توہین آمیز کلمات و حرکات کے نتائج موت کے سوا کچھ نہیں۔افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اکثر ممالک میں ان کے پیروکاروں کے بارے
توہین کرنے والوں کے لئے سزائے موت رکھی گئی ہے مگر ہمارے پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے عالمی قانون خاموش ہے ۔مسلم اُمہ کو چاہئے کہ عالمی قوانین میں گستاخ رسول ﷺ کو سزائے موت کا قانون رکھے جانے کی باقاعدہ تحریک کرنی چاہئے تاکہ آئند ہ کوئی بھی ایسی شیطان صفت حرکت سے باز رہے۔امید کی جاتی ہے کہ عالم اسلام میں پائے جانی والی کشیدگی کو ختم کرنے کے لئے امریکہ انصاف پر مبنی اقدام اٹھائے گا۔اگر اس نے طاقت کے زور سے مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کی ناکام کوشش کی تو پھر حرمت رسولﷺ پر کوئی بھی مر مٹنے کے سواء کسی اور آپشن کو قبول نہیں کرئے گا۔حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر امریکی سفیر کو طلب کر کے حالات کی سنگینی سے آگاہ کرئے اور مذکورہ اسلام دشمن فلم کو یوٹوب سے ہٹانے کے علاوہ مرتکب افراد کو کڑی سزا دئے جانے کا فیصلہ کرئے۔یقینی طور پر حکومت پاکستان کے اس دلیرانہ موقف کی نا صرف پاکستانی عوام بلکہ پورے عالم اسلام میں پذیرائی ہو گی اور امریکہ کے خلاف پائے جانے والے شکوک و شبہات بھی ماند پڑ سکتے ہیں۔احتجاجی مظاہرین سے اپیل ہے کہ وہ مظاہروں کے دوران اشتعال آمیز نعروں کے بجائے درود شریف کا ورد ذیادہ سے ذیادہ کریں مظاہرین کو لیڈ کرنے والے بھی خدا خوفی کرتے ہوئے ایسے تقاریر سے گریز کریں جس سے امن عامہ کے خطرات پیدا ہونے کا خدشہ ہو۔یہ ملک ہم سب کا ہے اس کی حفاظت ہمارا اوالین فرض ہے۔قومی املاک کی حفاظت کی جائے ۔سیکورٹی فورسز سے تعاون کر کے مظاہروں کو کامیاب کیا جائے۔حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے کارکنوں کو ہر اول دستہ کے طور مظاہرین کے ساتھ رکھے۔یوم عشق مصطفےٰ ﷺ کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم مثالی کردار کا مظاہرہ کریں۔اس جذباتی ماحول سے ملک دشمن فائدہ اٹھانے کی ناکام کوشش کر سکتے ہیں ۔جس کا مقابلہ کرنے کے لئے مذہبی اور سیاسی قوتوں کو قومی مفاد کا خیال کرنا ہوگا۔مار دھاڑ ،گھیراؤ جلاؤ اور قانون شکن حرکات کی سختی سے رکاوٹ ضروری ہے۔امید کی جاتی ہے کہ امریکہ کی اسلام دشمنی کے خلاف بھر پور انداز سے مظاہرے کر کے یہ ثابت کیا جائے گا کہ ہم حرمت رسول ﷺ پر کسی مصلحت کا شکار نہیں ہونگے اور گستاخ رسول ﷺ کی سزائے موت تک چین سے نہیں رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں  آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ؛ بھارت پہلے اور جنوبی افریقا تیسرے نمبر پر پہنچ گیا

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker